العدالة الحقيقية تكمن في القضاء على كيان يهود المحتل
العدالة الحقيقية تكمن في القضاء على كيان يهود المحتل

الخبر:   رفضت المحكمة الجنائية الدولية الاعتراض على "قرار عدم الحكم على (إسرائيل)" الذي اتخذه مكتب الادعاء بشأن سفينة مافي مرمرة حيث قُتل 9 أشخاص أتراك. وكانت المدعية العامة للمحكمة الجنائية الدولية فاتو بنسودا قد رفضت ملف التحقيق في كانون الأول/ديسمبر 2019 للمرة الثالثة، على أساس أنه "لم يكن هناك أي سبب لإجراء تحقيق". وأعلن قضاة المحكمة الجنائية الدولية أنهم رفضوا طلب جزر القمر حيث تم تسجيل سفينة مافي مرمرة وتم رفع القضية إلى لاهاي، لإعادة تقييم قرار بنسودا.

0:00 0:00
Speed:
September 23, 2020

العدالة الحقيقية تكمن في القضاء على كيان يهود المحتل

العدالة الحقيقية تكمن في القضاء على كيان يهود المحتل

(مترجم)

الخبر:

رفضت المحكمة الجنائية الدولية الاعتراض على "قرار عدم الحكم على (إسرائيل)" الذي اتخذه مكتب الادعاء بشأن سفينة مافي مرمرة حيث قُتل 9 أشخاص أتراك. وكانت المدعية العامة للمحكمة الجنائية الدولية فاتو بنسودا قد رفضت ملف التحقيق في كانون الأول/ديسمبر 2019 للمرة الثالثة، على أساس أنه "لم يكن هناك أي سبب لإجراء تحقيق". وأعلن قضاة المحكمة الجنائية الدولية أنهم رفضوا طلب جزر القمر حيث تم تسجيل سفينة مافي مرمرة وتم رفع القضية إلى لاهاي، لإعادة تقييم قرار بنسودا.

التعليق:

كما تذكرون ولن ننسى أبداً، فقد استشهد عشرة مسلمين وجرح 50 في هجوم شنه كيان يهود على سفينة مافي مرمرة، التي جلبت المساعدات الإنسانية إلى غزة، نسأل الله الرحمة والمغفرة لإخواننا الذين فقدوا حياتهم في الهجوم، وأن يسكنهم الجنة.

أما بالنسبة لقرار المحكمة الجنائية الدولية؛ فهو ليس قراراً مفاجئاً على الإطلاق، وما يثير الحيرة حقا بعد كل تلك التجربة هو الاستمرار في توقع العدالة من المؤسسات التي أنشأها ويديرها الكفار المستعمرون، الذين هدفهم الوحيد هو رعاية مصالحهم الخاصة.

وفي الوقت نفسه، كانت القضية قد أُغلقت بالفعل في عام 2016. وقد تم التوصل إلى اتفاق بين تركيا وكيان يهود، في مقابل تعويض قدره 20 مليون دولار، حيث تم التخلي عن جميع الطلبات. وعلاوة على ذلك، تقرر بعد هذا الاتفاق أن تغطي تركيا الخسارة التي تحدث نتيجة لأي إجراءات قانونية تتعلق بكيان يهود.

ولذلك، فإن الدعاوى القضائية ضد المحكمة الجنائية الدولية والاعتراضات المقدمة، كانت بالفعل بلا معنى من الناحية القانونية. لكن ربما يمكن اعتبار هذه المحاولات معقولة كدين ضمير للمسلمين الذين ضحوا بحياتهم وسفكت دماؤهم في مافي مرمرة. ولكن إذا كانت مثل هذه المحاولات تطغى على الجاني الحقيقي، فهذا أمر غير مقبول بطبيعة الحال.

من هو المذنب الحقيقي؟ أهو كيان يهود؟

إن تجريم كيان يهود والإشارة إليه، ليس أكثر من سهولة كلاسيكية، فاعتبار هذا الكيان جانياً فقط ليس عادلا بل هو محتل، لص، إنه مُتَرّد، قاتل أطفال، دولة إرهابية... كل هذه الصفات صحيحة! ولكن ماذا عن الحكام والدول والجيوش الذين يمنحونه الفرصة لارتكاب هذه الجرائم؟ وماذا عن الجماهير والأحزاب وقادة الرأي والمتعصبين الذين يأتون بأعذار لتبرئة قادتهم؟ ألا يلامون على الإطلاق؟ أم أنهم هم المذنبون الحقيقيون فعلا؟

تخيلوا أن الدول التي شعوبها مسلمون متحدة تحت سقف دولة واحدة، تخيلوا أن جيشهم جيش واحد، وأن ثرواتهم وجميع وسائلهم، مدخلاتهم الزراعية، اقتصادهم، وقوة عملهم هي واحدة... وأيضا، تخيلوا أن هذه الدولة يحكمها قائد، خليفة مثل عبد الحميد، سليمان القانوني، المعتصم بالله، هارون الرشيد، عمر بن عبد العزيز...

من يجرؤ على الوقوف ضد هذه الدولة؟ من يستطيع أن يكون له عين على حفنة تراب في هذه الحالة؟ من يستطيع التعدي على فرد من رعايا هذه الدولة؟ هل سيبقى المسجد الأقصى المبارك تحت احتلال يهود؟ كيف يمكن أن يتمكن يهود المحتلون، الذين يخافون حتى من ظلهم، من البقاء في الأراضي الفلسطينية؟ هل يمكن لأمريكا، وبريطانيا، وفرنسا، وروسيا والصين أن تعامل المسلمين بغطرسة وقسوة كما تفعل اليوم؟ هل ستكون هناك مشكلة كما هو الحال الآن في تركستان الشرقية؟ هل سيتم تسليم كشمير إلى الهندوس الوثنيين؟ هل تقسم البلاد الإسلامية إلى شمال وجنوب وشرق وغرب؟ والأهم من ذلك، من الذي يمكن أن يسيء لأغلى ما لدينا، رسول الله ﷺ تحت اسم حرية الرأي؟ ألن يتذوق أولئك الذين يجرؤون على هذه الإهانة، قبضة من حديد جيوش الإسلام؟

نعم، سنضرب بيد من حديد ونسحق ونحرق كل من لهم عين على البلاد الإسلامية، ومن يتعدى على حياة المسلمين وثرواتهم وشرفهم، ومن يتطاول على رسول الله ﷺ.

الآن، افتحوا أعينكم وكونوا بهذا اليوم، انهضوا لتحقيق أحلامكم! أزيحوا خيوط العنكبوت بعيداً عنكم! لا تثقوا في هؤلاء الحكام بعد الآن، الذين يبيعونكم ويخذلونكم في كل فرصة! إنهم عالقون بالفعل في دوامة الخيانة، أمثال الموتى، بل أنتم الذين ستفعلون ذلك! أنتم بيدكم ستحققون أحلامكم! ستنقذون فلسطين، والمسجد الأقصى! أنتم الذين ستقيمون الخلافة الراشدة على منهاج النبي عليه أفضل الصلاة والتسليم.

لا تنسوا! تذكروا وتذكروا!

الأمة المسلمة هي خير أمة أخرجت للناس، غريزتها الفطرية قوية بما يكفي لاستعادة كل ما فقدته. لأنها أمة محمد ﷺ، التي لا تستسلم، لا تكل ولا تمل، لا تنهار، لا تفقد الأمل وقد انتصرت في الدعوة التي بدأتها.

لا تنسوا! تذكروا وتذكروا!

وعد الله حق! إن أحاديث رسول الله ﷺ كلها صحيحة! الله ورسوله قولهم حق.

إن الله يصف المؤمنين، المطيعين، أصحاب الالتزام الصادق، المخلصين، وسيعطيهم القوة والتمكين على الأرض، وبالتالي ستعود الخلافة على منهاج النبوة مرة ثانية.

ثم إن أحلامكم هي في الواقع الحقيقة نفسها، ونحن أقرب ما نكون لتحقيقها.

فكل ما عليكم فعله هو الإمساك بيد حزب التحرير المبسوطة لكم، وأن تتحدوا حول الحقيقة الوحيدة، والعمل بإخلاص معهم.

نسأل الله أن نكون من شهود القضاء على كيان يهود المحتل من فلسطين المباركة. اللهم آمين، آمين.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سليمان أوغرلو

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست