العنف ضد المرأة في إعلامكم وليس في ديننا!!
العنف ضد المرأة في إعلامكم وليس في ديننا!!

الخبر: "في اليوم العالمي للحد من العنف ضد المرأة، والذي يوافق 25 تشرين الثاني/ نوفمبر من كل عام، ألقت وكالة أخبار المرأة الضوء على عدة أعمال فنية عربية وعالمية، وناقشت فيه العنف الموجه ضد المرأة باختلاف أنواعه، وخلفيّات من مارسه بناء على اختلاف البلاد واختلاف أسلوب العنف الموجه ضد المرأة ومن يقف وراءه".

0:00 0:00
Speed:
November 28, 2016

العنف ضد المرأة في إعلامكم وليس في ديننا!!

العنف ضد المرأة في إعلامكم وليس في ديننا!!

الخبر:

"في اليوم العالمي للحد من العنف ضد المرأة، والذي يوافق 25 تشرين الثاني/ نوفمبر من كل عام، ألقت وكالة أخبار المرأة الضوء على عدة أعمال فنية عربية وعالمية، وناقشت فيه العنف الموجه ضد المرأة باختلاف أنواعه، وخلفيّات من مارسه بناء على اختلاف البلاد واختلاف أسلوب العنف الموجه ضد المرأة ومن يقف وراءه".

التعليق:

إن قضية العنف ضد المرأة هي من أبرز القضايا المجتمعية التي ناقشتها الأعمال الفنية، سواء عالمياً أو عربياً، في السينما والمسرح والإذاعة والتلفزيون وتنوعت ما بين عنف جسدي يصل حد الإيذاء أو حتى القتل، وعنف نفسي، وعنف يجمع كليهما، وعنف جنسي، وما بين عنف الأفراد وعنف المجتمع ونظرته وعاداته وتقاليده.

ما يهمنا هنا ليس تلك الأعمال الفنية وقصصها، بقدر ما يهمنا أسلوب التعامل مع هذه القضية المهمة والخطيرة في المجتمع لأنها تهدد كيان واستقرار الأسرة. فهل فعلا قام الإعلام خاصة العربي بالدفاع عن المرأة ومناهضة العنف ضدها، أم مارس هذا العنف وكرّسه ضدها؟!

لو تتبعنا تلك الوسائل الإعلامية لوجدناها تمارس العنف ضد المرأة ليل نهار، سواء في الإعلانات أو في الأفلام والمسلسلات أو البرامج وحتى برامج الأطفال!! ولمن يسأل كيف هذا نقول: إن أكبر عنف يُمارس ضد المرأة هو استخدامها كجسدٍ وسلعة وشكل ومفاتن في الإعلانات والأغاني، بل هناك محطات عربية كاملة صارت متخصصة بهذا المجال، ولا سيما محطات الأغاني الهابطة والمسابقات السخيفة. وكذلك تقديمها في المسلسلات والأفلام كوسيلة إغراء وإفساد وبطريقة مبتذلة، وأنها مجرمة ومصدر للشر والإجرام، أو أنها ذات دور هامشي فلا حول لها ولا قوة ولا رأي ولا مكانة حتى فيما يخص شؤونها وحياتها من تعليم وزواج وميراث وغير ذلك من حقوق. وكذلك أنها سطحية التفكير، جلّ اهتمامها فقط الموضة والشكل والجمال واللباس وأدوات الزينة والمطبخ فلا اهتمام ولا رأي لها بقضايا الأمة ولا السياسة ولا الأحداث الدائرة وكأنها ليست جزءا من هذه الأمة تهتم بها وبقضاياها! ولكي تكتمل القصة ظهرت علينا مؤخراً محطات السحر والشعوذة وتفسير الأحلام والتي تعتبر النساء جمهورها الرئيس!!

وهناك أيضا قضايا عديدة تُناقش في هذه الدراما وفيها تُكرَّس نظرةُ المجتمع بحيث تُحمَّل فيها المرأة الذَّنْب وحدها وكأن الخطأ ليس فيه طرف آخر وهو الرجل، مثل الزنا - والعياذ بالله - الذي تُعاقب فيه وحدها فورا بالقتل، والإصابة بالإيدز - حاشانا وإياكم - يُنظر لها فقط على أنها عديمة الأخلاق حتى لو لم تكن مذنبة فيه، ويندرج تحتها ما يُسمى بجرائم الشرف بدون بيّنة ولا دليل طلبه الشرع، بل يكفي فقط الشبهة أو الإشاعة لتتم العقوبة ضدها. بينما يُعذر الرجل في كل هذا ولا يُعاقب، خلافا للأحكام الشرعية التي تُعاقب المذنب رجلا كان أم أنثى.

ولا ننسى دور بعض من يُسمّون "رجال الدين" من خلال تفسير أحكام الشرع ونصوصه تفسيراً خاطئاً، سواء عن عمد أو عن جهل، مثل تفسيرهم الآية الكريمة ﴿الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاء﴾ بأن هناك تفوقاً للرجال على النساء وتسلّطا، في حين إن المقصود بالقوامة هو الرعاية والقيام على أمور النساء والسعي في مصالحهن!! وكذلك حقها في التعليم والعمل والميراث...

وحتى حين مناقشة أسباب أنواع العنف ضد المرأة يناقشونه على أنه مسؤولية فردية أكثر منها مسؤولية نظام وقوانين. ولا يناقشونه على أساس أنه يعود إلى عادات وتقاليد بالية بعيدة عن الشرع الحنيف الذي كرّم المرأة وأكرمها وأعطاها حقوقها ورفع عنها العنف سواء أكانت ابنة أم زوجة أم أماً أم عاملة أم في أي دور لها. بل يحصل هذا في البلاد الإسلامية والعربية، وكأن الإسلام هو المسؤول عن ذلك!!

فلا يناقشون ولا يُظهرون بأن الإسلام اعتنى بالمرأة منذ لحظة ولادتها وحتّى وفاتها، واهتم بحقوقها ومكانتها، فهي شقيقة الرجال وصانعة الأجيال والأبطال، مرورا بحقها كأمّ وأخت وابنة وزوجة. ولنا في رسول الله صلّ الله عليه وسلم أسوة حسنة في فنّ التعامل مع المرأة، والذي سبقَ بهِ كُلّ دعاة ما يُسمّى "بالإتيكيت" وذوق التعامل ومناهضي العنف، فقد وصفهنّ عليهِ الصلاةُ والسلام بالقوارير، أي يجب التعامل معهن برقّة حتّى لا تُكسَر ولا تُخدش، ومن مواقفه النبويّة الكثيرة مع نسائه حين بكت زوجته صفيّة رضي الله عنها ذات يوم حين بركَ جملها، فقام إليها عليهِ الصلاة والسلام فمسح دمعها بيديه وجلس معها وهو عليه الصلاة والسلام في سفر وبين جيش جرّار، فلم يُسفّه بُكاءها ولم يُحقّرها بل اهتمّ بمشاعرها، وهذا قمة الرقي والاحترام في تعامل الرجل مع زوجته، وبالتالي فليس للعنف سبيل إلى المرأة في ظلّ وجود الأحكام الإسلاميّة الرفيعة، التي تحفظ كرامة المرأة وتصونها وترفع من شأنها... ولن يكون هذا محقّقا إلا بعودة تطبيق هذه الأحكام كاملة في دولة الإسلام؛ الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة إن شاء الله.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

مسلمة الشامي (أم صهيب)

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست