الالتفاف بخرقة الديمقراطية المهترئة لن يطيل أمد أنظمة الحكم الجبري
الالتفاف بخرقة الديمقراطية المهترئة لن يطيل أمد أنظمة الحكم الجبري

وصف محمد بن راشد آل مكتوم، نائب رئيس دولة الإمارات العربية المتحدة، مشهد الانتخابات بالعرس الوطني، مؤكداً أن "الديمقراطية في بلادنا راسخة ومتجذرة في مجتمعنا منذ عهد الأجداد والآباء الذين ورثناها عنهم بكل فخر وإيمان بموروثنا الاجتماعي والثقافي والديني دون تفريط بهذا التراث العربي الإسلامي العريق".

0:00 0:00
Speed:
October 06, 2015

الالتفاف بخرقة الديمقراطية المهترئة لن يطيل أمد أنظمة الحكم الجبري

خبر وتعليق

الالتفاف بخرقة الديمقراطية المهترئة لن يطيل أمد أنظمة الحكم الجبري


الخبر:


وصف محمد بن راشد آل مكتوم، نائب رئيس دولة الإمارات العربية المتحدة، مشهد الانتخابات بالعرس الوطني، مؤكداً أن "الديمقراطية في بلادنا راسخة ومتجذرة في مجتمعنا منذ عهد الأجداد والآباء الذين ورثناها عنهم بكل فخر وإيمان بموروثنا الاجتماعي والثقافي والديني دون تفريط بهذا التراث العربي الإسلامي العريق". (المصدر: جريدة الاتحاد)

التعليق:


على الرغم من التجارب الحديثة في بلدان ما بعد الثورات، والتي أثبتت أن الديمقراطية العفنة لم تجلب لنا إلا الذل والهوان أمام أعدائنا، ورغم أنها فشلت حتى في أكبر الدول الديمقراطية وبان عوارها وعجزها في تأمين الحقوق والعدل والأمان لشعوبها، يأتي حاكم دبي يتبجح بالديمقراطية الزائفة، زاعما أن الديمقراطية أصيلة في بلادنا، متعمدا خلطها بالإسلام ومدعيا عدم التفريط بالتراث الإسلامي، وهو الذي حول البلاد إلى موطن الملاهي الليلية والفحش والابتذال.


إنه بحسب تعريف موقع آي آي بي ديجيتال لمكتب برامج الإعلام الخارجي التابع لوزارة الخارجية الأمريكية، فإن كلمة الديمقراطية مشتقة من الكلمة اليونانية Demos ديموس التي تعني الشعب، وفي النظم الديمقراطية فإن الشعب هو الذي يملك السلطة السيادية على المجلس التشريعي والحكومة. أي أن الأساس الذي يقوم عليه النظام الديمقراطي هو أن التشريع للبشر وليس لله رب العالمين، والله سبحانه يقول: ﴿إنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ﴾؛ لذا فليس هناك علاقة للديمقراطية بالإسلام، لا من قريب، ولا من بعيد. ولم يعرف المسلمون النظام الديمقراطي قبل قدوم الاستعمار، حيث فرضه الكفار بقوة الحديد والنار على بعض بلادنا الإسلامية عندما اضطروا للخروج منها لضمان تطبيق أحكام الكفر والسياسات الاستعمارية الغربية. أما في معظم البلاد العربية فقد نصّبوا على الأمة حكاما مستبدين عملاء لهم، ملوكاً، وشيوخاَ، وأمراء طغاة وظيفتهم تأمين مصالح الغرب في البلاد وتسهيل نهبهم للثروات.


حتى إذا ثارت الشعوب فيما يسمى بالربيع العربي؛ للخلاص من ظلم الأنظمة البوليسية الدكتاتورية وهيمنة الكفر وأحكامه وأنظمته الوضعية الفاسدة، وسيطرة الدول الغربية الكافرة على بلادهم، حينها أدرك الكافر المستعمر أن الأمة أخذت على عاتقها إسقاط هذه الكيانات التي أوجدها وأصبح ذلك مطلباً جماهيرياً لدى المسلمين في شتى أقطارهم، سواء تلك التي خرجت منها الثورات وأعلنت في ميادينها ومساجدها "الأمة تريد خلافة من جديد"، أو تلك التي "لم تثر بعد"؛ فعمد إلى فرض الديمقراطية المزعومة كوسيلة لتثبيت عملاء جدد في السلطة. كما صوّر الاستعمار وعملاؤه المفكرون والسياسيون للأمة الإسلامية أن الديمقراطية حلم جميل وأمل منشود، وأنه النظام الوحيد الضامن لحقوق الشعوب والذي يمكّنها من اختيار حكامها. وزعموا كذلك زورا وبهتانا بأنها مطلب المسلمين الأحرار وأنهم ما ثاروا ولا ضحوا ولا استشهدوا إلا من أجلها، ووضعوا الديمقراطية في مقابلة الديكتاتورية وصوروا لهم بأنه لا ثالث لهما. كل ذلك لكي يترسخ في أذهان العوام أن الديمقراطية هي الحل لقضاياهم والسبيل لخلاصهم من جور الأنظمة الاستبدادية حتى يكسب الغرب بذلك الزمن ويطيل أمد بقائه واستعماره في العالم الإسلامي. وهو ما جعل الحكام الخونة المستبدين يلهثون الآن بقوة وراء الديمقراطية الزائفة النتنة، زاعمين تجذرها فيهم وفي دينهم، انقيادا لأوامر أسيادهم في الغرب ومحاولة يائسة منهم للحفاظ على عروشهم وكراسيهم خوفا من أن تسقطها شعوبهم ﴿وَاتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ آلِهَةً لِيَكُونُوا لَهُمْ عِزًّا * كَلَّا سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا﴾.


لقد حان الوقت لأن يقول المسلمون لهؤلاء الحكام الطغاة العتاة، صنائع الغرب المستعمر، الذين عطلوا أنظمة الإسلام وسياسته، وأقاموا في المسلمين أنظمة تخدم الغرب الكافر، وأخضعوا المسلمين وبلادهم وثرواتهم تحت سيطرته وسلطته، حان لهم أن يقولوها جميعا أنهم ينبذون ديمقراطيتهم البائدة المنحطة وأنهم عازمون على إحداث تغيير جذري حقيقي وإنهاء الحكم الجبري بكافة أشكاله الديكتاتورية والديمقراطية، فكلا النظامين نتاج بشري أساسهما رفض دين الله سبحانه تعالى كطريقة حياة كاملة. وأنهم سيواصلون العمل لإعادة الحكم بالإسلام وإقامة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة مصداقا لبشرى الرسول عليه الصلاة والسلام «ثمَّ تَكُونُ مُلْكًا جَبْرِيَّةً فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّة».

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
فاطمة بنت محمد

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست