الاجتماع التشاوري لدول آسيا الوسطى – الحاضر والمستقبل
الاجتماع التشاوري لدول آسيا الوسطى – الحاضر والمستقبل

الخبر:   شارك شوكت ميرزياييف رئيس جمهورية أوزبيكستان في الاجتماع التشاوري السادس لرؤساء دول آسيا الوسطى في أستانة يوم 9 آب/أغسطس. كما شارك في الحفل الذي ترأسه رئيس جمهورية كازاخستان قاسم جومارت توكاييف، رئيس جمهورية قرغيزستان صدر جباروف، ورئيس جمهورية طاجيكستان إمام علي رحمون، ورئيس تركمانستان سردار بيردي محمدوف، وفي المؤتمر أيضا شارك رئيس جمهورية أذربيجان إلهام عليييف ورئيس مركز الأمم المتحدة الإقليمي للدبلوماسية الوقائية لآسيا الوسطى كاخا إيمنادزه كضيوف شرف. (موقع الرئاسة، 9/8/2024)

0:00 0:00
Speed:
August 12, 2024

الاجتماع التشاوري لدول آسيا الوسطى – الحاضر والمستقبل

الاجتماع التشاوري لدول آسيا الوسطى – الحاضر والمستقبل

الخبر:

شارك شوكت ميرزياييف رئيس جمهورية أوزبيكستان في الاجتماع التشاوري السادس لرؤساء دول آسيا الوسطى في أستانة يوم 9 آب/أغسطس. كما شارك في الحفل الذي ترأسه رئيس جمهورية كازاخستان قاسم جومارت توكاييف، رئيس جمهورية قرغيزستان صدر جباروف، ورئيس جمهورية طاجيكستان إمام علي رحمون، ورئيس تركمانستان سردار بيردي محمدوف، وفي المؤتمر أيضا شارك رئيس جمهورية أذربيجان إلهام عليييف ورئيس مركز الأمم المتحدة الإقليمي للدبلوماسية الوقائية لآسيا الوسطى كاخا إيمنادزه كضيوف شرف. (موقع الرئاسة، 9/8/2024)

التعليق:

يمكن القول إن هذا الاجتماع التشاوري عُقد بشكل آخر بالنسبة لبعض الأشياء عن الاجتماعات السابقة. ففي الاجتماعات السابقة كانت كل دولة تعرب عن مخاوفها ومشاكلها، وتظل عملية الوحدة والتكامل في الخلفية. وأما هذه المرة، فقد أثيرت مسألة الوحدة والتكامل كموضوع رئيسي. فعلى سبيل المثال، قدم شوكت ميرزياييف مقترحات لتطوير التعاون في مجالات التجارة والصناعة والخدمات اللوجستية والبيئة والطاقة. وقال رئيس كازاخستان قاسم جومارت توكاييف إن "مستقبل منطقتنا... يعتمد على البحث المشترك عن إجابات مناسبة لجميع التحديات الداخلية والخارجية... كما أن دول آسيا الوسطى ستعزز الآن التعاون في مجال الدفاع". وقال رئيس طاجيكستان إمام علي رحمون إنه "في ظل الظروف الحالية للتغيرات السريعة في العالم، هناك حاجة إلى تشكيل موقف مشترك بشأن مستقبل آسيا الوسطى". وإذا نظرنا إلى الأمر من الوضع الدولي اليوم والناحية الجيوسياسية، نجد أن هذه التصريحات أكثر انسجاما مع مشاريع الغرب الاستراتيجية ورغباته، وخاصة أمريكا. لأن أمريكا تدرك جيداً أنه سيكون من الصعب على دول المنطقة أن تقلل اعتمادها على روسيا بمفردها. ولذلك تعمل على توحيد هذه الدول الخمس وتحويلها إلى قوة واحدة قادرة على مقاومة الضغوط الروسية والتهديدات المختلفة الأخرى بحيث تصبح مواقف دول آسيا الوسطى موحدة، ويتعزز التعاون الاقتصادي والاجتماعي المتبادل، ويصبح الاعتماد على روسيا في حده الأدنى. ومع ذلك، لا ينبغي أن ننسى أن أمريكا تريد أن يتم هذا التقارب والتكامل بطريقة تخدم مصالحها فقط. وإذا نظرنا إلى توحيد دول وشعوب المنطقة من وجهة نظر الشرع فهو بالتأكيد أمر جيد ومحمود، إذا خلا من القومية أو الوطنية. ولذلك فإن الوحدة يجب أن تكون على أساس إسلامي بحت، وليس على النحو الذي تريده القوى الاستعمارية مثل أمريكا. ولكن، بغض النظر عما يحدث، فإن الإسلام يعزز ويدعم أي وحدة وتقارب بين شعوب المسلمين لأن الله سبحانه وتعالى يقول: ﴿إِنَّ هَذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ﴾.

وهنا لا بد من التأكيد أن توحيد دول المنطقة على المشاريع الأمريكية لن يؤدي إلى حل كامل لمشاكل مسلمي آسيا الوسطى، بل إنها ستبقى متخلفة وضعيفة كما كانت من قبل، لأن الحدود الزائفة الحالية سوف تستمر في الفصل بينهم. ويمكن فهم ذلك من حقيقة أن المسؤولين الأمريكيين، خلال زياراتهم للمنطقة، يؤكدون دائماً دعمهم لسيادة الدول الوطنية واستقلالها، ولا ينسون أبداً مناقشة قضايا تعزيز الحدود. لذا فإن أمريكا لا تحتاج إلى آسيا الوسطى القوية بالمعنى الحقيقي للكلمة، بل على العكس من ذلك هفي تريد أن تكون هناك دول ضعيفة ومتخلفة تقف إلى جانبها ضد روسيا ولا تخدم إلا مصالحها.

وأما الحديث عن تعزيز العلاقات في الاجتماع التشاوري، فهو على الأرجح لا يزال صعب التنفيذ. فلكي تتم ترجمة هذه المقترحات إلى واقع ملموس، لا بد من عاملين مهمين للغاية: أولاً، ينبغي أن يستمر انشغال روسيا بالحرب الأوكرانية، وثانياً، لا بد من جرأة وإرادة سياسية قوية لدى رؤساء المنطقة! علاوة على ذلك، فإن بعض الأعمال الأصغر حجماً قد انتهت تقريباً، ومن بينها تقديم المساعدات الإنسانية المتبادلة، وتمديد فترة إقامة رعايا الدول المجاورة في البلاد... ومع ذلك، لا يمكن أن تسمى هذا إنجازات عظيمة، حيث إن هذه الأمور هي في الواقع أشياء صغيرة للغاية بالنسبة لآسيا الوسطى، التي تتمتع بفرص هائلة. على سبيل المثال، فإن إدخال نظام واحد للتجارة الحرة في المنطقة ستكون له آثار ضخمة وفوائد عظيمة. ولكن في الواقع حجم التجارة الإقليمية اليوم وإجمالي مبيعات السلع لا يزال صغيرا إلى حد ما. بالإضافة إلى ذلك، حتى في الوضع الحالي، هناك إمكانية لتقليص الحدود إلى أن تكون شبه معدومة. وإذا حدث ذلك فتخيلوا حجم الفرج وما هي النتائج الإيجابية التي ستحدث للمسلمين في المنطقة. نعم إلى الآن باب مثل هذه الفرص العظيمة لا يزال مغلقا من قبل الدول المعادية والمستعمرة مثل روسيا.

هناك حاجة إلى مبدأ قوي وصحيح لتوحيد أوزبيكستان والبلاد الإسلامية المجاورة لها. وهذا بالطبع مبدأ الإسلام والعقيدة الإسلامية القائمة على الحق والعدل! ولا يخفى على أحد أن الإسلام، وهو نعمة عظيمة من الله، جعل الكثير من الشعوب الغريبة بعضها عن بعض إخوة. ولا شك أيضاً أن الإسلام نفسه قادر على إزالة هذه الحدود والحواجز الزائفة بين أبناء الأمة الإسلامية. ولذلك، إذا كان رؤساء حكومات المنطقة صادقين في ادعاءاتهم بالوحدة، فعليهم أن يكفوا عن اللجوء إلى الدول المستعمرة في البحث عن الحلول، وأن يتوجهوا إلى الإسلام ويقوموا بتطبيقه في كل شؤونهم. عندها فقط سيخرجون من مستنقع التبعية والضعف والتخلف، وتتحقق الكرامة والعظمة والقوة، فيفوزون بحب أهل بلادهم ويتلقون دعاءهم. والأهم من كل ذلك أنهم ينالون رضا الله تعالى: ﴿وَتَعَاوَنُواْ عَلَى الْبرِّ وَالتَّقْوَى وَلاَ تَعَاوَنُواْ عَلَى الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُواْ اللهَ إِنَّ اللهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إسلام أبو خليل – أوزبيكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست