العنف الحقيقي من الاحتلال وليس من أحكام الإسلام
العنف الحقيقي من الاحتلال وليس من أحكام الإسلام

وكالات أنباء - فلسطين: تحت شعار "إنهاء الاحتلال... إنهاءً للعنف" أطلقت وزارة شؤون المرأة الفلسطينية منذ أيام فعالياتها بالحملة العالمية لمناهضة العنف ضد المرأة والتي كانت تزامنا مع اليوم العالمي لمناهضة العنف ضد النساء في 25 تشرين الثاني/ نوفمبر والتي ستستمر لمدة 16 يوما

0:00 0:00
Speed:
November 28, 2015

العنف الحقيقي من الاحتلال وليس من أحكام الإسلام

العنف الحقيقي من الاحتلال وليس من أحكام الإسلام

الخبر:

وكالات أنباء - فلسطين: تحت شعار "إنهاء الاحتلال... إنهاءً للعنف" أطلقت وزارة شؤون المرأة الفلسطينية منذ أيام فعالياتها بالحملة العالمية لمناهضة العنف ضد المرأة والتي كانت تزامنا مع اليوم العالمي لمناهضة العنف ضد النساء في 25 تشرين الثاني/ نوفمبر والتي ستستمر لمدة 16 يوما، وسيتخللها فعاليات ونشاطات توعوية مختصة بآليات الخطاب الجندري. وقد طالب الاتحاد العام للمرأة الفلسطينية، بضرورة تدخل المجتمع الدولي ممثلا بهيئة الأمم المتحدة ومؤسساتها، لوضع حد لانتهاكات يهود التي تؤثر وتخلف آثارا مأساوية مباشرة على حياة المرأة واستقرارها وأمنها".

التعليق:

ما زال موضوع العنف ضد المرأة في فلسطين والبلاد الإسلامية يؤرق بال دعاة حقوق المرأة بشكل في ظاهره الحرص عليها وعلى حقوقها وفي باطنه عكس ذلك، في ظاهره وقف هذا العنف وفي باطنه إدخال مفاهيم غربية بعيدة عن الدين والقيم والعادات.. في ظاهره الدفاع عن المرأة ضد عدوان يهود وفي باطنه خذلان لها وضعف.. فحسب الخبر فقد طالب الاتحاد العام للمرأة الفلسطينية بضرورة التدخل الدولي لوضع حد لانتهاكات يهود بحقها.. يلجئون للخصم يريدونه حكما وقاضيا عادلا لهم!! أي استغباء للعقول هذا!! فهل أنصف المجتمع الدولي فلسطين وقضية فلسطين! ألم يكونوا هم من أتوا بيهود ليستحلّوا الأرض والعرض والشجر والحجر!! هل ستكون نتيجة دماء الشهداء الزكية التي سالت وأنات الثكالى واليتامى والجرحى حل الدولتين أو تقسيم البلد الواحد فوق ما هو مقسم والذي يريده مثل هؤلاء!!

إن الاتفاقيات الخاصة بالمرأة لا تساوي الحبر الذي كتبت به لأن الواقع مختلف عنها، فأين حرية المرأة وحقوقها فيما جاء في الإعلان العالمي لمناهضة كافة أشكال العنف ضد المرأة 1993 والذي كان من ضمن تعريفه للعنف بأنه "يشمل التهديد بهذا الاعتداء أو الضغط أو الحرمان التعسفي للحريات سواء حدث في إطار الحياة العامة أو الخاصة"! فلم نسمع أو نر احتجاجا أو مطالبة بوقف هذا العدوان على المرأة خلال الأحداث الأخيرة من أي من تلك المنظمات النسوية التي شاهدت ورأت كما رأى العالم كله النساء المرابطات وهنّ يُضربن وتمارس ضدهن سياسة الذل والإهانة بأشكالها، وحتى منعهن من دخول الأقصى ووضع قائمة سوداء بأسمائهن، وحتى اعتقالهن من بيوتهن! وشاهدت قتل النساء والفتيات والأطفال بدم بارد وبحجج واهية وادعاءات كاذبة! أم أن هذا الصمت المخزي لأن هؤلاء الضحايا هن مسلمات ملتزمات ومطالبهن تنبع من العقيدة الإسلامية؟! أم أن هذه الفعاليات يريد بها اتحاد المرأة الفلسطينية وغيرها من مؤسسات المرأة المنتشرة أن يغطي على أهدافه الحقيقية؟! من مثل الحديث عن مشروع قانون جديد يهدف إلى إعادة قراءة التشريعات الفلسطينية ودراستها من منظر النوع الاجتماعي، الأمر الذي يسهم في تحقيق العدالة القانونية الفضلى فيما يتعلق بقضايا المرأة كما يطالبون، وخصوصاً التي تتعلق بالمساواة بينها وبين الرجل، والذي وضح من خلال الحديث عن النشاطات التوعوية المختصة بآليات الخطاب الجندري مثل ضرورة الاستمرار في العمل على تعديل قانون الأحوال الشخصية وتحديداً المطالبة برفع سن الزواج، الأمر الذي يحمي المرأة من مجموعة الانتهاكات التي ستترتب على الزواج المبكر، في حقوق التعليم وتقرير المصير والاستقلال الاقتصادي، وهي جميعها تقود إلى العنف. وهذا كله ما صرحت به القائمات على هذه الفعاليات خلال هذه الحملة..

لقد رأينا المرأة في فلسطين خلال الأحداث الأخيرة صابرة مؤمنة محتسبة تعي أنها قدمت أعزاءها من ابن أو زوج أو أخ فداء للأقصى وفداء للعقيدة الإسلامية، وقد ظهر هذا جليا في كلامهن وصبرهن ووضوح الواقع أمامهن. بأنه لا تغيير ولا أمان واطمئنان إلا بوجود الإسلام.. لم نسمع إحداهن تطالب بحماية دولية ولم تسأل العون من مؤسسة أو منظمة نسوية، وهذا يبشر بخير والحمد لله، فرغم انتشار المئات من تلك المؤسسات وعملهم الدؤوب وإنفاقهم بسخاء على البرامج التي تخدم الغرب وأفكاره ومفاهيمه إلا أن هذه الأحداث أظهرت ضعفا في هذا التأثير. فطوبى لكنّ يا أمهات الشهداء وأخواتهم وزوجاتهم وبناتهم..

ونقول للمؤسسات التي حضَّرت فعاليات لمدة 16 يوما: اجعلي هذه الفعاليات توجَّه فعلا لفضح يهود وتنكيلهم بالنساء والأطفال وتبيان العنف الحقيقي ضدهم، وابتعدي عن تنفيذ أجندات من يمولونكم لمصلحتهم ضد الإسلام والمسلمين..

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

مسلمة الشامي

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست