العجز التجاري يتصدر القمة الصينية - الإفريقية بالعاصمة بكين (مترجم)
العجز التجاري يتصدر القمة الصينية - الإفريقية بالعاصمة بكين (مترجم)

الخبر:   يجتمع القادة الأفارقة في قمة بكّين التي تستمر يومين وتركّز على العلاقات الاقتصادية مع الصين وسط انتقادات متزايدة للنهج المثقل بالديون تجاه المساعدات في دول العالم النامي. ويستضيف الرئيس شي جين بينغ قادة أكثر من 50 دولة من الدول الإفريقية لمنتدى التعاون الصيني-الإفريقي الذي يبدأ يوم الاثنين. وعادةً ما يشهد المؤتمر الذي يعقد مرة كل ثلاث سنوات أن توزع الصين حزم قروض كبيرة على القارة، وأعلن شي جين بينغ العام الماضي في جوهانسبرغ، جنوب إفريقيا، عن تقديم مساعدات وقروض لإفريقيا بقيمة 60 مليار دولار في 2015. وتظهر البيانات الاقتصادية الصينية أن التجارة بين بكين ودول القارة ارتفعت بنسبه 14% في العام الماضي إلى 170 مليار دولار أمريكي. (الجزيرة.كوم، 2018/9/3).

0:00 0:00
Speed:
September 05, 2018

العجز التجاري يتصدر القمة الصينية - الإفريقية بالعاصمة بكين (مترجم)

العجز التجاري يتصدر القمة الصينية - الإفريقية بالعاصمة بكين

(مترجم)

الخبر:

يجتمع القادة الأفارقة في قمة بكّين التي تستمر يومين وتركّز على العلاقات الاقتصادية مع الصين وسط انتقادات متزايدة للنهج المثقل بالديون تجاه المساعدات في دول العالم النامي.

ويستضيف الرئيس شي جين بينغ قادة أكثر من 50 دولة من الدول الإفريقية لمنتدى التعاون الصيني-الإفريقي الذي يبدأ يوم الاثنين.

وعادةً ما يشهد المؤتمر الذي يعقد مرة كل ثلاث سنوات أن توزع الصين حزم قروض كبيرة على القارة، وأعلن شي جين بينغ العام الماضي في جوهانسبرغ، جنوب إفريقيا، عن تقديم مساعدات وقروض لإفريقيا بقيمة 60 مليار دولار في 2015.

وتظهر البيانات الاقتصادية الصينية أن التجارة بين بكين ودول القارة ارتفعت بنسبه 14% في العام الماضي إلى 170 مليار دولار أمريكي. (الجزيرة.كوم، 2018/9/3).

التعليق:

هل تحل إفريقيا محل شكل آخر من أشكال الاستعمار؛ "سيد" استعماري آخر؟ لا يوجد أي بلد يريد أن ينتهي به المطاف في فخ الديون مثل سريلانكا. تسارع الصين بالطبع للإشارة، بأنها ليست الأولى ولا الدولة الاقتصادية الاستعمارية الرئيسية الوحيدة. لماذا لا تكون ثروة موارد إفريقيا محركًا للتحول الاقتصادي لإفريقيا؟ كيف يمكن لثروة إفريقيا أن تأخذ بلدانها وشعوبها إلى شفا العبودية الاقتصادية في الصين؟

تمتد الخطط الاستراتيجية للصين لأكثر من مائة عام. فالصين مبنية على أيديولوجية، ونظرة عالمية نابعة من تلك الأيديولوجية، وبذلك كانت قادرة على تحويل ثروة الدول الأخرى، لبناء بلدها.

ويبدو أن دولنا عاجزة عن وضع رؤية استراتيجية وحتى عاجزة عن تنفيذها، لأننا نفتقر إلى ذلك العنصر الأساسي - وهو الأساس الأيديولوجي. كما أننا نعاني من قاده عملاء غير مخلصين وعاجزين ومستبدين، يفتقدون إلى الرؤية ويدينون بالولاء لأسيادهم. والقلة، التي تطبق الديمقراطية، تعاني من علة الديمقراطية المزمنة قصيرة الأجل، والتي تعرقل التقدم الاستراتيجي على المدى الطويل. ناهيك عن التعطيل من التلاعب اللانهائي والعبث للسيطرة من قبل الأسياد الاستعماريين "التقليديين"، ويبدو أن الضحية الأخيرة هي ماليزيا.

الأنظمة الغربية والمثل العليا تنهار في اللهب في جميع أنحاء بلاد الغرب. ابتداءً من الأزمة الاقتصادية العالمية التي تسببت في الكثير من البؤس، إلى العملة الدولية التي يمكن أن "تسلّح" للتسبب في أزمات العملة في البلدان ذات السيادة، إلى النظام الحاكم الذي اختار أفضل الدول التي تدافع عن العنصرية والكراهية ليس فقط في أمريكا، ولكن أيضًا في البلدان الأوروبية. فالمثل العليا الإنسانية الليبرالية تفشل وتُرفض بصورة متزايدة - في بولندا وهنغاريا وفرنسا والدنمارك والنمسا وألمانيا والسويد وسويسرا - قائمة الديمقراطيات الليبرالية "المستنيرة في العالم الأول" التي يجري فيها الاستعاضة عن التسامح والاحترام بالتعصب والكراهية، وتستمر في النمو والتطور.

هناك طريقة واحدة فقط للدولة كي تحمي شعبها وأراضيها وتمنع الاستغلال من قبل المستعمرين الجشعين. فالنظام الإسلامي يعامل البشر بكرامة، ويمكّن الفرد والمجتمع، ويحمي الضعفاء ويصونهم، ويوحد البشرية بغض النظر عن اللون أو اللغة أو العقيدة. إنه طريقة لكل البشر، ليس بناءً على المبادئ المستخرجة من المملكة الحيوانية. يقول الله سبحانه وتعالى: ﴿يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلْ مَا أَنفَقْتُم مِّنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ﴾.

إنه النظام الاقتصادي، الذي لا يخضع لنزوات المصرفيين الأغنياء الساعين للقتل السريع، مستغلين الحاجة الأساسية للمأوى، وبالتالي كان المسبب في العدوى الاقتصادية العالمية. يقول الله تعالى: ﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِّنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ﴾.

الإسلام يضمن الاحتياجات الأساسية للجميع، ويسهل ويتيح الفرص للجميع للوصول إلى حياة مريحة وكريمة. ويوزع الثروة سواء أكانت فوق الأرض أم تحتها، ويعمل من أجل مصلحة ورفاهية الشعب والأفراد والمجتمع على حد سواء. كل ثروة في الأرض، تعتبر ملكاً للشعب، وليس للشركات الخاصة، أو الشركات متعددة الجنسيات، أو التكتلات الاستعمارية ولا حتى الحكومات الأجنبية. أوجب الإسلام تداول عملتي (الذهب والفضة) لتكون للجميع وغير مكنوزة من قبل فئة قليلة. يقول سبحانه: ﴿كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنكُمْ﴾. ولديه نظام حكم لا يسمح بأمثلة سيئة للبشرية التي تحمل الجهل والغطرسة والعنصرية والكراهية لقيادة مجتمعها.

لقد جلب الإسلام الحضارة الأكثر استنارة التي عرفها العالم على الإطلاق. ولقد حان الوقت لمفكري العالم المخلصين والعقلانيين والموضوعيين أن يتجاوزوا التضليل والدعاية، وأن يفهموا ويعوا الإسلام بأعين واضحة. وقد حان الوقت للمسلمين لحمل الإسلام مرةً أخرى، من أجل إصلاح الأمة وإنقاذ العالم من العلمانية الليبرالية الفاشلة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

حمزة محمد

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست