علاقة العسكر بالسياسة والدولة البوليسية نظرة في ميزان الإسلام
علاقة العسكر بالسياسة والدولة البوليسية نظرة في ميزان الإسلام

الخبر:   قال رئيس مجلس السيادة القائد العام للقوات المسلحة عبد الفتاح البرهان في حوار على قناة السودان مساء السبت الموافق 12 شباط/فبراير 2022م: "إن الجيش سيخرج من كافة الأطر السياسية متى ما حصل توافق وطني أو قامت الانتخابات"، وأكد أنه لا يريد أن يحكم ولا يريد الجيش أن يحكم، مشيراً إلى أن "السودان منذ الاستقلال ظل يدور في حلقة مفرغة بين المدنيين والجيش". كما أشار إلى أن "المؤسسة العسكرية على قلب رجل واحد تريد أن تسلّم نفسها لحكومة منتخبة، حتى لا تعبث أي جهة بهذه المؤسسة في ظل الخلافات السياسية القائمة".

0:00 0:00
Speed:
February 23, 2022

علاقة العسكر بالسياسة والدولة البوليسية نظرة في ميزان الإسلام

علاقة العسكر بالسياسة والدولة البوليسية

نظرة في ميزان الإسلام

الخبر:

قال رئيس مجلس السيادة القائد العام للقوات المسلحة عبد الفتاح البرهان في حوار على قناة السودان مساء السبت الموافق 12 شباط/فبراير 2022م: "إن الجيش سيخرج من كافة الأطر السياسية متى ما حصل توافق وطني أو قامت الانتخابات"، وأكد أنه لا يريد أن يحكم ولا يريد الجيش أن يحكم، مشيراً إلى أن "السودان منذ الاستقلال ظل يدور في حلقة مفرغة بين المدنيين والجيش". كما أشار إلى أن "المؤسسة العسكرية على قلب رجل واحد تريد أن تسلّم نفسها لحكومة منتخبة، حتى لا تعبث أي جهة بهذه المؤسسة في ظل الخلافات السياسية القائمة".

التعليق:

إن ولوج المؤسسة العسكرية إلى الساحة السياسية وأخذها زمام السلطة ودخولها في صراع الحكم مع المؤسسة المدنية هو موضع نقاش وجدل، وله خلفيته ومنعكسه السياسي في تاريخ السودان منذ إيجاد وإثارة فكرة الاستقلالية والسيادة الذاتية المزعومة والتحرر من المستعمر الأجنبي.

فإذا استعرضنا بإيجاز مسلسل التصارع والتنافس على السلطة بين المؤسستين العسكرية والمدنية نجد أن أولى الحكومات التي تشكلت بالسودان عقب خروج المستعمر الإنجليزي كانت الأولى من نوعها ديمقراطية مدنية بقيادة إسماعيل الأزهري عام 1956م، والتي كان لحزبَيْ الاتحاد الديمقراطي والأُمّة دور رئيس في قيامها وتكوينها، ثم ما لبثت هذه الحكومة ثلاثة أعوام حتى انتفض عليها في تشرين الثاني/نوفمبر 1958م الجنرال إبراهيم عبود بانقلاب عسكري كان الأول من نوعه ضمن أحداث سلسلة صراع الحكم بين العكسر والمدنيين في السودان، وكان من أبرز الإجراءات التي اتخذها الجنرال عبود بعد استيلائه على السلطة حل الأحزاب السياسية وتعطيل الدستور وعسكرة البلاد.

وكان للحركة الطلابية المعارضة بجامعة الخرطوم التي أشعلت شرارة الثورة وقادت دفة الانتفاضة ضد عبود، كان لها دور بارز في إنهاء وإسقاط الحكومة عام 1964م.

وفي 25 من أيار/مايو 1969م وبعد تجربة حكم ديمقراطي ثانٍ بالبلاد تمكن من إنهائه وطي صفحته العقيد جعفر نميري بانقلاب عسكري، وبخلاف نهج وطريقة الجنرال عبود، شرع النميري في تكوين حاضنة سياسية حزبية عقب حله مجلس الثورة بمسمى "حزب الاتحاد الإشتراكي" 1972م، وكان الحزب الوحيد المسموح له بممارسة الأنشطة السياسية، تلا ذلك تقلبات عدة واختلافات سياسية بينه وبين وسطه السياسي، ومن جراء ذلك بدأ في البحث عن حاضنة بديلة بمغازلة ومهادنة الإسلاميين حيث كانت أُولى خطواته تأكيداً لذلك، عقدَهُ مصالحةً وطنية مع زعيم حزب الأمة آنذاك الصادق المهدي 1977م. وأقر بعض أحكام الحدود بمشاركة حسن الترابي، حيث نتج عن ذلك إثارة وتجديد الحرب الأهلية في جنوب السودان وزعزعة الأوضاع في شماله ما حفز الانتفاضة الشعبية والإطاحة به في نيسان/أبريل 1985م.

وفي 30 حزيران/يونيو 1989م انقلب العميد ركن عمر حسن أحمد البشير على الحكومة الموالية لبريطانيا، حيث جاء انقلابه بصفة وغطاء الطابع العسكري تحت مسمى "ثورة الإنقاذ الوطني" بدوافع وطنية على حد زعمه، ثم اتضح أنه من عملاء أمريكا، وقد أسندت إليه مهمة تفتيت السودان بإثارة موضوع الجنوب بغطاء إسلامي فنجح في فصله عن الشمال.

وبتتبع تاريخ السودان، نجد أن الانقلابيين يدّعون قيامهم بدور المنقذ بعد مرحلة حكم مدنية فاشلة في إدارة البلاد أدت إلى تردي الأوضاع السياسية والأمنية والاقتصادية، ثم تأتي الانقلابات لتنهي مخاض تجارب مدنية تصارع البلاد فيها خطر الفناء والتشرذم والتفتيت كما يدعي الانقلابيون.

إن الإسلام العظيم فرّق بين الحكم والسلطان باعتباره رعاية شؤون الناس بأحكام الشرع، وبين الجيش والقوة ومهامها، فالقوة في الدولة ليست رعاية شؤون الناس، ولا تصريفاً لأمورهم، وإن كان وجودها وتكوينها وتسييرها وإعدادها لا يتأتّى بدون سلطان، فالقوة عبارة عن كيان مادي يتمثل في الجيش ومنه الشرطة؛ ينفذ به السلطان الأحكام ويقهر به المجرمين والفسقة، ويقمع به الخارجين عن سلطان الدولة، ويصد به المعتدين؛ ويُتخذ أداة لحماية السلطان، وحماية ما يقوم عليه من مفاهيم وأفكار، وحملها إلى الخارج.

لذلك لا يجوز شرعاً أن يصبح السلطان قوة، لأنه إذا تحول السلطان إلى القوة فسدت رعايته لشؤون الناس، وتصبح مفاهيمه ومقاييسه هي القمع والقهر والتسلط وليست الرعاية ويصبح حكماً بوليسياً ليس له إلا الإرهاب والكبت وسفك الدماء ما ينتج الخراب والضرر بالأمة وتخريج أجيال يتملكهم الرعب بدل الشجاعة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

الدكتور مازن النو – ولاية السودان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست