العقيدة الإسلامية عقيدة سياسية
العقيدة الإسلامية عقيدة سياسية

الخبر:   نشر الدكتور السيد ولد أباه مقالة بعنوان "الإسلام واللاهوت السياسي" في صحيفة الاتحاد الإماراتية الصادرة يوم الاثنين 2017/8/21، نزع فيها الصفة السياسية عن العقيدة الإسلامية، حيث يفتتح مقالته بقوله: "من المثير حقاً الفرق الجوهري بين مركزية الدولة في خطاب الإسلام السياسي الراهن وضآلة الاهتمام بالمسألة السياسية عموماً في التقليد الإسلامي عقيدة وفقهاً وأخلاقاً. فإذا كان المتكلمون السنة درجوا على تناول موضوع الإمامة في كتب العقيدة، إلا أنهم يحرصون على التأكيد أنها ليست من أصول الاعتقاد بل هي من الظنيات التي لا يقين فيها، مكتفين بأطروحتين أساسيتين: وجوب نصب الإمامة لاتقاء الفتنة وصيانة وجود الجماعة، والنص على آلية الاختيار والبيعة ضمن شروط مرنة تراعي خصوصيات الظرفية التاريخية للأمة".

0:00 0:00
Speed:
August 22, 2017

العقيدة الإسلامية عقيدة سياسية

العقيدة الإسلامية عقيدة سياسية

الخبر:

نشر الدكتور السيد ولد أباه مقالة بعنوان "الإسلام واللاهوت السياسي" في صحيفة الاتحاد الإماراتية الصادرة يوم الاثنين 2017/8/21، نزع فيها الصفة السياسية عن العقيدة الإسلامية، حيث يفتتح مقالته بقوله: "من المثير حقاً الفرق الجوهري بين مركزية الدولة في خطاب الإسلام السياسي الراهن وضآلة الاهتمام بالمسألة السياسية عموماً في التقليد الإسلامي عقيدة وفقهاً وأخلاقاً. فإذا كان المتكلمون السنة درجوا على تناول موضوع الإمامة في كتب العقيدة، إلا أنهم يحرصون على التأكيد أنها ليست من أصول الاعتقاد بل هي من الظنيات التي لا يقين فيها، مكتفين بأطروحتين أساسيتين: وجوب نصب الإمامة لاتقاء الفتنة وصيانة وجود الجماعة، والنص على آلية الاختيار والبيعة ضمن شروط مرنة تراعي خصوصيات الظرفية التاريخية للأمة".

التعليق:

أود طرح بعض الأسئلة الشرعية على كاتب المقال، حول عدد من الآيات الكريمة، منها قوله تعالى في سورة النور: ﴿الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ...﴾، هل الحكم الموجود في الآية الكريمة من أركان العقيدة أو أفكارها؛ أم هو حكم عملي؟ والسؤال نفسه في قوله تعالى في سورة المائدة: ﴿وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا...﴾، والسؤال نفسه يطرح على الكاتب حول عشرات الآيات التي تضمنت أحكاماً شرعية تنظّم سلوك الفرد والمجتمع. لو رجع كاتب المقال إلى كتب الفقه لوجد أن الفقهاء يبحثون هذه المسائل في الفقه وليس في العقيدة لأنها أحكام عملية لتنظيم العلاقات في المجتمع.

والسؤال الثاني: ما الحكم الشرعي في من يُنكرُ الحكم الشرعي الوارد في تلك الآيات؟ أليست تلك الآيات قطعية الثبوت قطعية الدلالة؟ أي أن منكر الحكم الموجود فيها كافر عند جميع الفقهاء لوروده في نص قطعي الثبوت قطعي الدلالة. فليرجع كاتب المقال إلى كتب الفقه ليتأكد من ذلك.

والسؤال الثالث: من الذي يطبّق هذه الأحكام الشرعية؟ أليس إمام المسلمين وخليفتهم هو الذي يقيم شرع الله ويطبق الحدود على الناس في المجتمع؟ ولا يجوز لفرد غير الإمام أو من ينيبه عنه مهما كانت صفته أن يطبق هذه الحدود، فليرجع كاتب المقال ولينظر في كتب الفقه وليتأكد من ذلك.

خلاصة الأسئلة السابقة: ليس بالضرورة أن يكون الأمر من أصول الاعتقاد حتى يكون الاهتمام به أكثر من غيره، وثمرة مسألة القطعي والظني عند الأصوليين والفقهاء إنما هي للتفريق بين ما يجب اعتقاده، وما يحرم اعتقاده، أما العمل بالنصوص الشرعية فلا خلاف بين علماء الأمة قديمهم وحديثهم في وجوب العمل بالظني، سواء أكان وارداً في القرآن الكريم أم في السنة النبوية.

ومسألة تحكيم شرع الله تعالى في كيان سياسي لم يختلف فيها علماء الأمة وفقهاؤها، وللاختصار أحيل الكاتب إلى مكان جمع قدراً كبيراً من أقوال علماء الأمة في وجوب وجود كيان سياسي للمسلمين يتمثل في دولة الخلافة على منهاج النبوة في صفحة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير.

وأمر آخر يستحق الوقوف عنده في مقال الكاتب وهو استنتاجه الغريب في نهاية مقاله بقوله: "ومن هنا يتسنى لنا القول إن ربط العقيدة بالسياسة في الإسلام ليس سوى بدعة مستحدثة في الفكر الإسلامي"، فلعله قد غاب عن بال كاتب المقال أن السياسة تعني رعاية الشؤون، وهل هناك ما هو أولى من الإسلام (عقيدة تنبثق عنها معالجات الحياة) أن يكون عقيدة سياسية؟ إن الإسلام بوصفه مبدأً هو مبدأ سياسي، وعقيدته عقيدة سياسية، وأحكامه الشرعية سياسية، لأنها ترعى شؤون الإنسان بوصفه فرداً في مجتمع، فحددت له نظرته في الحياة ومقاييسه وقناعاته ومثله الأعلى، ونظمت سلوكه بما انبثق عن عقيدته... وجريا على طريقة الكاتب في التفريق بين العقدي والعملي: هل يُقبل من معتنق الإسلام أن يؤمن بالله خالقاً ولا يؤمن به حاكماً ومشرعاً، ولا يؤمن بوجوب طاعته في كل شيء؟! هل يقبل من معتنق الإسلام أن يؤمن بمحمد rرسولاً ولا يؤمن بوجوب اتباعه في كل ما جاء به؟! هل يقبل من معتنق الإسلام أن يؤمن بالقرآن ولا يؤمن بوجوب تطبيق ما جاء فيه؟! هل يقبل من معتنق الإسلام أن يؤمن باليوم الآخر ولا يؤمن بوجوب تسيير أعماله كلها في الدنيا بحسب أوامر الله ونواهيه استعداداً لليوم الآخر؟!

إن ارتباط العقيدة الإسلامية بالسياسة برز في أرض الواقع من أول ساعة حطت فيها قدما رسول الله r الشريفتان أرض المدينة المنورة، معلناً قيام أول دولة إسلامية في التاريخ، وسار على ذلك الصحابة والتابعون ومن تبعهم حتى سنة 1924م، وهي السنة التي هدمت فيها الخلافة، وقبل ذلك لم يفصل المسلمون بين العقيدة الإسلامية والسياسة، بل كانوا يطبقون الإسلام في دولة إسلامية اسمها الخلافة، التي أمر الإسلام بإقامتها في نصوصه الشرعية الكثيرة، ولعل كاتب المقال يعاود النظر في كتب الفقه، ولينظر في الرابط الذي وضعته له في الأعلى ليتأكد من ذلك.

أما الفصل بين الإسلام والسياسة فإنه هو البدعة المستحدثة بتأثير الغزو الفكري الغربي والمدّ العلماني، ولم يقل به أحد من علماء الأمة القدماء، ولم يعرفها المسلمون طوال تاريخ دولتهم الخلافة لثلاثة عشر قرناً من الزمن، وأدعو الكاتب لأن يوسّع اطلاعه على كتب الفقه، ليجد خلاف ما يقول.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

خليفة محمد – الأردن

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست