الأردن بين عجز الموازنة وارتفاع المديونية وسخط الشعب
الأردن بين عجز الموازنة وارتفاع المديونية وسخط الشعب

الخبر:   سرايا – وكالات أنباء: "لم تكتف الحكومة برفع الدعم عن الخبز والذي يمثل شريان الحياة للكثير من أهل الأردن، بل إنها ستنتقل إلى سلع أخرى لا تقل أهمية، وعدم القدرة على شرائها سيشكل خطرا وتهديدا على صحة الإنسان وهي "الأدوية" وزيادة الضريبة عليها، وقد زادت نسبة ارتفاع كلفة المعيشة في الأردن عن 18%".

0:00 0:00
Speed:
January 24, 2018

الأردن بين عجز الموازنة وارتفاع المديونية وسخط الشعب

الأردن بين عجز الموازنة وارتفاع المديونية وسخط الشعب

الخبر:

سرايا – وكالات أنباء: "لم تكتف الحكومة برفع الدعم عن الخبز والذي يمثل شريان الحياة للكثير من أهل الأردن، بل إنها ستنتقل إلى سلع أخرى لا تقل أهمية، وعدم القدرة على شرائها سيشكل خطرا وتهديدا على صحة الإنسان وهي "الأدوية" وزيادة الضريبة عليها، وقد زادت نسبة ارتفاع كلفة المعيشة في الأردن عن 18%".

التعليق:

ليس هناك شك أن الأردن يعاني من أزمة مالية واقتصادية حقيقية سواء من خلال رفع أسعار الخبز والأدوية والمحروقات ورفع الضرائب أو من خلال زيادة المديونية، حيث زادت قيمة فوائد وخدمة الدين التي ترتبت على الحكومة عن 95% من حجم الناتج المحلي. فهذه أمور لا شك أصبحت مصدر قلق للحكومات المتعاقبة ومنبع ضنك وشظف عيش للشعب، ودافع أساس للبحث عن حلول جذرية للمشكلة والأزمة. ولا يظنن أحد أن الاحتجاجات والاعتصامات المزمعة بداية شهر شباط ستأتي بالبلسم الشافي، بل إن غاية ما يمكن أن تصل إليه هي تغيير حكومة هاني الملقي كليا أو جزئيا، لتبدأ دورة جديدة من زيادة أسعار وضرائب ترهق كاهل الناس ثم تنتهي بتغيير حكومة وهكذا...

المشكلة في الأردن ليست اقتصادية ولا مالية وإن كانت هذه من أهم مظاهرها. المشكلة تكمن أصلا في نشأة الأردن وبناء دولته في أعقاب بروز قضية إنشاء وطن قومي ليهود في فلسطين وتقسيم بلاد المشرق العربي ضمن اتفاقية سايكس بيكو وسان ريمو، حيث تمت المصادقة على إنشاء دولة ليست لها أي مقومات اقتصادية وتعهدت بريطانيا بتوفير الدعم المالي اللازم لاستمرار هذه الدولة ريثما يتم الانتهاء من القضايا العالقة وأهمها مصير أهل فلسطين وكيان يهود.

ومنذ نشوء الأردن وهي تعتمد بشكل أساسي على المساعدات الخارجية من دول الخليج والسعودية والمساعدات والمنح الدولية والقروض. ولم يتم بناء أي بنية اقتصادية ذاتية تتمكن بها الأردن من سداد حاجاتها الأساسية وتوفير عيش مستقر لمن يسكنها. وكانت ولا زالت تتعيّش على ما يصيب المنطقة من هزات وزلازل ابتداء من قضية لاجئي فلسطين، ومشكلة لبنان في ثمانينات القرن الماضي، ثم اللجوء العراقي، وآخرها اللجوء السوري. وكانت هذه الأزمات تعد سببا كافيا لاستمرار الدعم المالي للأردن بحيث يستمر تدفق الهبات والمساعدات. والنتيجة النهائية في المحصلة أن الأردن وصل إلى عام 2018 أي بعد حوالي مئة عام على وجوده وهو مفتقر إلى أي شكل من أشكال الإنتاج الاقتصادي، فهو إلى الآن ليست لديه محاصيل زراعية كافية لتغطية حاجاته، وما برح يهدد برفع أسعار الخبز المستورد طحينه من الخارج، حتى تجرأ أخيرا على مضاعفة سعره ولا يزال يلوح بالمزيد. أما الصناعة فلا يملك الأردن أي شكل من أشكال التصنيع الدائم الذي يدر له دخلا مناسبا. فالإنفاق على استيراد التلفونات الخلوية وحده كاف أن يوجد في الأردن مصانع للتلفونات وغيرها. ومثل ذلك السيارات والدراجات والجرارات وغيرها من الآلات. أضف إلى ذلك أن الأردن لم يصرف جهدا حقيقيا لاستخراج المعادن الثمينة من باطن الأرض سواء من النفط أو الغاز أو اليورانيوم أو الكوبلت أو النحاس أو غيره.

وفي المحصلة بات الأردن فقيرا إلى أدقع أنواع الفقر وليست له موارد حقيقية أبدا. أما الموارد المعتمدة على الهبات والمنح والقروض فهي قطعا ليست حقيقية ولا دائمة. وأما الموارد المعتمدة على جيوب الناس فهي ضغث على إبالة ولا تزيد الطين إلا بلة.

من هنا فإن المتبصر في أمر هذه الدويلة التي أنشئت لظرف خاص، يجد أن الحل الجذري يكمن في إعادة النظر بهذا الكيان الذي وجد أولا على مقاس أمير ثم ملك، وثانيا وجد مرحليا للانتهاء من قضية شائكة. بمعنى أنه لا بد من الإقرار أن هذه الدويلة يجب أن تُرد إلى أصل من الأصول الثابتة كبلاد الشام أو الجزيرة العربية. والتي تملك مقومات الدول وفيها إمكانية بناء اقتصاد ثابت إن وجدت الإرادة السياسية المستندة إلى عقيدة الأمة ومبدئها. وهذا يعني بالضرورة إعادة النظر بالأساس الذي تقوم عليه دول المنطقة المحاذية للأردن. وهذا الأساس المبني على العرق والمصلحة الخاصة والإقليمية الضيقة وحكم العوائل قطعا لا يمكّن من الحل المنشود. وبالتالي فإن حل مشكلة الأردن تقتضي بالضرورة حل مشكلة الحكم والأساس الذي يقوم عليه الحكم في الدول المجاورة كي يتسنى التفكير بأي حل صحيح.

وهذه مسألة تقود حتما إلى البحث عن نظام سياسي يقوم على مبدأ صحيح، وينتج عن نفس المبدأ نظام اقتصادي متين قابل لحل المشاكل بصورة جذرية، بل وإيجاد مناخ اقتصادي ومالي ينتج عنه سعادة الناس وقوة الدولة والمجتمع لا ضنك العيش وتفكك الدولة وتأزم المجتمع.

والمبصر بعين الحق يجد أن مبدأ الإسلام بعقيدته ونظامه هو الوحيد الكفيل بإخراج الأردن من أزمته ومعه الدول المجاورة والمحيطة، بل وإخراج الناس في هذه البلاد كما بيّن ربعي بن عامر من ضيق الدنيا وشظف عيشها إلى سعة الدنيا والآخرة، ومن عبودية العباد والأزلام والعائلات إلى عبودية رب العباد ومن ظلم الرأسمالية وجورها إلى عدل الإسلام.

﴿وَالسَّمَاء رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ * أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ * وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. محمد الجيلاني

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست