الأحداث في غزة تظهر بوضوح كيف أنّ الإسلام متفوق أخلاقياً وفكرياً على الثقافة الغربية الخادعة التي تسمى زوراً التنوير
الأحداث في غزة تظهر بوضوح كيف أنّ الإسلام متفوق أخلاقياً وفكرياً على الثقافة الغربية الخادعة التي تسمى زوراً التنوير

نشرت المؤسسة الإعلامية الدمية المسماة سي إن إن مقالاً دعائياً صهيونياً في 12 حزيران/يونيو 2024 بعنوان: "المحتجز (الإسرائيلي) واجه "عقوبات" خلال ثمانية أشهر في أسر حماس، كما تقول عائلته". وقد تمّت صياغة المقال من قبل خمسة أشخاص ويتحدّث عما قالته عائلة أحد المحتجزين، أندريه كوزلوف، 27 عاما، بعد أن قتل جيش كيان يهود 274 شخصاً من أجل إطلاق سراحه وثلاثة محتجزين آخرين في 9 حزيران/يونيو.

0:00 0:00
Speed:
June 21, 2024

الأحداث في غزة تظهر بوضوح كيف أنّ الإسلام متفوق أخلاقياً وفكرياً على الثقافة الغربية الخادعة التي تسمى زوراً التنوير

الأحداث في غزة تظهر بوضوح كيف أنّ الإسلام متفوق أخلاقياً وفكرياً على الثقافة الغربية الخادعة التي تسمى زوراً التنوير

(مترجم)

الخبر:

نشرت المؤسسة الإعلامية الدمية المسماة سي إن إن مقالاً دعائياً صهيونياً في 12 حزيران/يونيو 2024 بعنوان: "المحتجز (الإسرائيلي) واجه "عقوبات" خلال ثمانية أشهر في أسر حماس، كما تقول عائلته". وقد تمّت صياغة المقال من قبل خمسة أشخاص ويتحدّث عما قالته عائلة أحد المحتجزين، أندريه كوزلوف، 27 عاما، بعد أن قتل جيش كيان يهود 274 شخصاً من أجل إطلاق سراحه وثلاثة محتجزين آخرين في 9 حزيران/يونيو.

التعليق:

قبل مناقشة الروايات الثانية والثالثة عن تجربة أندريه في الأسر في غزة، فلنتأمل المعاملة المؤكدة التي يتلقاها الأسرى الفلسطينيون. فقد قُتل ما لا يقل عن أربعين فلسطينياً في سجون كيان يهود منذ السابع من تشرين الأول/أكتوبر 2023 وفقاً للتقارير (الإسرائيلية)، التي تناولت أيضاً الاستخدام المكثف للتعذيب ضدّ السجناء. أما أولئك الذين خرجوا فقد بدت عليهم علامات واضحة جدا من سوء المعاملة والتجويع والتعذيب. فالأجساد الهزيلة بعد أسابيع طويلة من حصص الطعام المحدودة، والأيدي والأقدام المبتورة بسبب التقييد الطويل بأربطة بلاستيكية محكمة للغاية، والأمراض الجلدية، وكسور العظام، كلها سمات مشتركة بين العائدين الفلسطينيين مما أطلق عليه الساسة الغربيون الكاذبون "الديمقراطية الوحيدة في الشرق الأوسط"! أضف إلى هذا، قضاء أيام متتالية معصوبي العينين وغير قادرين على الوصول إلى المراحيض، وتجريدهم من ملابسهم، وفي ظلّ هذه الظروف يتعرضون للهجوم بالكلاب والصراخ المستمر والركل من قبل الحراس.

وبالمقارنة، فإن الادعاءات بأن الأسرى الذين تم انتشالهم من غزة كانوا خائفين أو كانوا يعيشون في ظروف غير مريحة تبدو تافهة بعض الشيء؛ حيث إن ما يعانيه الفلسطينيون في غزة من نقص حاد في الغذاء والدواء لا يمكن أن يعزى إلى الظروف الرهيبة التي عاناها الأسرى والخاطفون على حدّ سواء. بل إن سوء المعاملة من قبل كيان يهود محسوب بعناية. وفي حين إنّ المستشفيات الفلسطينية المتبقية حيث يعالج المرضى على الأرض في ظروف غير معقمة وبأدوية محدودة بسبب استهداف المعتدين للرعاية الصحية هي مكان لبعض الأمل بالنسبة للنساء والأطفال الذين يسعون للحصول على المساعدة من الحروق الرهيبة وجروح الشظايا، فإنّ المستشفى الصهيوني الذي تمّ نقل الأسرى الفلسطينيين إليه كان الجحيم الأسوأ. فقد قال أحد الأطباء العاملين في مستشفى ميداني: "لقد جردوا الأسرى الفلسطينيين من أي شيء يشبه البشر". ولقد اعترف أحد الموظفين الآخرين بقوله "طُلب مني أن أتعلم كيف أتعامل مع المرضى، وأن أقوم بإجراءات طبية بسيطة خارج نطاق خبرتي تماماً"، وكثيراً ما كان ذلك من دون تخدير، و"إذا اشتكوا من الألم، كانوا يعطونهم الباراسيتامول. لقد كان مجرد الوجود هناك بمثابة التواطؤ في الإساءة".

حتى إن المقال الذي نشرته شبكة سي إن إن، لم يذكر المعاملة الوحشية التي يتلقاها السجناء الفلسطينيون، والتي توجد أدلة مادية دامغة عليها وروايات شهود عيان من الضحايا والمبلّغين عن المخالفات الذين عملوا في مرافق الاحتجاز. وبدلاً من ذلك، اختارت شبكة سي إن إن فقط تضخيم الروايات غير المباشرة لأولئك الذين عادوا مبتسمين وبصحة جيدة من غزة في عملية عسكرية خلّفت وراءها مئات الشهداء من المدنيين وملأت المستشفيات بالجرحى.

ومن الجدير بالذكر أنّ هناك ضغوطاً هائلة على المحتجزين السابقين لسرد قصص عن سوء المعاملة، حيث عومل أولئك الذين قالوا أي شيء إيجابي عن ظروف أسرهم باعتبارهم خونة من قبل وسائل إعلام كيان يهود والمجتمع المدني. فقد طُردت مذيعة أخبار من القناة 12 بعد أن علّقت على صحّة ومظهر نووا أرغاماني، إحدى الأسيرات المفرج عنهن من غزة: "هكذا تبدو فتاة أسيرة منذ تسعة أشهر؟ انظروا إلى حواجبها، تبدو أفضل من حواجبي! بشرتها! أظافرها! ما هذا؟ هذا هو السبب الذي من أجله تقتل النساء والأطفال الأبرياء في غزة؟".

نعم بالفعل، تُقتل النساء والأطفال الأبرياء في غزة ويُختطف آخرون من غزة ليُعذبوا ويُقتلوا في المعتقلات وكل هذا بدعم كامل من الولايات المتحدة وبريطانيا وألمانيا ودعم جزئي من العديد من الدول الغربية الأخرى.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. عبد الله روبين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست