الادّخار في الأماكن العامة؟ فقط من أجل المظهر!
الادّخار في الأماكن العامة؟ فقط من أجل المظهر!

  انعقد المؤتمر الصحفي الذي تمتّ فيه مشاركة "حزمة الادخار والكفاءة في القطاع العام" في المجمع الرئاسي بمشاركة نائب الرئيس جودت يلماز ووزير الخزانة والمالية محمد شيمشيك. وصرّح الوزير شيمشيك أنّ أهم أولوياتهم هي إزالة مشكلة تكلفة المعيشة. وأشار شيمشيك إلى أنّ إجراءات الإنفاق تنطلق من 3 محاور رئيسية، هي "التوفير في القطاع العام، والانضباط في نفقات الموازنة، وكفاءة الاستثمارات العامة"، وقال: "عندما ننظر إلى الادخار العام، فإننا نركّز على 8 مجالات ذات أولوية. وهذه المجالات هي المركبات والمباني والوظائف العامة والكفاءة في الهيكلة الإدارية ونفقات الانتداب المؤقت في الخارج والطاقة وإدارة النفايات ونفقات الاتصالات وغيرها من النفقات الجارية". (وكالات)

0:00 0:00
Speed:
May 20, 2024

الادّخار في الأماكن العامة؟ فقط من أجل المظهر!

الادّخار في الأماكن العامة؟ فقط من أجل المظهر!

(مترجم)

الخبر:

انعقد المؤتمر الصحفي الذي تمتّ فيه مشاركة "حزمة الادخار والكفاءة في القطاع العام" في المجمع الرئاسي بمشاركة نائب الرئيس جودت يلماز ووزير الخزانة والمالية محمد شيمشيك. وصرّح الوزير شيمشيك أنّ أهم أولوياتهم هي إزالة مشكلة تكلفة المعيشة. وأشار شيمشيك إلى أنّ إجراءات الإنفاق تنطلق من 3 محاور رئيسية، هي "التوفير في القطاع العام، والانضباط في نفقات الموازنة، وكفاءة الاستثمارات العامة"، وقال: "عندما ننظر إلى الادخار العام، فإننا نركّز على 8 مجالات ذات أولوية. وهذه المجالات هي المركبات والمباني والوظائف العامة والكفاءة في الهيكلة الإدارية ونفقات الانتداب المؤقت في الخارج والطاقة وإدارة النفايات ونفقات الاتصالات وغيرها من النفقات الجارية". (وكالات)

التعليق:

هل يستطيع أولئك الذين يقولون إن السمعة لا توفر المال أن يدخروا أموالهم في واقع الأمر؟ تبلغ المبالغ الربوية التي تدفعها الحكومة الحالية وحدها خلال 20 عاما 563 مليار دولار، في حين يبلغ المبلغ الذي ستدفعه أموال الربا من موازنة 2024 نحو 38 مليار دولار. ومرةً أخرى، تتوقع الحكومة، التي تفرض أعباء ربوية بمليارات الدولارات على الميزانية من خلال نظام الودائع المحمية لسعر الصرف، تتوقع توفير ثلاثة مليارات دولار سنوياً من خلال حزمة حساء البسكويت، وحتى هذه الأرقام وحدها كافية لكشف عدم صدقها. لعدة أيام، كان أولئك الذين خلقوا التصور العام بأن اختراقاً ما سوف يحدث في الاقتصاد، يعملون من أجل المظهر من خلال خداع عامة الناس. من يعرف حقيقة الأمر، ومن يفهم لغة الأرقام، سيرى أنّ التوفير المخطّط لن يكون له أي تأثير على عجز الموازنة.

فلماذا يتمّ تنفيذ هذا التصوّر في البلد؟ حيث الأزمة الاقتصادية مستمرة منذ سنوات، وقد أرهقت الناس، واستنفدت كل محاولاتهم، لكن المسؤولين لم يتنازلوا ولو عن جرام واحد من كمالياتهم وبهرجتهم! وإدراكاً منهم أنّ هذا الوضع قد تحول إلى ثورة صامتة بين الناس، أراد المسؤولون خلق تصور بأنهم قطعوا الفاتورة المزعومة لأنفسهم أولاً تحت اسم إنقاذ الجمهور. بالطبع، من المهم حقاً أن يتمّ حفظ كل قرش يخصّ الناس واستخدامه بشكل مناسب. لكن من يرى الملكية العامة ملكه الخاص وينفقها لسنوات هل يوفر المال، بينما مصاريف القصر اليومية لا تزال تُقدر بأكثر من مليون دولار! أولئك الذين يشطبون مليارات الدولارات من الديون الضريبية للشركات العملاقة التي تستغل موارد البلاد، أولئك الذين يضعون الموارد العامة ومرافق الدولة تحت تصرفهم، أولئك الذين يحولون عشرات المليارات من الدولارات إلى أباطرة الربا، أولئك الذين يخلقون حولهم فرصاً لا يمكن تصورها بقوانين المشتريات العامة، يستغلون كل شيء وراء الكواليس، بينما يدفعون القروش التي تمّ توفيرها للأمة. أولئك الذين يمتصون دماء الشعب بنظام الظلم المفروض منذ قرن من الزمان لا يمكنهم أن يفكروا في أي خير للشعب. أولئك الذين يعتبرون الموارد العامة بمثابة مزرعة والدهم لا يمكنهم الادخار. لا يمكنهم توفير المال بعد أن تعاملوا مع جميع المؤسسات بالرشوة والمحسوبية وما إلى ذلك. إذا كان الحكام يفكرون حقاً في الحقّ والشعب، فإنهم يجب أن يرفضوا أولاً هذا النظام الرأسمالي العلماني، الذي هو أصل الظلم وأن يستبدلوا به النظام الإسلامي الذي يرضي الله ويطبقوا أوامر الله، عندها يحقون الحقّ ويرضون الناس. دعونا نعطي مثالاً من التاريخ يلقي الضّوء إلى الحاضر. فبعد فتح فارس، تمّ أخذ كنوز كسرى والأشياء الثمينة كغنائم من قبل الخلافة، فقال عمر رضي الله عنه للأمراء الذين أحضروها إليه: "إن قوماً بعثوا هذا لأمناء"، فقال له عليّ قولته المشهورة: "يا أمير المؤمنين، عففتَ فعفّت الرعية، ولو رتعت لرتعوا".

يعيش حكام اليوم في البذخ والترف، لذا يحاول نوابهم وحكّامهم، من رؤساء البلديات إلى من هم في أدنى مستوى، أن يعيشوا مثلهم. إن هذا النظام يوشك على الانهيار، وحكامه الذين عفا عليهم الزمن، يستحقون أن يكونوا في هاوية سحيقة، لا أن يكونوا رؤساء يديرون شؤون الأمة. ندعو الله أن يجعل ذلك قريباً.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أحمد سابا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست