العنصرية والإسلاموفوبيا تحتجب خلف الشعارات النسوية
العنصرية والإسلاموفوبيا تحتجب خلف الشعارات النسوية

 الخبر:   أعلنت الخطوط الجوية الفرنسية "إير فرانس" عن تراجعها عن موقفها السابق والسماح للنساء من أطقمها بتجنب السفر إلى طهران بعدما طلب منهن ارتداء الحجاب عند الوصول، وقد سبق هذا القرار ضجة إعلامية وشجب لموقف الشركة السابق التزامها بقرار طهران (بي بي سي 2016/4/5).

0:00 0:00
Speed:
April 06, 2016

العنصرية والإسلاموفوبيا تحتجب خلف الشعارات النسوية

العنصرية والإسلاموفوبيا تحتجب خلف الشعارات النسوية

الخبر:

أعلنت الخطوط الجوية الفرنسية "إير فرانس" عن تراجعها عن موقفها السابق والسماح للنساء من أطقمها بتجنب السفر إلى طهران بعدما طلب منهن ارتداء الحجاب عند الوصول، وقد سبق هذا القرار ضجة إعلامية وشجب لموقف الشركة السابق التزامها بقرار طهران (بي بي سي 2016/4/5). وفي سياق آخر ازدادت وتيرة الحملة على الزي الشرعي في فرنسا وانضمت الفيلسوفة الفرنسية الشهيرة إليزابيث بادنتر لقائمة الشخصيات العامة الداعية لمقاطعة دور الأزياء التي تقدم منتجات للمرأة المسلمة واعتبرت في لقاء مع الليموند (2016/4/3) "أن العشر سنوات الأخيرة شهدت تصاعداً في عدد الفتيات اللواتي يرتدين الحجاب بسبب الضغوط الإسلامية عليهن". وقد سبق هذه التصريحات الضجة التي أثارتها وزيرة شؤون الأسرة والطفولة وحقوق المرأة في فرنسا، لورانس روسينول، حين شبهت النساء اللواتي اخترن الزي الشرعي عن قناعة بـ "الزنوج الذين ساندوا الاستعباد في الولايات المتحدة الأمريكية" ثم تراجعت عن هذا التشبيه. وقد قادت الوزيرة موجة من الانتقادات على إقبال أشهر دور الأزياء العالمية مثل "دولتشي غابانا" على "الموضة الإسلامية" ووصفت هذا التوجه بأنه "غير مسؤول" وأنه يروج لفكرة حبس جسد المرأة.

وعلى الصعيد الرسمي حذر رئيس الوزراء الفرنسي مانويل فالس من هيمنة السلفيين على الخطاب الإسلامي في فرنسا، وحذر من أن "أقلية" سلفية لا تتجاوز الواحد بالمئة بصدد كسب المعركة الأيديولوجية والثقافية حيث قال: "هناك مشكلة ثقافية في أوسع معانيها: تراجعنا عن معاركنا من أجل الجمهورية والعلمانية" (لوفيغارو، 2016/04/04). واعتبر أن الحجاب ليس مجرد ظاهرة أو لون إنما "استعباد" للمرأة.  (فرانس 24، 2016/4/4)


التعليق:

بالرغم من الزخم الإعلامي حول زي المرأة المسلمة وهوس فرنسا بالحجاب والنقاب فإننا لا نجد في تصريحات الساسة والمثقفين الفرنسيين طرحا فكريا يستحق الرد بل هو امتداد لإرث استعماري بغيض وعنصرية متأصلة. وهم في طرحهم لا يستدلون إلا بما يعرفونه من لغة الاستكبار والتحقير للغير، ولا يتجاوز حديثهم إطار الاستعباد والتحرر الزائف. تراهم يواصلون من طرح استشراقي مبني على الفرضيات والخيالات، طرح يستخدم المرأة كأداة للطعن في الإسلام، ويتبع منهج الإسقاط، فلا يعترف بعبودية سوى عبودية الرجل الأسود للرجل الأبيض وتبعية الإنسان للإنسان وبشرية كل الأديان بما فيها الإسلام.

اللافت في التصريحات الفرنسية ولغة وزيرة المرأة ومن سار على نهجها من نسويات الشرق والغرب أن كراهية واحتقار المرأة أو يسمونه "الميسوجينية" ليست حكرا على الرجل بل إن من النساء من هي عدوة للمرأة تصادر حقوقها وتقمعها وتشن الحملات ضدها لتحجر على رأيها. أصبحت النسويات جبهة مضادة لكل امرأة تخالفهن الرأي، تترصد لها وتعاديها وتشحن الرجال والنساء لمعاداتها. لم تكن للنساء في يوم من الأيام جبهة موحدة بل مصالح مشتركة. والمفارقة أن تكون وزيرة الأسرة والطفولة عدوة لهم.

لطالما لعب الغرب على وتيرة الدفاع عن "المرأة المسلمة المستضعفة المرغمة على تغطية جسدها" وأن الحجاب رمز للعبودية ولقهر النساء، فإذا به يواجه جيلاً من المسلمات الفرنسيات المثقفات اللواتي اخترن الالتزام بالشريعة الإسلامية فاستبدلن بالتبرج والسفور الحجاب والحشمة والوقار. فتيات في مقتبل العمر تركن الموضة ودور الأزياء فلحقت بهن دور الأزياء لكي لا تخسرهن وتجني الربح من ورائهن فصممت لهن أزياء تخاطب ذوق المسلمات (تنصاع له تارة وتحاول أن تطوعه ليسير في فلكها تارة أخرى). لقد تحول الاتهام فجأة من شفقة على امرأة مغلوبة على أمرها لتخوُّف من صوت امرأة علا صوتها ولكنها في الإطار الاستشراقي لا تزال "مغيبة مسلوبة الإرادة"، تحول الهاجس من امرأة محاصرة في الضواحي لامرأة معترف بها وحاضرة في المجتمع. لقد تصاعد صوت المسلمة ولكنها تشبثت بزيها حتى أصبح الأمر يشكل تهديداً للعلمانية المتطرفة وأثبت فشل سياسة ساركوزي في حظر النقاب فلم يزد الحظرُ المسلماتِ إلا ثباتا.

إن هذا الهوس الفرنسي من الزي الشرعي للمرأة المسلمة يثبت أن الحجاب ليس مجرد قطعة قماش بل هو رمز للإسلام يجابه صنم العلمانية، وهذه الهجمات الإعلامية كسابقاتها لن تزيد المسلمات إلا تمسكا وإصراراً وتعزيزا لهويتهن الإسلامية.

تهكمت وزيرة المرأة على زي المرأة المسلمة التي أعملت عقلها واختارت أن تكون أَمَةً للواحد القهار، فكشفت الوزيرة عما في صدرها من عنصرية وكراهية للإسلام وأهله، وعن ضيق أفقها. ولن يضير هذا من أدركت أن للكون إلهاً خالقاً مدبراً له الأمر من قبل ومن بعد. اختارت المسلمة شرع ربها فإذا بها تتيه على الكون به وترتدي الزي الشرعي وكأنه تاج على رأسها، فالحمد لله على نعمة الإسلام وبارك الله في هذه الأمة الإسلامية العظيمة.

﴿سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ * وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ * وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

هدى محمد (أم يحيى)

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست