العمل السياسي الشرعي والمجدي للتغيير يقتضي تفعيل طاقات الأمة وفي مقدمتها تحريك الجيوش
العمل السياسي الشرعي والمجدي للتغيير يقتضي تفعيل طاقات الأمة وفي مقدمتها تحريك الجيوش

الخبر: ما إن أعلن الرئيس المصري السيسي عن مبادرة لتخصيص مبلغ ٥٠٠ مليون دولار لإعادة إعمار قطاع غزة نتيجة التدمير الذي قام به جيش يهود، وعن قيام الشركات المصرية المتخصصة بالاشتراك في تنفيذ إعادة الإعمار، حتى انتشر في وسائل التواصل والإعلام بشكل واسع أن هذه المبادرة مؤامرة خبيثة تستبطن شراً كبيراً، وأنها عمل استخباراتي هدفه كشف مواطن قوة غزة في مواجهة كيان يهود وإفشال اعتداءاته الوحشية، وكشف معلومات عن الأنفاق والصواريخ، وعن القوة العسكرية وقادتها وركائزها، وشراء الذمم وما إلى ذلك. وقد استندت هذه الآراء إلى ما هو معلوم عن السيسي من عداءٍ للإسلام والمسلمين، ومن ولاءٍ لكيان يهود، وإلى استغراب هذا الكرم من رئيسٍ لا يفتأ يتحدث عن فقر مصر، إضافة إلى الديون المتصاعدة عليها بنسب خيالية في حمأة حكمه وسياساته التدميرية لمصر وأهلها.

0:00 0:00
Speed:
May 28, 2021

العمل السياسي الشرعي والمجدي للتغيير يقتضي تفعيل طاقات الأمة وفي مقدمتها تحريك الجيوش

العمل السياسي الشرعي والمجدي للتغيير
يقتضي تفعيل طاقات الأمة وفي مقدمتها تحريك الجيوش


الخبر:


ما إن أعلن الرئيس المصري السيسي عن مبادرة لتخصيص مبلغ 500 مليون دولار لإعادة إعمار قطاع غزة نتيجة التدمير الذي قام به جيش يهود، وعن قيام الشركات المصرية المتخصصة بالاشتراك في تنفيذ إعادة الإعمار، حتى انتشر في وسائل التواصل والإعلام بشكل واسع أن هذه المبادرة مؤامرة خبيثة تستبطن شراً كبيراً، وأنها عمل استخباراتي هدفه كشف مواطن قوة غزة في مواجهة كيان يهود وإفشال اعتداءاته الوحشية، وكشف معلومات عن الأنفاق والصواريخ، وعن القوة العسكرية وقادتها وركائزها، وشراء الذمم وما إلى ذلك. وقد استندت هذه الآراء إلى ما هو معلوم عن السيسي من عداءٍ للإسلام والمسلمين، ومن ولاءٍ لكيان يهود، وإلى استغراب هذا الكرم من رئيسٍ لا يفتأ يتحدث عن فقر مصر، إضافة إلى الديون المتصاعدة عليها بنسب خيالية في حمأة حكمه وسياساته التدميرية لمصر وأهلها.

التعليق:


لا يتناول هذا التعليق إعلان السيسي عن تبرع مصر لغزة، ولا إعلانه عن مساهمة الشركات المصرية بالإعمار، لأن مثل هذا العطاء أو السخاء من حاكم كالسيسي؛ حاقدٍ على الإسلام، يفتك بأهله، ويُقَتِّل دعاته، ويهدم مساجده، لا يمكن أن يكون حقيقياً، فلا يكون إلا إعلامياً وظاهرياً وخداعاً، ولا يمكن أن يكون تقديم مثلِ السيسي لأيِّ جزء من هذا العطاء إلا فخّاً، كطعامٍ مسمومٍ، أو طُعْمٍ في صُنّارةٍ أو على مصيدة.


هذا التعليق هو على هذا الموقف الصادر عن عامة الناس، والذي لقيَ انتشاراً سريعاً وقَبولاً واسعاً. فهو دليل على تطور إيجابي واضح وكبير في وعي الناس وتنبههم. وعيٍ سياسيٍّ لطالماً عمل حملة الدعوة على إيجاده وتوسيع قاعدته ليكون عاماً. وهو التنبه العفوي أو البديهي إلى الخطط والفخاخ التي ينصبها الأعداء للإيقاع بالشعوب من خلال تقديم الإغراءات والوعود الخداعة لتمرير المؤامرات. لم يحتج عوام الناس ولا عامّتهم إلى تنبيه وحوارات أو نصح، بل أدركوا ذلك تلقائياً. وقد لوحظ هذا الأمر على المسلمين بشكل واضح وواسع، ما يؤكد على وعي المسلمين على أن الحكام ليسوا فقط عملاء، وإنما هم أعداء محاربون للإسلام والمسلمين.


ومثل هذا التنبه والوعي لا يمكن أن يكون خاصاً في قضية واحدة أو وقائع خاصة أو قليلة، لأنه لا يرجع إلى القضايا أو الوقائع والأحداث، وإنما هو يرجع إلى وعي الناس، أي إلى ما لديهم من أفكار ورؤى، ومن مخزون معارف فكرية؛ عقدية وسياسية، ومن خبرات من تجارب الأحداث والطروحات ومآلاتها.


لذلك نجد هذا الأمر ملموساً في مواقف عامة المسلمين في أحداث لا تُحصى عبر العالم، وليس فقط في إدراك مخادعة السيسي، أو مجريات الأحداث في فلسطين، أو سوريا أو الصين... وما أحداث الحرب والاعتداءات الأخيرة على غزة والقدس إلا بعض الدلائل الجلية على هذا الوعي وما يعنيه من وحدة الأمة الإسلامية. فانتشار رفض حل الدولتين، واليقين بالقضاء على كيان يهود واستعادة الأقصى وفلسطين، وموقف المسلمين الموحد عبر العالم، من قضية فلسطين وتفرعاتها، يعني - إلى جانب الوعي المذكور - سقوطَ الرابطة الوطنية والقومية وأضرابهما، وعمقَ رابطة الإسلام وعقيدته وتجذرها. وهذا رأس الوعي وعينه.


ومن دلائل هذا الوعي أيضاً، الرفض الواسع والشديد، لتصريحات الحكام والمسؤولين الرسميين الذين يسيرون في ركاب الحلول الدولية التي تُضيِّع فلسطين والقدس وغيرها من الحقوق، ولا تستند في مواقفها السياسية إلى أحكام الشرع وضوابطه، ولا إلى إمكانات الأمة وقواها. ولذلك، كانت ردة الفعل السريعة والعفوية من غالبية المسلمين ضد هذه المواقف، دليلاً على وعيٍ فكريٍّ ونضجٍ سياسي.


هذه الأمثلة قليل من كثير من مصاديق عودة المسلمين المباركة إلى وعيٍ عامٍّ صحيح، وإلى رأيٍ عامٍّ صحيح. والمراد من ذكر هذا الأمر أو التذكير به، لفتُ النظر إلى أن هذا الإدراك يفتح المجال إلى استهداف المزيد منه بشكل متسارع، سواء على الصعيد الفكري أو السياسي.

والتنبيهُ إلى أن قضية التغيير الجذري اليوم قد شارفت على نهاية مرحلتها الأخيرة بعون الله تعالى. وهي اليوم مسألة أساليب عملية، أي أنها سياسية فنية أكثر منها أي شيءٍ آخر. ولبُّ هذه العملية الفنية لا يمكن أن يتم إلا بالاستناد إلى قوى التغيير في الأمة الإسلامية وحدها، التي يتركز أقواها وأجداها في جيوش المسلمين. فالعمل الشرعي الصحيح والمجدي هو في تفعيل قوى الأمة وطاقاتها، وليس في استجداء رضا المستعمر الغربي وعملائه ومنظماته. قال تعالى: ﴿إِنَّما وَلِيُّكُمُ اللهُ وَرَسُولُهُ والَّذينَ آمَنُوا الَّذينَ يُقيمُون الصَّلاةَ ويُؤتُونَ الزَّكاةَ وَهُمْ رَاكِعونَ* وَمَنْ يَتَوَلَّ اللهَ وِرِسُولَهُ وَالَّذينَ آمَنُوا فَإِنَّ حِزْبَ اللهِ هُمُ الْغَالِبونَ* يَا أَيُّها الَّذينَ آمَنوا لَا تَتَّخِذُوا الَّذينَ اتَّخّذوا دِينَكُمْ هُزُوَاً وَلَعِباَ مِنَ الَّذين أُوتُوا الْكِتابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَالْكُفَّارَ أَوْلِيَاءَ وَاتَّقوا اللهَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنينَ﴾. [المائدة: 55- 57].


#الأقصى_يستصرخ_الجيوش
#Aqsa_calls_armies #AqsaCallsArmies
#OrdularAksaya

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
محمود عبد الهادي

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست