العلمنة الشاملة والفاحشة الكاملة!
العلمنة الشاملة والفاحشة الكاملة!

الخبر:   شهد ميدان تكوين المرشدين الدينيين والأئمة في المغرب تطورا كبيرا منذ الشروع في إعادة تأهيل الحقل الديني عام 2003، إذ لم يعد تكوينهم يقتصر فقط على العلوم الشرعية، بل امتد إلى العلوم الإنسانية، واللغات، وحتى علم الجنس. وزير الأوقاف والشؤون الإسلامية، أحمد التوفيق، كشف أن الوزارة أدمجت العلوم الإنسانية في منظومة تكوين الأئمة والمرشدين الدينيين، مبرزا أن هؤلاء يدرسون أيضا علوما مستجدة، كانت إلى عهد قريب بعيدة عن مناهج تدريس الفقهاء، مثل علم الجنس "Sexologie". ...

0:00 0:00
Speed:
February 18, 2023

العلمنة الشاملة والفاحشة الكاملة!

العلمنة الشاملة والفاحشة الكاملة!

الخبر:

شهد ميدان تكوين المرشدين الدينيين والأئمة في المغرب تطورا كبيرا منذ الشروع في إعادة تأهيل الحقل الديني عام 2003، إذ لم يعد تكوينهم يقتصر فقط على العلوم الشرعية، بل امتد إلى العلوم الإنسانية، واللغات، وحتى علم الجنس.

وزير الأوقاف والشؤون الإسلامية، أحمد التوفيق، كشف أن الوزارة أدمجت العلوم الإنسانية في منظومة تكوين الأئمة والمرشدين الدينيين، مبرزا أن هؤلاء يدرسون أيضا علوما مستجدة، كانت إلى عهد قريب بعيدة عن مناهج تدريس الفقهاء، مثل علم الجنس "Sexologie".

وقال التوفيق في تفاعله مع أسئلة طلبة الجامعة الدولية بالرباط، عقب محاضرة ألقاها في رحاب الجامعة في موضوع الدين والعلوم الإنسانية، مساء الثلاثاء، إن المنهاج الدراسي المعتمد في معاهد تكوين الأئمة والمرشدين الدينيين يتضمن كتابا في علم الجنس، من إعداد طبيبة متخصصة في هذا المجال، "ويتضمن ما يجب أن يعرفه الأئمة حول هذه المادة، التي هي مسألة شرعية من ضروريات الدين".

وأشار وزير الأوقاف والشؤون الإسلامية إلى أن ثمة أشياء كثيرة تحتاج إلى تغيير في ما يتعلق بتكوين الأئمة والمرشدين الدينيين، وهو ما عملت عليه الوزارة منذ أربعة عشر عاما، من خلال تأطير الأئمة، البالغ عددهم 50 ألفا، عبر تكوين دوري يتمّ في السبت الأول والثالث من كل شهر، مضيفا: "لقد قمنا بما ينبغي القيام به". (هيسبريس للأخبار)

التعليق:

تالله ما كان حكام الضرار فينا إلا حقيق قول الجليل سبحانه: ﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّهِ كُفْراً وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ﴾، يناقضوننا دنيانا وآخرتنا، إسلامنا العظيم ولغتنا وتاريخنا، يبغونها عوجا ويبغون أبناء هذه الأمة المنيعة بإسلامها العظيم ضُلَّالا فجارا مَرتعا للغرب الكافر المستعمر ومطايا لتحقيق مآربه الخبيثة.

بالأمس كانت علمانيتهم مُتَلَفِّعَة بوشاح صفيق من كهنوت، تبغي الناس رهبانا وكهنة وسدنة لأصنامها. أما اليوم فعلمانيتهم كافرة فاجرة سافرة متفحشة تبغي الناس كفارا فجارا وفقهاءهم قراء مرائين منافقين. وها هم مرشدو اليوم صيروهم مخربي الدين وألد خصم للإسلام في صفائه ونقائه وأشد الأعداء لحملة دعوته، وفوق هذا المنافحين عن الصنم الرويبضة والمستميتين في الذود عن زيغه وضلاله وجوره وظلمه!

فالعلمنة الشاملة وإشاعة الفاحشة والتفحش هو عنوان المرحلة، ومحطة لإشاعة الرذيلة والفحش والتفحش العلماني باسم الانفتاح والاعتدال والوسطية وتجديد وإصلاح الخطاب الديني، كأدوات لتسريع وتكثيف العلمنة وصد الناس عن صراط الإسلام المستقيم، وحملهم وقسرهم على علمانية الغرب الكافرة الفاجرة.

بالأمس القريب رأينا التطبيق العملي لهذا المسخ والتشوه المعرفي لمرشدي الفتنة ومن فوق منبر رسول الله ﷺ، وفي خطبة الجمعة 11 آذار/مارس 2022 كانت الدعوة لمواثيق سيداو الكافرة، وكان خزي وفري وضلال الخطبة (المساواة بين الجنسين)، وقولهم فيها "قد جعلت أوضاع المرأة تتردى في أوساط بعض المسلمين، الأمر الذي جعلهم يتلقون دروس المَبَرَّة بالمرأة والإحسان إليها من غيرهم، هذا الغير الذي صارت مواثيقه هي المرجع في حفظ حقوق أقر الإسلام جوهرها منذ أربعة عشر قرنا"، والغير هنا هو الغرب الكافر، ومواثيقه هي سيداو الملعونة، والتي تبناها نظام الضرار جملة وتفصيلا ووقع على البروتوكول المتعلق بحقوق الشواذ التابع لها، وسنها قانونا ونظاما اجتماعيا وجعلها مدونة للأسرة فكانت بحق مدونة للطلاق وتفكيك الأسرة وإشاعة الفواحش (طلبات الطلاق اقتربت نهاية 2022 من 300 ألف طلب). أما اليوم فقد هوى بهم حكام الضرار إلى درك ضلال وفساد وإفساد للدين فاتبعوا ما تتلو الشياطين رأسا، وها هي فاحشة الغرب وطرائق انحلاله وشذوذه الجنسي وفوضاه الجنسية وما ترتب عنها من جرائم اغتصاب وأبناء الزنا والإجهاض والعنف والعلاقات الشاذة، وأنتج لها الغرب العلماني فلسفة ودراسة كناها زورا وكذبا علم الجنس "sexologie"، وها هم معلمنو الدار رويبضات العار خدمة الاستعمار في كد وجهد علمنتهم الشاملة للمجتمع وإشاعة الفواحش والرذائل ما ظهر منها وما بطن خدمة للكافر المستعمر، صيروها لسفهاء وأغبياء المرشدين علماً، وأنكى منها علما شرعيا، وضُمَّت "sexologie" لمناهج تشويههم معرفيا ومسخهم فكريا وطمرهم في الرذيلة سلوكيا.

أواه يا مرشدي السوء ومنافقي القراء، يا من اعتليتم منبر رسول الله ﷺ وكنتم وبالا على أمته، أما فطنتهم لتحريف دينكم وحرفكم عن صراط الإسلام المستقيم وحرف الأمة بكم؟! ﴿فَإِنَّهَا لا تَعْمَى الأَبْصَارُ وَلَكِن تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ﴾.

آن لكم الآن معشر المسلمين تقدير التبعات المدمرة لضياع إسلامكم وحصن خلافتكم وقد جاوز هذا الضياع الأسود 102 من السنين وهي لعمركم الماحقة، فكيف وقد تولى أمركم شراركم الساعون في خراب دنياكم وآخرتكم، آن لكم أن تقذفوا بحق إسلامكم العظيم وخلافته الراشدة بباطل الغرب وكفر ومقت حضارته وقبيح صنيع دويلات الضرار فيسحق كل هذا الضلال. ﴿لِيُحِقَّ الْحَقَّ وَيُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

مناجي محمد

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست