الانهيار الأمريكي العظيم ومقالة توماس فريدمان
الانهيار الأمريكي العظيم ومقالة توماس فريدمان

  الخبر: حذر الكاتب الأمريكي البارز توماس فريدمان في مقاله الأسبوعي بصحيفة نيويورك تايمز، من أن ولاية الرئيس دونالد ترامب الثانية لن تصيب نجاحا في السنوات الأربع المقبلة. (الجزيرة)

0:00 0:00
Speed:
March 18, 2025

الانهيار الأمريكي العظيم ومقالة توماس فريدمان

الانهيار الأمريكي العظيم ومقالة توماس فريدمان

الخبر:

حذر الكاتب الأمريكي البارز توماس فريدمان في مقاله الأسبوعي بصحيفة نيويورك تايمز، من أن ولاية الرئيس دونالد ترامب الثانية لن تصيب نجاحا في السنوات الأربع المقبلة. (الجزيرة)

التعليق:

تضمنت مقالة توماس فريدمان عدة نقاط مهمة ينبغي الوقوف عليها، ونذكر أبرزها:

1- سياسات ترامب تفتقر إلى التماسك، بل إنها مدفوعة بمظالم شخصية، وسعي للانتقام، وعقلية الولاء السائدة بين أفراد إدارته.

2- ترامب لم تكن لديه رؤية متماسكة لمجريات الأمور في عالم اليوم، وكيفية توافق أمريكا معها على أفضل وجه حتى يتحقق الازدهار المنشود في القرن الحالي.

3- عاد ترامب مرة أخرى إلى البيت الأبيض حاملا في جعبته هواجسه وغبنه القديم نفسيهما إزاء تلك القضايا، وعزز إدارته بعدد غير عادي من الأيديولوجيين الهامشيين الذين استوفوا معيارا أساسيا واحدا وهو الولاء الدائم له ولأهوائه قبل الدستور والقيم التقليدية للسياسة الخارجية الأمريكية أو القوانين الأساسية للاقتصاد.

4- مزيج غريب من رسوم جمركية تُفرض ثم تنقض لتفرض مرة أخرى، ومساعدات تُقدم لأوكرانيا ثم توقف وتستأنف من جديد، وإدارات حكومية وبرامج داخلية وخارجية تقلص ثم يرجع في ذلك ثم تقلص عبر مراسم متضاربة ينفذها الجميع وزراء وموظفون في الحكومة يجمعهم الخوف.

5- السياسة الجمركية على الأعداء والحلفاء وكان الأصل به أن يقوم بزيادة الرسوم الجمركية المستهدفة على بكين، بالتنسيق مع حلفاء أمريكا الذين يتعين عليهم فعل الشيء نفسه، معتبرا هذه هي الطريقة التي تجعل الصينيين يتحركون.

هذه أبرز النقاط التي ذكرها توماس فريدمان في مقاله، من أن ولاية الرئيس دونالد ترامب الثانية لن تصيب نجاحا في السنوات الأربع المقبلة، وللعلم هي نقاط ذات نظرة عميقة ودقيقة جدا فهو يؤكد مثلا على افتقاد ترامب لاستراتيجية متماسكة بل مدفوعا برغبته بالانتقام، وهي معتمدة على وثيقة ضخمة وتفصيلية "مشروع 2025" وصدرت عن مؤسسة هيريتاج الأمريكية اليمينية بمشاركة حشد كبير من المفكرين وأصحاب الرأي من 100 منظمة يمينية أمريكية، وهذه النظرة تعتبر العدو الداخلي هو التهديد الأكبر حالياَ لأمريكا، وهذه لن تلغي الانقسام الحاد في أمريكا بل ستجعل العرق الأبيض يسيطر على الأمور بشكل تام ولو اقتضى الأمر سفك الدم حيث قال اليميني كيفن روبرتس، رئيس مؤسسة هيريتاج: "إننا على وشك تجربة الثورة الأمريكية الثانية، والتي ستبقى غير دموية إذا سمح اليسار وبدأ الطرف المقابل بالتململ" فهي استراتيجية قائمة على الأحقاد وسيطرة عنصر على آخر ولو اقتضى الأمر حمل السلاح، هذه نظرتهم لبعضهم بعضا فكيف تكون نظرتهم لغيرهم؟ والعالم كله يراقب هذا.

أما مسألة الرسوم التجارية فترامب يفرض الرسوم الجمركية على مختلف دول العالم، ويهاجم الدول الصناعية والتجارية بأنها تسرق بلاده عبر خلل الميزان التجاري لصالح تلك الدول، ويطالب هذه الدول بمعادلة ميزانها التجاري مع أمريكا ولا يفرق بين عدو وحليف وبين ند وتابع. ويرى توماس أن النظرة الأدق هي أن تقوم الولايات المتحدة مع حلفائها بتبني سياسة موحدة تجاه الصين وليس سياسة استعداء الجميع وجعلهم جميعا عدواً له. وفعلاً إن الأمور جعلت من الحلفاء يقفون ضد توجهات ترامب وسياساته وهذا الأمر جعل أعداء أمريكا كثراً، فكيف تقود العالم خاصة ما يسمى العالم الحر حيث صرحت كايا كالاس، مسؤولة السياسة الخارجية في الاتحاد الأوروبي في منشور على منصة إكس: "اليوم، أصبح من الواضح أن العالم الحر يحتاج إلى قائد جديد، والأمر متروك لنا، نحن الأوروبيين، لقبول هذا التحدي".

وذكر توماس فريدمان في مقال له "إن أفعال ترامب وماسك تعادل إلقاء قنبلة في قلب جهاز الأمن القومي، وفي نهاية المطاف ستنفجر هذه القنبلة ولن يكون هناك ملاذ آمن يمكن للولايات المتحدة الاحتماء فيه".

فضلاً عن اعتماد ترامب على شخصيات يمينية شرطه الأول لهم الولاء التام له والتوافق التام مع آرائه وتصريحاته وليس ولاء لكيان سياسي فضلاً أن يكون الولاء للمبدأ الذي تخلت عنه إدارة ترامب وجعلت من الاستعمار غاية بحد ذاته وانقلبت على كل السياسيات الأمريكية التقليدية.

وختاما: يذكر المؤرخون أن أسباب انهيار الإمبراطوريات يعود لجملة من العوامل سواء الاقتصادية أو النزاعات والانقسامات الداخلية وغياب الخطة السياسية المحكمة والضعف العسكري ووجود قوى كبرى مناوئة له فضلاً عن وجود رجال في الحكم والإدارة لا يتمتعون بعقلية رجل الحكم، وهذه الأمور كلها اليوم مجتمعة في الولايات المتحدة ولعل أخطرها هو غياب العامل المبدئي وتمتع رجل السلطة بعقلية الحكم فكيف بعوامل أخرى وهي تستعدي العالم كله وفتح اليمين الأمريكي المعركة على مصراعيها مع التيار الليبرالي واليسار في أمريكا ذاتها.

إن تراكم هذه العوامل يؤدي إلى الضعف والتراجع عالمياً وتكالب الدول ضدها وعدم قدرتها على الإمساك بزمام الأمور ما يؤدي إلى الانهيار الذي إما أن يكون سريعاً وعاصفاً وإما هادئاً وبطيئاً. وهذا ما حدث لبريطانيا وفرنسا وإسبانيا وروما وبلاد فارس... ثم الولايات المتحدة التي ركبت سكة السقوط.

وقد قيل "في حلبة مصارعة الثيران لا يستطيع المصارع ضعيف البنية الانتصار على الثور الضخم الهائج في بداية الجولة، وإن وقف أمامه فهو مقتول لا محالة، ولكن النزيف المستمر بسبب السهام الصغيرة يجعل هذا الثور بقرونه الطويلة يخر راكعا في النهاية ثم يموت".

ولعل البعض يظن أن هذه الأمور تخيلات واهم أو أحلام راغب بما تريده النفس ولكننا نقول لهم:

أولاً: هذه قراءة لواقع وأسباب ومسببات وعوامل انهيار وهي محايدة وجدت في أغلب الإمبراطوريات التي اندثرت.

ثانيا: هذه شهادة شاهد من أهلها يعتبر من المفكرين الكبار عند القوم - وليس وحده للعلم - وليس شهادة خصم أو عدو.

ثالثا: لقد آن للولايات المتحدة أن تسقط، بل لقد تأخر سقوطها لعدم وجود بديل حضاري، أو دولة ذات إرادة سياسية حقيقية، فقد نخرها السوس واعتلى أمرها من هو وصمة عار عليها امتطى على غير هدى فتاهت.

﴿وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَيَتَّخِذَ مِنكُمْ شُهَدَاءَ وَاللهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

حسن حمدان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست