الأردن والانجراف للهاوية!
الأردن والانجراف للهاوية!

الخبر:   تحت عنوان "الأردن يتهم تنظيم الدولة بهجوم الركبان ويتوعده" ذكرت الجزيرة نت على موقعها الإلكتروني يوم الأربعاء 22 حزيران، ما مفاده أن الحكومة الأردنية اتهمت تنظيم الدولة بالوقوف خلف الهجوم المسلح الذي تعرضت له القوات الأردنية في منطقة الركبان على الحدود بينها وبين سوريا، حيث كانت القوات الأردنية قد تعرضت لهجوم بسيارة ملغمة على موقع عسكري تابع للجيش الأردني، أدى إلى مقتل ستة عسكريين أردنيين وجرح أربعة عشر آخرين.

0:00 0:00
Speed:
June 23, 2016

الأردن والانجراف للهاوية!

الأردن والانجراف للهاوية!

الخبر:

تحت عنوان "الأردن يتهم تنظيم الدولة بهجوم الركبان ويتوعده" ذكرت الجزيرة نت على موقعها الإلكتروني يوم الأربعاء 22 حزيران، ما مفاده أن الحكومة الأردنية اتهمت تنظيم الدولة بالوقوف خلف الهجوم المسلح الذي تعرضت له القوات الأردنية في منطقة الركبان على الحدود بينها وبين سوريا، حيث كانت القوات الأردنية قد تعرضت لهجوم بسيارة ملغمة على موقع عسكري تابع للجيش الأردني، أدى إلى مقتل ستة عسكريين أردنيين وجرح أربعة عشر آخرين.

التعليق:

إن هذا الخبر يلفت النظر إلى عدة قضايا متداخلة، تشكل معطيات مهمة يجب الانتباه لها حين النظر له ومسألة المناكفات بين تنظيم الدولة والأردن بشكل عام، من زاوية العقيدة الإسلامية التي تحتم على المسلم أن يكون فطناً نبيهاً، يتبنى قضايا أمته ويعمل لكشف ما يُحاك ضدها.

فأولاً: إن مسألة هجوم تنظيم الدولة على مواقع عسكرية للجيش الأردني، رغم التحصينات الأمنية الشديدة للحدود بين الأردن وسوريا لتثير العجب، في الوقت الذي تعجز فيه قوات التنظيم عن الوصول لدمشق وضرب قوات النظام السوري التي تقتل وتنكل في أهل الشام. فهل نظام دمشق أكثر قوة وتحصيناً من الحدود الأردنية؟ أم أنها المصالح والأوامر التي تلقى من أعلى فلا يستطيعون لها رداً.

ثانياً: ردة الفعل التي أبداها النظام الأردني على هذا الخبر والتي تمثلت حسب الجزيرة بإعلان المناطق الحدودية مع سوريا والعراق مناطق عسكرية مغلقة، وتوعُّدِ عبد الله الثاني بملاحقة منفذي الهجوم. حيث "أكد - خلال اجتماع طارئ عقده مع مسؤولين عسكريين وأمنيين ومدنيين عقب الهجوم - أن "الأردن سيضرب بيد من حديد كل من يعتدي أو يحاول المساس بأمنه وحدوده".. ردة الفعل هذه تكشف تورط النظام وعمالته، وهو الذي يعتبر لاجئي سوريا مصدر قلق لوجود خلايا نائمة بينهم، كما صدر عن مصادر حكومية.

في الوقت الذي يمكن للجيش الأردني أن ينقض على النظام الحاكم في سوريا، وينقذ أهل الشام من محنتهم ويعينهم على نكبتهم، إلا أن النظام يصر على توريط الجيش في حرب لا ناقة له فيها ولا جمل، لم يكتفِ بخذلان نساء وأطفال سوريا والتنكيل بهم في مخيمات الموت، بل ها هو يشن حرباً على تنظيم الدولة ويترك المجرم الأكبر.

ثالثاً: إن هذه الحادثة والهجوم على الجيش الأردني، وردة فعل الحكومة، تذكرنا باعتقال الداعية الإسلامي أمجد قورشة، بعد نشره لمقطع فيديو على الإنترنت يتحدث فيه عن مشاركة الأردن في الحلف الدولي، وعن نوايا خارجية مبيتة لتوريط الأردن في قضية لا ناقة له فيها ولا جمل، حسب ما جاء في الفيديو. فهل حدث ما توقعه قورشة من مخططات أمريكا الهادفة لتوريط الجيش في حرب تنظيم الدولة التي لا تخدم إلا أجندة غربية رخيصة تُراق فيها دماء المسلمين، وأثبتته عمالة النظام الأردني بالزج بالجيش لحرب تنظيم الدولة؟

أخيراً: إن النظام الأردني لا يخدم إلا الغرب الكافر، وهو لا يألو جهداً في محاربة المخلصين من المسلمين الداعين إلى الانعتاق من التبعية للنظام الدولي والاحتكام لشريعة الرحمن سبحانه، وقد أثبتت السنوات الماضية تورط النظام بشكل كامل في نشر الفساد والفاحشة بين الشباب، والتطبيع العلني مع كيان يهود الغاصب للأرض المباركة فلسطين. وهو بذلك يلقي بالبلاد في الهاوية ويجرها للسقوط بعد أن جعلها على شفا جرفٍ هارٍ، باعتقاله للمخلصين من حملة الدعوة أمثال الدكتور إياد قنيبي، وأحمد الجمل، وعمر التل، والداعية أمجد قورشة وليس أخيراً حامل الدعوة إسلام سلامة. وجريمة هؤلاء وغيرهم كثيرون هي: "أن يقولوا ربنا الله".

إننا ها هنا نتساءل كما تساءل الأخ إسلام سلامة الذي اعتقل بسبب نُصرة الداعية قورشة: "كم شخصاً حاكمتم بتهمة الإلحاد ونشر العلمانية"؟

إن ما يجري في الأردن يستدعي وقفة جادة مخلصة من كل غيور على دينه وأرضه وبلاده، من كلِّ حريص على أبناء دينه وبلده من أن يُستدرجوا لتذهب دماؤهم هدراً خدمةً لمصالح أمريكا وبريطانيا في المنطقة. وهذا يستلزم الحزم والحسم من أبناء الحركات الإسلامية كلها، وعشائر الأردن ورجاله الأخيار بأن يقفوا في وجه النظام، ويكشفوا المخطط ويضعوا أبناء الجيش على هدى وبينة، ليكونوا في المسار الصحيح الذي يرضي الله عنهم، فيكونوا حماةَ الديار بحق، ودرعاً لأمتهم منحازين لفسطاط المؤمنين، ويقطعوا دابر أمريكا ومن معها من بلادنا. فالنظام متورط في العمالة ولا تنفع معه الحسنى، ولا يُقال: "ولي أمر".. فما كان لعدونا أن يصول ويجول لولا أنه وجد حارساً أميناً يحمي مصالحه.

لا يُلام الذئب في عدوانه *** إن يكُ الراعي عدوَّ الغنم

﴿وَٱتَّقُواْ فِتۡنَة لَّا تُصِيبَنَّ ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ مِنكُمۡ خَآصَّةٗۖ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ﴾ [الأنفال: 25]

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أختكم بيان جمال

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست