الأمني والإعلامي هما الجانبان الوحيدان اللذان تطورا في موسم الحج 1439هـ!
الأمني والإعلامي هما الجانبان الوحيدان اللذان تطورا في موسم الحج 1439هـ!

الأمير خالد الفيصل: إصرار من ولي العهد لتصبح مكة والمشاعر أرقى وأذكى مدن العالم، وأردف سموه قائلا "حسب ما سمعته شخصيا من سمو ولي العهد في أول اجتماع لأعضاء الهيئة، فإنه يطمئن جدا، ويبشر بأن مكة المكرمة والمشاعر المقدسة مقبلة على خير كبير إن شاء الله"، مؤكدا أن هناك إصرارا من سمو ولي العهد على العمل لتطوير مكة المكرمة والمشاعر المقدسة لتكون من أرقى وأذكى مدن ومناطق العالم، مشيرا إلى أن هناك دراسات رفعت من هيئة تطوير منطقة مكة المكرمة إلى الهيئة الملكية لتطوير مكة والمشاعر المقدسة. (جريدة اليوم، الأربعاء 2018/8/22م)

0:00 0:00
Speed:
August 24, 2018

الأمني والإعلامي هما الجانبان الوحيدان اللذان تطورا في موسم الحج 1439هـ!

الأمني والإعلامي هما الجانبان الوحيدان اللذان تطورا في موسم الحج 1439هـ!

الخبر:

الأمير خالد الفيصل: إصرار من ولي العهد لتصبح مكة والمشاعر أرقى وأذكى مدن العالم، وأردف سموه قائلا "حسب ما سمعته شخصيا من سمو ولي العهد في أول اجتماع لأعضاء الهيئة، فإنه يطمئن جدا، ويبشر بأن مكة المكرمة والمشاعر المقدسة مقبلة على خير كبير إن شاء الله"، مؤكدا أن هناك إصرارا من سمو ولي العهد على العمل لتطوير مكة المكرمة والمشاعر المقدسة لتكون من أرقى وأذكى مدن ومناطق العالم، مشيرا إلى أن هناك دراسات رفعت من هيئة تطوير منطقة مكة المكرمة إلى الهيئة الملكية لتطوير مكة والمشاعر المقدسة. (جريدة اليوم، الأربعاء 2018/8/22م)

التعليق:

لقد صار واضحا لمتابع إحصائيات الحج للسنوات العشر الماضية على الأقل أنّ أولى أولوياتها في موسم الحج تكمن في الحفاظ على سمعتها أمام العالم والحفاظ على عرش آل سعود من أي هزة كالتي سببتها كوارث الحج في أعوام سابقة، ولذلك فإن النجاح الوحيد الذي تستهدفه الحكومة في كل أعمالها في مواسم الحج الماضية هي الناحية الأمنية وتدعيمها في مختلف الجهات وخصوصا مسألة تصاريح الحج والتي من شأنها تقليل عدد الحجاج والسيطرة عليهم، والناحية الثانية هي الناحية الإعلامية والتي تعمل بكل قوتها لتجيير الإنجازات وإن قلّت لصالح حكام آل سعود، ولكي نضع الأمور في نصابها الصحيح وبلغة الأرقام سوف نستعرض بعض الحقائق التالية:

منذ موسم الحج 1433هـ والذي كان عدد الحجاج فيه الأعلى (حسب الأرقام الرسمية) حيث وصل نحو 3,16 مليون حاج وكان 44% منهم من حجاج الداخل، منذ ذلك العام والأعداد السنوية تتراوح بين المليوني حاج فقط، ولقد كان هذا التخفيض على حساب حجاج الداخل أولا والذين لاحقتهم الجهات الأمنية المختلفة في مسألة تصريح الحج، وثانيا على حساب حجاج الخارج القادمين من دول ذات علاقات سياسية متوترة مع السعودية كإيران وسوريا والعراق وليبيا واليمن وقطر، وثالثا على حساب حجاج الخارج الآخرين والتي قامت الحكومة السعودية برفع رسوم الحج عليهم فقلّت بذلك استطاعة الناس على الحج.

هذا من الناحية الأمنية، أما من الناحية الإعلامية فقد عملت الحكومة على توظيف واستحداث أدوات إعلامية جديدة تعمل ليل نهار على مسألة تضخيم إنجازات الحكومة في الحج وتلبيس حبة الخير الصغيرة - والعفوية في بعض الأحيان - قبة الإنجازات العالمية والمشاريع العملاقة والتي كانت دائما تجير لصالح توجيهات الملك وولي عهده في مبالغة إعلامية مبتذلة، ولا ننسى أن نذكر هنا الحدث العالمي والذي سبق موسم الحج وهو ما يسمى هاكاثون الحج والذي أقامته الحكومة السعودية وحصلت فيه على شهادة جينيس كأكبر حدث عالمي من التقنيين والمطورين والمبرمجين بهدف تطوير تقنيات جديدة للحج والذي ما استفاد منه غير الصيت والبهرجة لصالح الحكومة لكي تسمع صوتها للعالم!

من هنا يمكن التأكيد على أمر صار واضحا جدا وهو أن الحكومة السعودية وفي سبيل تحقيق معادلتها الخاصة في موازنة مصالحها وسمعتها لن تستطيع الوفاء بمتطلبات الحج والعمرة كركن إسلامي يحتاجه المسلمون في كل بقاع الأرض، كما أنه صار من الأكيد بأن تحقيق متطلبات الحج على الوجه الأمثل لن يكون إلا عندما تكون للمسلمين دولة تجمعهم تحت راية واحدة وتقوم على خدمتهم كرعايا دولة اسلامية واحدة، وهو الأمر الذي لن يكون ما دامت حدود سايكس وبيكو تفصل بين بلاد المسلمين ومصالح الكافر المستعمر تمزق بينهم.

ولا ننسى هنا التنويه إلى أن وعود الحكومة السعودية كالتي جاءت في تصريح أمير منطقة مكة مؤخرا من استهدافهم رفع عدد الحجاج إلى خمسة ملايين حاج ليست بالجديدة فقد قالها من قبل في 2015 محمد بن سلمان في رؤيته الحالمة بأنه سوف يصل إلى ثلاثين مليون معتمر وستة ملايين حاج في عام 2030 ولكن الواقع حتى الآن يؤكد على فشل كل تلك الأهداف والخطط والاستراتيجيات الخيالية، وهنا يمكن أن نطرح سؤالا على الهامش في معرض التعليقات على تصريح أمير مكة بعد اجتماعه مع محمد بن سلمان حيث قال بأنه "يبشر بأن مكة المكرمة والمشاعر المقدسة مقبلة على خير كبير إن شاء الله"، نعلق هنا ونسأل، أيهما كان أهم ويستحوذ على تفكير ابن سلمان ووقته وجهده هل هي مكة والمشاعر المقدسة ومصالح المسلمين أم أنها نيوم والمرافق السياحية ومصالح المستثمرين؟ لا بد أن الفرق شاسع بالنسبة له!

إن حلول أزمات الحج وتطويره سهلة وفي متناول اليد لمن أرادها، غير أنها عصية على من كان قراره السياسي بيد غيره، وهي مستحيلة على من يخشى المسلمين ويعمل على زيادة فرقتهم وتمزيقهم، فالحج شعيرة إسلامية جامعة للمسلمين ولا يمكن أن تتم على الوجه الأمثل ما دام أمر المسلمين في تشتت وضياع...

اللهم وحد المسلمين واجمع كلمتهم تحت حكم إمام عادل وراية عقاب واحدة ودولة خلافة راشدة على منهاج النبوة...

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

ماجد الصالح – بلاد الحرمين الشريفين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست