الأمة هي صاحبة السلطان الحقيقية
الأمة هي صاحبة السلطان الحقيقية

الخبر:   أُغلِقت صناديق الاقتراع في إندونيسيا بعد أن أدلى عشرات الملايين من الناخبين بأصواتهم في الانتخابات الرئاسية والبرلمانية. أعلن المرشح الرئاسي جوكو ويدودو أو جوكوي (رئيس الجمهورية الحالي) عن فوزه في هذه الانتخابات الرئاسية لعام 2019 بحصوله على 54.5 في المائة من الأصوات. وقال إن ذلك كما تشير إليه نتائج الإحصاء السريع لـ12 مؤسسة. بينما أعلن مرشح المعارضة الإندونيسية الجنرال السابق برابوو سوبيانتو فوزه وفق النتائج الأولية التي أحصتها المعارضة. واتهم برابوو بعض مراكز الاستطلاع التي أصدرت نتائج أولية تؤكد فوز الرئيس الحالي للبلاد جوكو ويدودو بأنها منحازة. وعثرت الهيئة الوطنية لإنجاح برابوو على 1،261 تقريراً عن الاحتيال في انتخابات 2019، وتم الحصول على التقارير من قبل فروع الهيئة من جميع أنحاء إندونيسيا. (ديتيك نيوز، 2019/04/20م)

0:00 0:00
Speed:
April 23, 2019

الأمة هي صاحبة السلطان الحقيقية

الأمة هي صاحبة السلطان الحقيقية

الخبر:

أُغلِقت صناديق الاقتراع في إندونيسيا بعد أن أدلى عشرات الملايين من الناخبين بأصواتهم في الانتخابات الرئاسية والبرلمانية. أعلن المرشح الرئاسي جوكو ويدودو أو جوكوي (رئيس الجمهورية الحالي) عن فوزه في هذه الانتخابات الرئاسية لعام 2019 بحصوله على 54.5 في المائة من الأصوات. وقال إن ذلك كما تشير إليه نتائج الإحصاء السريع لـ12 مؤسسة. بينما أعلن مرشح المعارضة الإندونيسية الجنرال السابق برابوو سوبيانتو فوزه وفق النتائج الأولية التي أحصتها المعارضة. واتهم برابوو بعض مراكز الاستطلاع التي أصدرت نتائج أولية تؤكد فوز الرئيس الحالي للبلاد جوكو ويدودو بأنها منحازة. وعثرت الهيئة الوطنية لإنجاح برابوو على 1،261 تقريراً عن الاحتيال في انتخابات 2019، وتم الحصول على التقارير من قبل فروع الهيئة من جميع أنحاء إندونيسيا. (ديتيك نيوز، 2019/04/20م)

التعليق:

المشاهد في الساحة أن مرشح المعارضة هو الفائز في هذه الانتخابات، وأما نتائج الإحصاء السريع التي ذكرتها الشركات الموالية للرئيس فما هي إلا تمهيد لمحاولة الغش التي تهيئ هيئة الانتخابات التي انكشف للشعب انحيازها الجلي لجوكو ويدودو. فلولا وسائل التواصل التي أصبحت المحطة الأخيرة للشعب الإندونيسي لتحري العدل حينما فقدوا الثقة بأجهزة النظام لما وسع المجال للمعارضة للفوز حتى ولو حصلت على الأغلبية الهائلة من أصوات الناخبين.

نعم، إن الانتخابات الأخيرة هي أشدها غشا وخديعة من النظام وقد فعل ذلك بكل وضوح وجلاء دون أي شعور بغضاضة وحياء. وهذا ظاهر من انحياز أجهزة الدولة لجوكو ويدودو، وقضية عدد الناخبين، وإشراك المصابين بالجنون في التصويت، وصنع صنادق الاقتراع من الكرتون، وإغلاق الفرص لبعض الناس من التصويت لأسباب إدارية، وكثرة بطاقات الاقتراع المختارة قبل التصويت، والفرار بها إذهابا لصوت الناخبين وتبديلا لها، وغيرها من القضايا بان للشعب أنها لمصلحة المرشح الرئاسي من النظام الحالي.

والآن انصب اهتمام الشعب الإندونيسي على عملية فرز أصواتهم من اللجنة الانتخابية، فعلى الرغم من أن عملية الفرز الرسمية ستجري من خلال العد اليدوي طبقا لقائمة الناجح وعدد أصواته في صناديق الاقتراع ولكن بيانات اللجنة الانتخابية عن أصوات الناخبين في موقعها الرسمي تبدي كثيرا من الغرابة والأخطاء في إدخال البيانات بحيث يجري ذلك ببطء شديد وإذا حصل الخطأ في التسجيل كان لصالح النظام. لأجل هذا فقد هبت الدعوة بين الجماهير إلى استعمال القوة المادية للشعب في محاولتهم لتغيير النظام.

حقيقة إن الانتخابات تعتبر وسيلة في اختيار الرئيس وعملية فرز الأصوات هي شيء إداري بسيط لا سيما في زمن التقدم التكنولوجي الهائل وهو لا حاجة إليه أصلا، ولكن التكنولوجيا في أيدي الأشخاص السيئين تجعل الأشياء البسيطة فوضوية. فإذا كانت الأمانة عند القائمين بها فالأمر يسير. ولكن يبقى للشعب الإندونيسي المسلم أن يعوا أن قضيتهم ليست فقط هؤلاء الحكام الظلمة ولكن سجنهم بواسطة تطبيق النظام الديمقراطي الذي لا يزال يخدعهم هو قضيتهم الأساسية.

نعم، ليس من السهل على أي شخص الفوز بأغلبية الأصوات، فقد استغل هذا النظام طرقاً عدة لاكتسابها، لكنه ​​فشل فشلا ذريعا عندما واجه حركة الشعب التي ولدت من الإيمان. وهذا الغش الفظيع والخديعة البشعة من النظام تدل دلالة واضحة على أن المشروع الحالي للشعب قد تحقق بالفعل وهو الفوز بأغلبية الأصوات للمعارضة لولا خديعة النظام الديمقراطي، وأثبتت في الوقت نفسه مدى قوتهم، فهم أصحاب السلطان الحقيقيون لا سيما عندما يتم الصراع بناء على الإيمان، حيث إن أسباب دعم الشعب للمعارضة إنما أتى من جراء ممارسة النظام المسيئة للإسلام والمسلمين. وهذا الفوز متحقق في الانتخابات من العام الماضي لاختيار حاكم جاكارتا حيث إن السيد باسوكي بورناما المعروف بأهوك الحاكم الحالي عندئذ فشل في تلك الانتخابات لإساءته للإسلام.

فهذه القوة الكامنة لدى الشعب الإندونيسي المسلم بإمكانها أن توصلهم إذا بذلت إلى الهدف الأعلى من مجرد تغيير الحكام والأشخاص، ألا وهو تطبيق شريعتهم وتعاليم دينهم الذي يمثل قضيتهم المصيرية، فما لم يغيَّر النظام ظل الشعب لعبة في أيدي هؤلاء المجرمين. والطريقة إلى ذلك ليست استعمال القوة المادية كما بدأت إثارتها مهما غضب الشعب، ولكن بالطريقة نفسها التي سار عليها الرسول r حينما حاول تغيير النظام الفاسد الجاهلي وجعل نظام الإسلام الذي هو رسالته محله. فليس بالمستغرب أن تعيد الأمة الإسلامية هذا التغيير الجذري وتنجح فيه كما نجح سلفهم ما داموا يسيرون على نهجهم، وقد ضمن الله سبحانه هذا النجاح حالة كونهم أمة يأمرون بالمعروف وينهون عن المنكر ويؤمنون بالله، قال سبحانه وتعالى: ﴿كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أدي سوديانا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست