العملة الورقية للرأسمالية تسبب تضخماً معمماً كبيراً
العملة الورقية للرأسمالية تسبب تضخماً معمماً كبيراً

الخبر:   سجّل التضخم الذي تم قياسه من خلال مؤشر الأسعار الحساسة (SPI) زيادة بنسبة 1.07 في المائة للأسبوع المنتهي في 18 تشرين الثاني/نوفمبر، مدفوعاً بارتفاع حاد في أسعار المواد الغذائية الأساسية، وذلك حسبما أكدت البيانات الصادرة عن مكتب الإحصاء الباكستاني، وقد أظهرت بيانات PBS أن هذا هو الأسبوع السادس على التوالي الذي يشهد فيه التضخم ارتفاعاً صعودياً. وفي تشرين الثاني/نوفمبر، تم تسجيل أعلى قفزة للتضخم الأسبوعي على الإطلاق حيث بلغ 1.81٪.

0:00 0:00
Speed:
November 22, 2021

العملة الورقية للرأسمالية تسبب تضخماً معمماً كبيراً

العملة الورقية للرأسمالية تسبب تضخماً معمماً كبيراً

الخبر:

سجّل التضخم الذي تم قياسه من خلال مؤشر الأسعار الحساسة (SPI) زيادة بنسبة 1.07 في المائة للأسبوع المنتهي في 18 تشرين الثاني/نوفمبر، مدفوعاً بارتفاع حاد في أسعار المواد الغذائية الأساسية، وذلك حسبما أكدت البيانات الصادرة عن مكتب الإحصاء الباكستاني، وقد أظهرت بيانات PBS أن هذا هو الأسبوع السادس على التوالي الذي يشهد فيه التضخم ارتفاعاً صعودياً. وفي تشرين الثاني/نوفمبر، تم تسجيل أعلى قفزة للتضخم الأسبوعي على الإطلاق حيث بلغ 1.81٪.

التعليق:

لقد تم سحق المسلمين في باكستان من التضخم الحاد نتيجة خضوع النظام لصندوق النقد الدولي. وفي عام 2019، قفز التضخم إلى 10.58٪، ومنذ ذلك الحين وصل إلى حوالي 10٪. وكان نظام حزب إنصاف يلقي باللائمة على ارتفاع أسعار النفط الدولية ونقص المعروض منه، بسبب إغلاقات جائحة كورونا، ويدّعي أن العالم كله يواجه ضغوطا تضخمية شديدة وبالتالي لا يمكن لباكستان أن تظل بمنأى عن ذلك! ومن أجل تبرير فشلهم، قاموا بذكر أسعار سلع مختارة في البلدان المجاورة. ومع ذلك، فإن الحقيقة هي أن التضخم في باكستان أعلى بكثير من متوسط ​​معدل التضخم العالمي، أو حتى الإقليمي. ويبلغ متوسط ​​معدل التضخم العالمي 3.2٪، ولكن معدل التضخم في باكستان يبلغ 9٪. ويبلغ متوسط ​​معدل التضخم في أفغانستان وبنغلادش والهند وجزر المالديف ونيبال وسريلانكا 4% فقط، وهو أقل بكثير من باكستان، لذلك تم إثبات شيء واحد وهو أن المعدل الحالي للتضخم في باكستان هو من بين أعلى المعدلات في العالم.

ليس هناك شك في أن كل منطقة من مناطق العالم حالياً تواجه تضخماً وأن أسعار النفط ونقص المعروض منه يساهم في ذلك. ومع ذلك، فإن هناك عاملا ساهم في التضخم أكثر من أي شيء آخر، وهو عامل العملة الورقية، ومن أجل مكافحة الأزمات الاقتصادية، قدّمت الحكومات في جميع أنحاء العالم حزم تحفيز، ما أدى إلى طباعة المزيد من الأموال لتغطية الديون الحكومية. وفي الولايات المتحدة وحدها، نما المعروض النقدي بنسبة 20٪ من 15.33 تريليون دولار في نهاية عام 2019، إلى 18.3 تريليون دولار في نهاية تموز/يوليو 2021. وعلّق بنك مورجان ستانلي قائلاً "بنك الاحتياطي الفيدرالي قد لا يكون مسيطراً على زيادة تدفق النقود، ما يعني أنه لن تكون لديه سيطرة على التضخم أيضاً إذا استمر"، وبالمثل، قدّمت الحكومة في باكستان حزمة تحفيز بقيمة 1.2 تريليون روبية، وفقاً للتقرير الفصلي الثالث لبنك الدولة للسنة المالية 2020، حيث "تضاعف المعروض النقدي أكثر من الضعف خلال الربع الثالث من العام المالي 2020، مقارنة بالفترة نفسها من العام الماضي، على أساس تراكمي، وبلغ توسع النقد الواسع خلال الفترة من تموز/يوليو إلى آذار/مارس السنة المالية 2020 عند 1.5 تريليون روبية مقارنة بـ812.9 مليار روبية العام الماضي".

لذلك فإن التضخم يرجع إلى استخدام العملة الورقية، لأنها عملة ليست لها أي قيمة جوهرية وحقيقية. وهي مدعومة من سلطة الدولة كعملة قانونية فقط. وتسمح حقيقة العملة الورقية هذه للحكومات بطباعة النقود متى شاءت، في حين لا تستطيع الحكومات طباعة الذهب أو القطع الذهبية. ولا يمكن للعالم أن يتخلص من التضخم المهلك للاقتصاد إلا بالعودة إلى العملات الذهبية والفضية. وكان آلان جرينسبان الرئيس السابق لمجلس الاحتياطي الفيدرالي الأمريكي، قد أطلق على معيار الذهب اسم "العملة العالمية الأساسية". وبالمثل، قال ستيف فوربس، رئيس تحرير مجلة فوربس، إن الذهب "يحتفظ بقيمة جوهرية ومستقرة أفضل من أي شيء آخر". ومع ذلك، فإنه بالنسبة لنا كمسلمين من واجبنا الشرعي أن نجعل الذهب والفضة أساس عملتنا. فقد فرض رسول الله ﷺ استعمال الذهب والفضة فقط في تبادل السلع والخدمات كعملة للتبادل التجاري. وعلاوة على ذلك، فإن هذا لن يتم تنفيذه إلا في ظل الخلافة على منهاج النبوة القائمة قريبا بإذن الله، ولا يوجد شيء آخر غيرها يمكنه إخراج العالم من ظلم وجور الرأسمالية إلى العدل والرخاء الذي يحلم فيه.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

شاهزاد شيخ

نائب الناطق الرسمي لحزب التحرير في ولاية باكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست