العلماء الطاجيك في خدمة نظام رحمون (مترجم)
العلماء الطاجيك في خدمة نظام رحمون (مترجم)

الخبر:   تحدث المؤرخ الطاجيكي المؤيد للحكومة إبراهيم عثمانوف، في مقابلة مع مراسل آسيا بلس، عن المبدأ السياسي الذي يجب على سكان طاجيكستان الالتزام به وعلى أساسه يمكن تحقيق الوحدة السياسية. فقال: "من الواجب تشكيل الفكرة الوطنية على أساس التفكير القومي. وينبغي أن تعبر عن تاريخ آمال وتطلعات الأسلاف المجيدة والفاضلة، ومواطني اليوم في البلاد ومستقبل الجيل الجديد. وقعت أحداث السنوات الأولى للاستقلال على أساس هذه الفكرة. لقد استحوذت فكرة الاستناد إلى الدين على فكرة الطاجيكية الوطنية. ادعت هذه المجموعات أن كل الأفكار يجب أن تأتي من الإسلام، ولكن عندما أصبح الوعي الوطني مماثلا للوعي الديني، توقفنا في تطورنا.... إن الأهداف المطلقة للمجتمع الإسلامي وتكريم الأمة الطاجيكية أمران مختلفان متباينان. كان السبب الرئيسي للحرب الأهلية في البلاد هو استخدام هذا الشعار، شعار - الأمة الإسلامية. وبدلاً من مصطلح "الأمة الطاجيكية"، ظهر مصطلح "أتباع الإسلام". إن التقاليد الدينية والوطنية تختلف عن بعضها البعض. لذلك، لا يمكن أن يكون هناك اتحاد بينهما. فالهدف النهائي للإسلام يقول بأن كل شيء يجب أن يكون على أساس القرآن، وفكرتنا الوطنية تقول بأن كل شيء يجب أن يطبق بشكل عادل".

0:00 0:00
Speed:
April 16, 2019

العلماء الطاجيك في خدمة نظام رحمون (مترجم)

العلماء الطاجيك في خدمة نظام رحمون

(مترجم)

الخبر:

تحدث المؤرخ الطاجيكي المؤيد للحكومة إبراهيم عثمانوف، في مقابلة مع مراسل آسيا بلس، عن المبدأ السياسي الذي يجب على سكان طاجيكستان الالتزام به وعلى أساسه يمكن تحقيق الوحدة السياسية. فقال: "من الواجب تشكيل الفكرة الوطنية على أساس التفكير القومي. وينبغي أن تعبر عن تاريخ آمال وتطلعات الأسلاف المجيدة والفاضلة، ومواطني اليوم في البلاد ومستقبل الجيل الجديد. وقعت أحداث السنوات الأولى للاستقلال على أساس هذه الفكرة. لقد استحوذت فكرة الاستناد إلى الدين على فكرة الطاجيكية الوطنية. ادعت هذه المجموعات أن كل الأفكار يجب أن تأتي من الإسلام، ولكن عندما أصبح الوعي الوطني مماثلا للوعي الديني، توقفنا في تطورنا.... إن الأهداف المطلقة للمجتمع الإسلامي وتكريم الأمة الطاجيكية أمران مختلفان متباينان. كان السبب الرئيسي للحرب الأهلية في البلاد هو استخدام هذا الشعار، شعار - الأمة الإسلامية. وبدلاً من مصطلح "الأمة الطاجيكية"، ظهر مصطلح "أتباع الإسلام". إن التقاليد الدينية والوطنية تختلف عن بعضها البعض. لذلك، لا يمكن أن يكون هناك اتحاد بينهما. فالهدف النهائي للإسلام يقول بأن كل شيء يجب أن يكون على أساس القرآن، وفكرتنا الوطنية تقول بأن كل شيء يجب أن يطبق بشكل عادل".

التعليق:

منذ ما يقرب من 30 عاماً بعد سقوط النظام الشيوعي، والذي كان يحكم أيضاً شعوب آسيا الوسطى، تحاول الأنظمة الاستبدادية الاستيلاء على السلطة في بلدان المنطقة بتقديم أية فكرة، أو أيديولوجية إلى عقول الناس يمكن أن تجعلهم يتحدون حولها كبديل عن فكرة الإسلام. كانت هذه هي خطة الديكتاتوريين الذين كانوا يأملون في أداء مهمتهم الأساسية - السيطرة على الوضع، ومنع النهضة الإسلامية في البلاد.

منذ بداية حكمه، طرح رحمون فكرة القومية كأيديولوجية دولة وعلى مدار 25 عاماً حاول إدخالها في عقول الناس (ولكن دون جدوى بحمد الله). لهذا، فهو لا يستخدم التدابير القمعية فحسب، بل يستخدم أيضاً التدابير الدعائية - على سبيل المثال، يستهوي الحقائق والشخصيات التاريخية، وخاصة في فترة ما قبل الإسلام. ومع ذلك، نظراً لحقيقة أن شعب طاجيكستان هو شعب مسلم، فقد بدأوا على الفور في العودة إلى الدين مباشرة بعد التحرر من الاحتلال السوفيتي، والذي تجلى في جميع مجالات الحياة اليومية لهذا الشعب. وهكذا، فقد كان هناك جدار من سوء الفهم وعدم الثقة ينمو اليوم بين الناس، والنخبة الحاكمة المنصّبة من الخارج، والتي تتألف بالكامل من الشخصيات العلمانية في وقت ظهرت فيه المشاعر الإسلامية الصادقة عندهم.

أما بالنسبة لغوغائية علماء الحكومة عديمي القيم، على سبيل المثال، كلمات عثمانوف السابقة، التي قال فيها بأن الإسلام، كان سببا في توقف التقدم في البلاد، فلا يحتاج المرء أن يكون مؤرخاً لفهم عبثية وخداع هذه الكلمات.

ألم يصبح شعبنا، مع ظهور الإسلام، جزءاً من الأمة الإسلامية العظيمة، التي حققت العظمة في جميع مجالات الحياة البشرية، بما في ذلك العلوم الأساسية، والتي تستخدمها الدول الغربية حتى يومنا هذا؟ أليس الخوارزمي والبيروني دليلاً واضحاً على قوة الدفع للتنمية التي أعطاها الإسلام لكل أمة تمارسها؟ ألم يرفع الإسلام شعوبنا ويرتقي بها إلى صفات أخلاقية عالية معروفة للعالم أجمع؟ ألسنا نعاني من التخلي عن الإسلام والتشرذم الذي أوقعنا في براثن الاحتلال المهين والذي ما زلنا نعاني منه حتى يومنا هذا؟

أي أفكار وطنية علمانية تلك التي زرعها رحمون والتي نراها على مستوى الدولة؟

-      يعيش الناس في فقر أو يختفون لسنوات في هجرة اليد العاملة، ويخدمون الروس ويقومون بأدنى مستوى من عمل لهم؛

-      تُباع المعادن والأراضي والبيئة للصين.

-      ليس لطاجيكستان أية سيادة في الأساس، لأن المجال الأمني بأكمله يعتمد على روسيا الاستعمارية، التي يوجد مستشاروها العسكريون في كل نقطة تفتيش حدودية وتقع قاعدتها العسكرية بالقرب من العاصمة؛ ما يعتبر أمرا سخيفا لدولة مستقلة.

-      يتغلغل الفساد في جميع مجالات المجتمع، تقتسم عشيرة رحمون الكبيرة أجهزة الدولة بأكملها وقطاع الأعمال في البلاد، وتسرق السكان وتفرض عليه ضرائب جديدة باستمرار.

وهذا "المؤرخ" عثمانوف يسمي كل هذا تطورا؟! فليعد إلى الكلمات المشهورة للخليفة الراشد الثاني عمر بن الخطاب رضي الله عنه عندما قال ذات مرة: "إنا كنا أذل قوم فأعزنا الله بالإسلام فمهما نطلب العزة بغير ما أعزنا الله به أذلنا الله".

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد منصور

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست