الـ"البيربو" وتخبط الديمقراطية المتكرر (مترجم)
الـ"البيربو" وتخبط الديمقراطية المتكرر (مترجم)

الخبر:   وقع رئيس إندونيسيا جوكو "جوكووي" ويدودو لائحة حكومية بدلاً من القانون، أو البيربو، وذلك يوم الاثنين العاشر من تموز/يوليو من شأنها أن توسع من نفوذ وزارة العدل وحقوق الإنسان لحل الجماعات التي تتبنى الأيديولوجيات المتناقضة مع القيم المكرسة في أيديولوجية الدولة، بانكاسيلا. ويوسع البيربو، برقم 2/2017، قدرة الحكومة على تفكيك المنظمات الجماهيرية التي تعتبر تهديدًا للأمن القومي والوحدة الوطنية، والتي سبق إجمالها في القانون رقم 17/2013 المتعلق بالمنظمات الجماهيرية. وقال وزير الأمن في مؤتمر صحفي يوم الأربعاء بأن "القانون الحالي ليس كافيًا لمنع انتشار الأيديولوجيات المتطرفة التي تتعارض مع بانكاسيلا ودستور عام 1945". وفي أيار/مايو، أعلنت الحكومة عن خطط لحل حزب التحرير في إندونيسيا، وهو منظمة إسلامية تسعى إلى إقامة الخلافة على الأراضي الإندونيسية، على أسس إقامة نشاطات معادية للبانكاسيلا.

0:00 0:00
Speed:
July 20, 2017

الـ"البيربو" وتخبط الديمقراطية المتكرر (مترجم)

الـ"البيربو" وتخبط الديمقراطية المتكرر

(مترجم)

الخبر:

وقع رئيس إندونيسيا جوكو "جوكووي" ويدودو لائحة حكومية بدلاً من القانون، أو البيربو، وذلك يوم الاثنين العاشر من تموز/يوليو من شأنها أن توسع من نفوذ وزارة العدل وحقوق الإنسان لحل الجماعات التي تتبنى الأيديولوجيات المتناقضة مع القيم المكرسة في أيديولوجية الدولة، بانكاسيلا. ويوسع البيربو، برقم 2/2017، قدرة الحكومة على تفكيك المنظمات الجماهيرية التي تعتبر تهديدًا للأمن القومي والوحدة الوطنية، والتي سبق إجمالها في القانون رقم 17/2013 المتعلق بالمنظمات الجماهيرية. وقال وزير الأمن في مؤتمر صحفي يوم الأربعاء بأن "القانون الحالي ليس كافيًا لمنع انتشار الأيديولوجيات المتطرفة التي تتعارض مع بانكاسيلا ودستور عام 1945". وفي أيار/مايو، أعلنت الحكومة عن خطط لحل حزب التحرير في إندونيسيا، وهو منظمة إسلامية تسعى إلى إقامة الخلافة على الأراضي الإندونيسية، على أسس إقامة نشاطات معادية للبانكاسيلا.

التعليق:

أمر مثير للسخرية! إندونيسيا التي دأبت الدول الغربية على اعتبارها أكبر بلد إسلامي ديمقراطي، ها هي اليوم تمارس انتهاكًا صارخًا لقيمها الديمقراطية وحقوق الإنسان التي تتبناها. فبعد الجدل حول معاداة البانكاسيلا والتي تعرض لها قادة المجتمع الذين يرفضون الإسلام لمعارضته للبانكاسيلا، ها هو نظام جوكوي يخطئ مجددًا ويعيد الخطأ مرةً أخرى بمحاولته إسكات حزب التحرير ويناقض بذلك مبادئ دستوره الخاص الذي يفترض به أن يضمن حرية إنشاء التنظيمات والتجمعات الجماهيرية.

إن السماح بإظهار بيربو هو أحدث رد فعل قوي فوري من قبل العديد من خبراء القانون الدستوري كالبروفيسور يوسريل إيهزا ماهيندرا ورفلي هارون. قالا بأن بيربو مناهض للديمقراطية وللدستور ولحقوق الإنسان كما أن فيه انتهاكاً لحرية إنشاء التنظيمات والتجمعات بما في ذلك مبدأ أن الأصل في الأمور البراءة. وقد تعالت أصوات منظمات حقوق الإنسان كمنظمة كونتراس وإلسام. وقال منسق كونتراس السيد ياتي أندرياتي في بيان مكتوب الخميس 2017/07/13 بأن: "هذا البيربو أظهر السلوك المتقلب للنظام في عرضه لديناميّات حرية إنشاء التنظيمات والتجمعات، بما في ذلك مناقضة حرية الرأي وفكرة الأممية والدولة في إندونيسيا".

إن رائحة الطغاة المستبدين تظهر بوضوح في المادة 82A من بيربو والتي تنص على أن "أي شخص يصبح عضوا و/ أو مسؤولا عن منظمة جماهيرية تعتمد بصورة مباشرة أو غير مباشرة على أيديولوجية تتعارض مع بانكاسيلا وتنتهك أحكام المادة 59 الفقرة 4 قد يتعرض للسجن المؤبد أو لمدة لا تقل عن خمس سنوات أقصاها قد يصل لـ20 سنة".

إن التناقض والظلم والتمييز ضد تطلعات المسلمين والأمة في تطبيق الشريعة أصبح بالفعل صفة متأصلة في الأنظمة الديمقراطية. ولا عجب فهذه الظاهرة عالمية. وبخاصة بعد ما أسمته هنتينغتون بموجة الديمقراطية الثالثة والتي أنتجت 120 دولة أو ما نسبته 63% من دول العالم التي تحولت لتصبح نظاما ديمقراطيا إلا أنه بعد ذلك وجد الفريدم هاوس بأن عام 2013 هو العام الثامن على التوالي الذي تتراجع فيه مؤشرات الحرية العالمية في العالم. ومن المفارقات بأن النظام العالمي "الديمقراطي" والذي يقدسه المجتمع الدولي ينشر البؤس والظلم. ومن الواضح بأن الديمقراطية هي طاغوت جديد جميل الوجه إلا أنه في الحقيقة يهوي بالبشرية بشكل مطرد متسارع نحو هاوية التجرد من الإنسانية ومزيد من الاضطهاد.

وعلى الصعيد المحلي في إندونيسيا، لا يمكن لهذا القناع الجميل للديمقراطية أن يخفي الفقر الذي حبس فيه الناس. ومن الأمثلة الحديثة على ذلك تعريفات الكهرباء التي تزداد ارتفاعا وخنقا للناس، كما أن الدين الحكومي آخذ بالارتفاع بسبب تطوير البنية التحتية الضخمة. فمن الطبيعي أنه وبسبب تعديل دستور عام 1945 أربع مرات فترة "الإصلاح الديمقراطي في إندونيسيا" 1998- 2002 فقد غير الدستور بشكل جذري ليتخذ منحى معينا يخدم الرأسماليين الأجانب. لماذا؟ لأن تعديل عام 1945 الذي نشير إلى التعديلات فيه أطلق العنان لمفهوم سيطرة الدولة على الموارد الطبيعية. كما أن حيازة الأراضي والثروة الناتجة عن الموارد الطبيعية الموجودة فيها تسلم إلى القطاع الخاص "المستثمرين الأجانب" من خلال منحهم تراخيض وامتيازات وغيرها من أشكال الحيازة على المدى الطويل. ونتيجة لذلك، فإن أكثر من 80% من النفط والغاز في إندونيسيا يتم التحكم بها من قبل الشركات الأجنبية، هذا فضلا عن الموارد الطبيعية الأخرى في إندونيسيا.

ويمكننا أن نستنتج بأن النظام الديمقراطي هو في الحقيقة "ذئب في جلد حمل" لأنه جزء من التكنولوجية الغربية الاستعمارية لبلاد المسلمين. والأهم من ذلك، فإن النظام الديمقراطي قد أصبح طاغية جديدًا للمسلمين، فهو يجبرهم على طاعة قوانين العلمانية الوضعية التي سنتها النخبة لصالح الشركات الأجنبية فحسب. ومن الواضح بأن النظام الديمقراطي قد فشل بل مات، بل تم الانقلاب عليه من قبل النظام نفسه. والآن، إذا ما قام جمع من الأمة الذين يريدون التغيير ويقدمون حلاً ساميًا بخلافة عظيمة - كما يفعل حزب التحرير في هذا البلد الإسلامي الأكبر عالميا، فإن الأصل أن يعطى هؤلاء الفرصة لا أن يُسكَتوا. إن حزب التحرير يكافح من أجل التغيير والنهضة فكريًا عبر الفكر واللاعنف، تمامًا على نهج طريقة النبي محمد rفي الدعوة من أجل التغيير. والأصل أن تواجه الأفكار بالأفكار، لا بالإسكات، ألا توافقونني في ذلك؟

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فيكا قمارة

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست