الأردن ومأزق معارك أبو تايه
الأردن ومأزق معارك أبو تايه

الخبر:   أصدرت محكمة أمن الدولة في الأردن حكما بالأشغال الشاقة مدى الحياة على الجندي معارك أبو تايه بعد إدانته بتهمة القتل القصد لثلاثة جنود أمريكيين في قاعدة الجفر الجوية

0:00 0:00
Speed:
July 23, 2017

الأردن ومأزق معارك أبو تايه

الأردن ومأزق معارك أبو تايه

الخبر:

أصدرت محكمة أمن الدولة في الأردن حكما بالأشغال الشاقة مدى الحياة على الجندي معارك أبو تايه بعد إدانته بتهمة القتل القصد لثلاثة جنود أمريكيين في قاعدة الجفر الجوية.

التعليق:

بعد أن كانت الحكومة الأردنية قد أعلنت أن الجندي معارك أبو تايه كان قد طبق قواعد الاشتباك العسكري وأنه قام بواجبه أثناء تأدية الخدمة والتي نتج عنها مقتل ثلاثة من الجنود الأمريكيين في قاعدة الجفر الجوية، إلا أن الحكومة الأردنية وتحت ضغوط سياسية كبيرة من أمريكا أعادت النظر في موقفها وحكمت على الجندي الأردني خلافا لما تفعله أمريكا نفسها مع جنودها حين يرتكبون جرائم قتل في قواعدهم التي يديرونها سواء داخل أمريكا أو خارجها، كما حدث في قضايا القتل والاغتصاب التي ارتكبها جنود أمريكيون في اليابان وألمانيا...

وأثار الحكم الصادر بحق الجندي معارك أبو تايه قبيلة الحويطات التي ينتمي لها معارك أبو تايه وهي من أكبر قبائل جنوب الأردن، ولها ينتمي عودة أبو تايه الذي رافق لورنس العرب في حربه ضد الجنود العثمانيين في حامية العقبة ومعان، وهو من أوائل من أيد مجيء الأمير عبد الله إلى الأردن وتنصيبه أميرا لإمارة شرق الأردن الانتقالية، وكان يسمى عودة أبو تايه الأمير من قبل لورنس العرب.

ولا يخفى على أي سياسي ذي خبرة ولو بسيطة في مداخل الأعمال السياسية أن الحكم الصادر بحق الجندي معارك سوف يثير حفيظة القبيلة التي تعتبر نفسها أم الحكم وحاميته في الأردن. وذلك ما حصل بالفعل حيث تحرك أبناء عشائر الحويطات ومعهم عشائر أخرى للتنديد بالحكم واتهام الحكومة بتنفيذ قرارات سياسية أملتها عليها أمريكا.

كذلك لا يخفى أن أمريكا نفسها تعلم أن الحكم على الجندي سوف يسبب قلاقل ليست هينة لحكومة الأردن وللعائلة الحاكمة، أي للملك نفسه. فالمتتبع للسياسة الأمريكية المتعلقة بالأردن يجد أنها خلال الأعوام السابقة تعمل على الزج بالأردن في أزمات متلاحقة قد تؤدي إلى هز كيانها السياسي بحيث يسهل إحكام الهيمنة الأمريكية عليه.

فقد حاولت أن تزج بالأردن في معركة ميدانية مع تنظيم الدولة حين قامت الأخيرة بإعدام الطيار معاذ الكساسبة. ويذكر أن خبر الإعدام قد جاء في اللحظة التي كان ملك الأردن مجتمعا مع باراك أوباما في البيت الأبيض وعاد من أمريكا متحمسا لحرب تنظيم الدولة. إلا أن بريطانيا ساعدت الملك على الخروج من المأزق ولم يتورط الأردن في حرب التنظيم. ثم رفض الأردن وبكل حزم دخول قواته البرية إلى الأراضي السورية بحجة إقامة مناطق آمنة فيها، وبالتالي التورط بحرب برية. وبعد مجيء ترامب لحكم أمريكا عاود الكرة لإقحام الأردن بمعركة قد تزلزل النظام حتى وإن نجحت عسكريا، وامتدح ترامب الأردن بقوله إن في الأردن جنوداً شجعان. وهكذا لم تترك أمريكا فرصة إلا اتخذتها لإيجاد أرضية خصبة لزعزعة النظام في الأردن. ولا تزال تمسك أمريكا بصاعق قنبلة موقوتة وهي الديون المتراكمة على الخزينة، والتي يكفي أن يقوم البنك وصندوق النقد الدوليين بمطالبة الأردن بمزيد من الإصلاحات ورفع الأسعار وعدم جدولة الديون المتراكمة.

والآن وجدت أمريكا في قضية الجندي معارك فرصة ذهبية للزج بنظام الحكم في الأردن في أتون الصراع مع كبرى القبائل والتي تعتبر نفسها من مؤسسي المملكة ومن أهم دعائم الحكم فيها. فالحكم على معارك بالسجن مدى الحياة ليس له قيمة مهمة لدى أمريكا خاصة وأن تبرير العملية من الناحية العسكرية معقول. وكان من الممكن أن تقبل أمريكا بتعويض مادي تدفعه الحكومة بكل سرور كما حصل مع أحمد الدقامسة حين قتل سبعة من يهود في الباقورة. وأمريكا لا تجهل أبدا نتائج هذا الحكم على زعزعة نظام الحكم في الأردن وإعادة النَّفَس ونفخ الحياة في الحراك الذي جمد منذ فترة ليس في الأردن فحسب بل في العالم العربي كله.

إن النظام في الأردن قد اتخذ مواقف عدائية من شعبه سواء على الصعيد الاقتصادي الذي أرهق حياة الشعب وزاد من فقره وشظف عيشه، أم على الصعيد السياسي الذي لا يزال يقف لكل مطالب الناس الإصلاحية بالمرصاد، وبدل أن يتجاوب معها إيجابيا عمد إلى إصدار قانون عقوبات مغلظ يجعل ما بين السجن وبين الشخص كلمة أو تعليقا ولو حتى إعجابا على صفحات الفيسبوك. ولذلك لا يوجد ما يجعل المرء يتحسر على هذا النظام سواء بقي أم زال. ولكن الذي يثير الامتعاض أن هذا النظام نفسه لا يهتم بذاته وقوته واستقراره. فهو إذ حكم على معارك بالأشغال الشاقة المؤبدة يكون قد حكم على نفسه بالإعدام شنقا حتى الموت. وإذا كان في النفس أسفٌ على هذا المصير فإنه أسف على انتقال الأردن من يد سيد إلى يد سيد أبشع!

من هنا فإننا نهيب بأبناء العشائر الأردنية إذ يتحركون اليوم لنصرة ابنهم معارك، أن يعتبروا كل فرد في الأردن بحاجة إلى نصرة كما هو معارك، وأن الأردن يحتاج لمن ينصره كما هو معارك، وأن الأقصى يحتاج لمن ينصره كما هو معارك، وأهم من كل ذلك أن الإسلام دين الله وشريعته الغراء تحتاج لمن ينصرها كما هو معارك. فلا تعملوا على تمكين أمريكا من بسط نفوذها الكامل على الأردن، بل اعملوا على استئصال نفوذ بريطانيا وأمريكا كليهما من الأردن وإعادة نفوذ الإسلام وشرع الله لهذا البلد المبارك.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحب التحرير

د. محمد الجيلاني

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست