الانتكاسة في الثورة: لماذا؟ وعلى من تقع المسؤولية؟
الانتكاسة في الثورة: لماذا؟ وعلى من تقع المسؤولية؟

الخبر:   يكثف النظام السوري الإجرامي هجماته على الغوطة الشرقية، فقسمها إلى أقسام حتى يتمكن من لقاء كل فصيل مسلح ليتفرد به فيقضي عليه، فيتفرج كل فصيل على ما يحدث لإخوته في المنطقة الأخرى ولا يتحرك لنصرته، وهكذا تمكن من إخراج فصيل "فيلق الرحمن" من منطقته في "دوما"، بعدما أخرج فصيل "أحرار الشام". والآن الدائرة على فصيل "جيش الإسلام" لإخراجه من منطقته في "دوما"! وقد وافقت هذه الفصائل على طلبات روسيا على إخراج "هيئة تحرير الشام" وغيرها، متوهمة أن العدو سوف يسكت عنها!

0:00 0:00
Speed:
March 28, 2018

الانتكاسة في الثورة: لماذا؟ وعلى من تقع المسؤولية؟

الانتكاسة في الثورة: لماذا؟ وعلى من تقع المسؤولية؟

الخبر:

يكثف النظام السوري الإجرامي هجماته على الغوطة الشرقية، فقسمها إلى أقسام حتى يتمكن من لقاء كل فصيل مسلح ليتفرد به فيقضي عليه، فيتفرج كل فصيل على ما يحدث لإخوته في المنطقة الأخرى ولا يتحرك لنصرته، وهكذا تمكن من إخراج فصيل "فيلق الرحمن" من منطقته في "دوما"، بعدما أخرج فصيل "أحرار الشام". والآن الدائرة على فصيل "جيش الإسلام" لإخراجه من منطقته في "دوما"! وقد وافقت هذه الفصائل على طلبات روسيا على إخراج "هيئة تحرير الشام" وغيرها، متوهمة أن العدو سوف يسكت عنها!

التعليق:

من الخبر يفهم الكثير؛ إن هذه الفصائل منفصلة عن بعضها البعض، بل هي متنافرة بقدر تنافر الداعمين لها، فكل فصيل تدعمه دولة وهي التي تتحكم فيه، وهذه الدول متنافرة حسب تبعيتها وحسب دورها الذي أوكلته لها الدولة الاستعمارية المتبوعة، فلعبت هذه الدول في الفصائل حسب مصالحها، ومنعتها من أن تنصر أخواتها من الفصائل التي تتعرض لهجوم وحشي فتقاوم وحيدة.

ولهذا كان اختلاف الفصائل واقتتالها؛ تعود كالكفار تضرب أعناق بعضها بعضا، فاستباحت سفك دماء مسلمين؛ مؤمن يقتل مؤمنا متعمدا! فما جزاؤه؟ وفي سبيل من؟ ولماذا؟ ألا يظن أولئك أنهم مبعوثون وموقوفون ومحاسبون؟ أم أصابتهم غفلة، وأعمتهم حفنة من النقود المسمومة، وغرتهم قطع السلاح ذات الأهداف المقيدة، فأصبحت أيديهم مكبلة، وعقولهم مقفلة عن سماع الحق، وخدعتهم سيطرتهم على المناطق التي أصبحوا فيها مطوقين ولا يفكرون في فك الطوق والنفاذ إلى مقر الطاغية، فتوهم كل فصيل أنه أصبح دولة، وإن كانت أقل من دولة البغدادي! والتي سيطرت على مساحات أضعاف مما سيطرت عليه الفصائل الأخرى، ثم اضمحلت إلى أن انحسرت في شعاب الجبال وأطراف القرى وبطون الصحاري والأودية...؟!

منعتهم هذه الدول الداعمة من دخول العاصمة والانقضاض على النظام وإسقاطه، حتى قال الذي عينوه لفترة وجيزة في وظيفة "كبير المفاوضين" فاغتر باللقب وتوهم أنه على وشك أن يصبح رئيسا للدولة السورية، قال إنه "لا توجد إرادة دولية" لاقتحام العاصمة! وكل فطن وواع يسأله: هل الثورة قامت بإرادة دولية حتى تأتمر بهذه الإرادة؟! وهل "الإرادة الدولية" تسمح بإسقاط النظام؟! بل إنها لا تسمح بقيام ثورة أية ثورة تخل بالنظام الدولي الذي أقامته وتحكمت فيه خاصة الدولة الأولى في العالم، وهي أمريكا، والتي تعتبر النظام السوري ضمن هذه المنظومة نظاما مشروعا تعترف به، وله ممثله في الأمم المتحدة بنيويورك في أمريكا، وله قنصلية عامة ما زالت فاعلة تمثله في إسطنبول بتركيا أردوغان كبير الخادعين، وله سفارات وقنصليات عامة ما زالت عاملة في أغلب الدول التي ادعت أنها صديقة للشعب السوري! فكيف ينخدع عاقل بذلك؟ وكيف يخضع ثائر لإرادة دولية؟! أنت ثائر على الإرادة الدولية، ولست نظاما داخل المنظومة الدولية التابعة لمقررات الأمم المتحدة ومجلس الأمن! لقد ثرت عليها فكيف تنتظر منها أن تنصفك أو تنصرك أو تسمح لك بالخروج عليها؟ أين العقل وأين الفهم؟! أم أنك تخدع نفسك بأنك ستحقق شيئا عن طريق المفاوضات أم أنهم خدعوك بأنهم سيحققون لك ذهاب قرينهم المجرم بشار؟

كان من المفروض شرعا أن تنصر الفصائل بعضها بعضا، لأن القضاء على فصيل معناه: الدور قادم على الفصيل الآخر، وهكذا حتى تنتهي كل الفصائل. لأنها كلها جنس واحد مهما اختلفت فيما بينها، هكذا ينظر إليها العدو، فهو لا ينظر إلى أن هذا الفصيل أفضل من ذاك، بل يريد القضاء على كل من يدعو إلى إسقاط النظام أو يدعو إلى عودة الإسلام. فكل نظام من الأنظمة القائمة في العالم الإسلامي يسعى للحفاظ على كيانه وعلى حدوده التي رسمها سايكس وبيكو، وكل الحكام يسعون للحفاظ على كراسيهم وعلى إرث عائلاتهم. فهل يعقل أنهم سينصرون ثائرا أو داعيا إلى الله؟!

كان من المفروض غريزيا أن يشكلوا جبهة واحدة مهما تعددت فصائلهم، لأن مصيرهم واحد، بل يجب عليهم أن يهاجموا العدو الذي يهاجم طرفا منهم، لأنه سيأتي على باقي الأطراف. أما أن يبقوا متفرجين على تناوله لأطرافهم ولا يفعلون شيئا كالأغنام التي تهاجمها الذئاب! فتلك مصيبة كبرى. علما أن الكلاب التي تتقاتل مع بعضها، إذا هوجمت تتحد في وجه المهاجم وتذب عن مصيرها المشترك!

لقد ابتليت الثورة بهذه الفصائل التي فقدت وعيها واتبعت الدول الإقليمية التي فرقتها وأوصلتها إلى هذه الحال، والتي لها مصالح خاصة ومصالح لأسيادها في الدول الكبرى التي تتبعها، ولا مصلحة لها بعودة الإسلام ولا بإسقاط النظام، لأن معنى ذلك أن الدور سيأتي على أنظمتها، لأنها لا تختلف عن النظام السوري من حيث إنها أنظمة عميلة تابعة للدول الكبرى وأنها لا تطبق الإسلام، بل تحارب الداعين لتطبيقه.

كان من المفروض أن ترفض الفصائل المفاوضات والمؤتمرات ووقف إطلاق النار تحت مسمى وقف التصعيد الذي لم يلتزم به النظام يوما واحدا، فكان يخرقة مستغلا ذلك للهجوم عليها وعلى المناطق المحررة، ولا أحد يضغط عليه ليوقفه عند حده، وهو مدعوم من روسيا مباشرة ومن الإرادة الدولية بصورة غير مباشرة. فابتليت الفصائل بقادة هواة في العمل المسلح وفي العمل السياسي، وكذلك بمفتين هواة لا مجتهدين ولا علماء، بل منهم من يفتي بفتاوى حسب إرادة دول داعمة ضاغظة حتى تجعل هذه الفصائل تتنازل عن ثوابتها وأهدافها وراياتها حتى عن أسمائها!

كان من المفروض أن تتبع هذه الفصائل قيادة سياسية واعية مخلصة، حتى يتم التنسيق فيما بينها في كيفية تحقيق الهدف المشترك، وفي اتخاذ المواقف المشتركة، وتحديد الآراء المشتركة، وفي رسم الخطط سواء في الدفاع عن بعضها بعضا أو الهجوم على النظام لإسقاطه، فتتبعها بتوجيهاتها لتكون هذه الفصائل التي ملكت القوة أهلا للنصرة، حتى تتمكن تلك القيادة السياسية من بناء دولة عظيمة. علما أن هذه القيادة موجودة بين ظهرانيهم وهي ناصحة أمينة لهم؛ فحذرتهم ونصحتهم فيما سبق ذكره، وهي واعية على فكرتها وعيا تاما، فلديها الأفكار والبرامج الناضجة والجاهزة للتطبيق ولديها الرجال القادرون والقديرون الذين يتصفون بصفة رجل الدولة ألا وهي قيادة حزب التحرير، فهلا وثقوا بها وأصغوا لها وارتبطوا بها بدلا من ارتباطهم بتلك الدول التي لا تدعمهم في الحقيقة وإنما تخدعهم وتهلكهم، وقد ثبت ذلك لهم بالدليل القاطع؟ ﴿إِنَّ فِي ذَلِكَ لَذِكْرَى لِمَن كَانَ لَهُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أسعد منصور

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست