الاختلاسات مسلسل لا تنتهي حلقاته
الاختلاسات مسلسل لا تنتهي حلقاته

الخبر:   أورد موقع نبض السودان خبراً أن وزير البنى التحتية المكلف بولاية جنوب دارفور، عادل جابر كشف عن فساد واعتداء على المال العام بوزارته بلغ نحو 77 مليار جنيه بالقديم. وكشف الوزير، في اللقاء التنويري الذي عقده بمكتبه بحضور كل مديري الإدارات بالوزارة وممثل المراجع العام بالولاية والمراجع الداخلي ومستشار الوزير لشؤون التنمية والمستشار القانوني للوزارة، كشف أن التهم موجهة إلى المدير المالي السابق ورئيس الخزنة ومفتش أول صراف وصراف واحد. ...

0:00 0:00
Speed:
March 06, 2023

الاختلاسات مسلسل لا تنتهي حلقاته

الاختلاسات مسلسل لا تنتهي حلقاته

الخبر:

أورد موقع نبض السودان خبراً أن وزير البنى التحتية المكلف بولاية جنوب دارفور، عادل جابر كشف عن فساد واعتداء على المال العام بوزارته بلغ نحو 77 مليار جنيه بالقديم. وكشف الوزير، في اللقاء التنويري الذي عقده بمكتبه بحضور كل مديري الإدارات بالوزارة وممثل المراجع العام بالولاية والمراجع الداخلي ومستشار الوزير لشؤون التنمية والمستشار القانوني للوزارة، كشف أن التهم موجهة إلى المدير المالي السابق ورئيس الخزنة ومفتش أول صراف وصراف واحد.

وأكد جابر أنه تم القبض على كل المتهمين في البلاغ بعد فتح بلاغ بقسم نيالا وسط بالرقم 203/89/177 المال العام، مبينا أن قيمة المبلغ المعتدى عليه 68,216,715 جنيه وأن هناك مبلغ آخر تم اختلاسه تبلغ قيمته أكثر من 8 مليون جنيه وأن جملة الاعتداء بلغت قيمتها 77 مليار جنيه (بالقديم).

التعليق:

هكذا أصبح أمر المال في هذا البلد عجيباً، ففي كل عام نسمع بهذه الاختلاسات وبشكل دوري فأصبحت وكأنها خامس فصول السنة الأربعة! إن هذه الاختلاسات إنما يمارسها أفراد فقدوا تقوى الله، وهم يمارسون هذه الجريمة النكراء إرضاء لطموحاتهم ورغباتهم في هذه الدنيا الفانية ولم يتقيدوا بالحلال والحرام ولم ينطلقوا من عقيدة لا إله إلا الله محمد رسول الله، والفهم السائد عند الناس أن السعادة إنما تكون بجمع المال الكثير متأثرين بالنظام الرأسمالي الذي يقوم على المصلحة والمنفعة. "وَلَسْتُ أَرَى السَّعَادَةَ جَمْعَ مَالٍ *** وَلَكِنَّ التَّقِيَّ هُوَ السَّعِيدُ".

فالسعادة الحقيقة تكون باتباع منهج الإسلام، وهي رضوان الله سبحانه وتعالى، والسبب الثاني هو عدم وجود رأي عام ضد هذه الجريمة وعدم إدراك الناس أن هذه الأموال التي تُختلس إنما هي أموالهم، بل يظنونها مال الدولة؛ لأن الحكام أصبحوا بعيدين عن الأمة ولا يؤدون واجبهم من الإنفاق عليها ورعاية شؤونها، وبعدت الشقة بينهم. وأيضا من الأسباب عدم وجود الرادع الذي يردع المختلس حتى يمنعه عن جريمته، وقد قيل: "من أمن العقاب أساء الأدب"، وكما قال سيدنا عثمان رضي الله عنه: "إن الله ليزغ بالسلطان ما لا يزغ بالقرآن"، وسكوت الدولة على مثل هذه الجرائم وعلى أمثال هؤلاء المختلسين زادهم قوة، والدليل هو تكرار هذه الجريمة كل عام.

إن المحافظة على أموال الأمة ورعاية شئونها هي من أوجب واجبات الدولة، فها هو الخليفة الراشد عمر بن الخطاب رضي الله عنه كان يحصي أموال الولاة والعمال قبل أن يوليهم وبعد توليتهم، فإن وجد عندهم مالاً زائدا أو حصلت عنده شبهة في ذلك صادر أموالهم أو قاسمهم عليها، ويضع ما يأخذه منهم في بيت المال.

وأيضا مما أدى لوجود هذه الجريمة عدم وجود القدوة الحسنة، فإذا كان رب البيت للدف ضاربا فشيمة أهل البيت كلهم الرقص! فانظر كيف تكون القدوة الحسنة، فقد جاء في الأخبار في عهد سيدنا عمر بن الخطاب رضي الله عنه أنه أُتي له بمال من العراق وكان مالاً كثيرا جدا فيه الذهب والياقوت والزبرجد واللؤلؤ، فعندما رأى سيدنا عمر تلك الجواهر أخذ يقلّبها بعصا له وقال: "إن الذي أدى هذا المال لأمين" فقال رجل: "أنا أُخبرك، أنت أمين الله وهم يؤدون إليك ما أديت فإذا رتعت رتعوا". وقال سيدنا عمير بن سعيد: "لا يزال الإسلام منيعا ما اشتد السلطان، وليست شدة السلطان قتلا بالسيف أو ضربا بالسوط ولكن قضاء بالحق وأخذ بالعدل".

وأيضا ما دار بين سيدنا عمر بن الخطاب وأبي هريرة رضي الله عنهما عندما كان واليا على البحرين وكان قد ادخر مالاً من مصادره الحلال، وعلم عمر فدعاه إلى المدينة فقال له عمر: "يا عدو الله وعدو كتابه أسرقت مال الله؟!" فقال أبو هريرة: "ما أنا بعدو الله ولا كتابه ولكن عدو من عاداهما ولا أنا من يسرق مال الله"، فقال عمر: "من أين اجتمعت لك 10 آلاف؟" قال: "خيل لي تناسلت وعطايا تلاحقت". قال عمر: "فادفعها إلى بيت مال المسلمين"، ودفع أبو هريرة المال إلى عمر ثم رفع يديه إلى السماء وقال: "اللهم اغفر لأمير المؤمنين".

هكذا كان خلفاء المسلمين حريصين كل الحرص على أموال أمة الحبيب ﷺ لأنهم سخروا أنفسهم خدمة لهذه الأمة؛ يرعون شئونها بعقيدة الإسلام، ولن ينصلح حال هذه الأمة إلا إذا كانت الدولة جادة في محاربة هذه الظاهرة، وهذا لا يحدث إلا من دولة دستورها منبثق من العقيدة الإسلامية؛ دولة الخلافة التي تحارب الفساد بجميع أنواعه وأشكاله.

اللهم هيئ لهذه الأمة خليفة ربانيا يقود الأمة بهدى كتابك وسنة رسولك ﷺ.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد الخالق عبدون علي

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية السودان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست