الارتماء في أحضان الأنظمة كارثي على الأمة مرورا بفلسطين ووصولا لهيئة تحرير الشام!!!
الارتماء في أحضان الأنظمة كارثي على الأمة مرورا بفلسطين ووصولا لهيئة تحرير الشام!!!

   كيان يهود يعربد في فلسطين وغيرها ويقصف مقرات للجبهة الشعبية - القيادة العامة في سوريا كما حدث صباح يوم الأربعاء 2023/05/31م.

0:00 0:00
Speed:
June 01, 2023

الارتماء في أحضان الأنظمة كارثي على الأمة مرورا بفلسطين ووصولا لهيئة تحرير الشام!!!

الارتماء في أحضان الأنظمة كارثي على الأمة

مرورا بفلسطين ووصولا لهيئة تحرير الشام!!!

الخبر:

 كيان يهود يعربد في فلسطين وغيرها ويقصف مقرات للجبهة الشعبية - القيادة العامة في سوريا كما حدث صباح يوم الأربعاء 2023/05/31م.

التعليق:

لا تزداد قضايا الأمة مع السنين إلا استعصاء ولا تزداد مشكلاتها وآلامها إلا تعقيدا في ظل عدم وجود دولة جامعة للمسلمين على الرغم من الجهود الهائلة المبذولة والتضحيات الضخمة وكثرة الفصائل والمجاميع العاملة، ليظهر ذلك جليا قضيتي الأرض المباركة والشام، فالتغيير الأساسي ليس إلا في تعمق تلك المشكلات كميا ورقميا، فالضحايا وقضم الأرض والاستيطان والظلم وغطرسة العدو تزداد وقوى الأطراف الرسمية المقابلة تضعف وتتردى، والتنازل سيد الموقف!

والسبب هو أن أسباب المشكلة لا زالت قائمة، فالمنظومة التي تكونت مع قيام كيان يهود لا زالت تتوارثها الأجيال، ولا زالت تخدم الهدف نفسه، كما أن الأدوات والتصورات للحلول التي اعتمدتها معظم القوى لا زالت هي هي، تعيد تدوير نفسها وتعيد تكرار التجارب الفاشلة.

فالقوى والأنظمة التي سلمت فلسطين وثبتت وجود كيان يهود عام 48 لا زالت هي نفسها ولا زال المشغل لها وهو الغرب، ولا زال هاجسها الحفاظ على بقائها وبقاء الكيان، ليتكرر الأمر في كافة محطات قضية فلسطين من الأنظمة ذاتها في عام 67 وما بعده، ولكن دون تعلم للدرس، حيث دأبت الفصائل والقوى العاملة على اتخاذها ركنا وحضنا دون إدراك واقعها الصارخ، وهي أنها لم تكن سوى أدوات احتواء ليس أكثر.

فالمنحة السعودية لفصائل الشام كما المنحة القطرية لغزة، تتوقف أو تتوظف للغرض ذاته، وقد كانت العلاقة بين الفصائل السورية مع أصدقاء الشعب السوري والدول الداعمة مثالاً صارخاً مستنسخاً من الحالة الفلسطينية، كما أن اللاجئين السوريين مثال مستنسخ من الحالة الفلسطينية.

فأوجه التشابه الكبيرة بين الحالتين، وأوجه التشابه بين الماضي والحاضر في الحالتين يدل على عقم الرؤية عند تلك الفصائل وسيؤدي إلى النتائج نفسها والمصير ذاته.

ففي كامب ديفيد لم يكن السادات والنظام المصري شاذا إلا في السبق بالصلح مع يهود، وقد عادت الأنظمة لتحتضنه وسار قطار التطبيع لأن الظرف أصبح مناسبا!!

وقد عاد النظام العربي إلى النظام السوري لأن الظرف أصبح مناسبا كذلك، وبالتالي انخراط الأنظمة في مآسي الشعوب، واصطفافاتها ليست إلا أدواراً لحين انتهاء المهمة والرجوع إلى الوضع الأصلي.

إن غياب هذا الدرس وتجاهل هذه الحقائق أوقع الحركات والفصائل فيما هي فيه الآن، من رأس الحربة في محاربة كيان يهود والتطبيع معه.. إلى أوسلو ومدريد والقمع لصالح المطبعين والارتماء في أحضان قتلة المسلمين... إلى رأس الحربة للعمل لصالح المطبعين في الشام وقمع الأصوات المعارضة.

إن الأنظمة وكيان يهود منظومة واحدة يثبت بعضها بعضا، ومصالح الأنظمة يحددها المستعمرون، وهي حتما ليست مع من يريد التحرر، ولذلك كان الوعي على هذه الناحية هو النجاة للعاملين والحركات من الوقوع في الفخ، وقلة الوعي على ذلك هو الذي أوقعها في الفخ فسخرتها الأنظمة ووظفتها - وليس العكس - حتى صارت تناقض اليوم مطالبها بالأمس كما حصل في هيئة تحرير الشام عندما تحولت إلى حارس للدوريات الروسية وخادم للسياسة التركية التي تسعى لتعويم نظام الأسد المجرم والتطبيع معه.

ولذلك من كان جديا في خلع كيان يهود وخلع نظام الطاغية فإن ذلك يحتم عليه العمل على خلع مسامير تثبيتهما وإلا فستظل التحركات والجهود لا تعني إلا خسارة الوقت والجهود والتضحيات بسبب انعدام الوعي على حقائق لا ينطق التاريخ أو الواقع بغيرها.

ما ينتظر الحركات كهيئة تحرير الشام ومثيلاتها ليس إلا انتهاء وظائفها أو انتهاء المرحلة، حتى تذبح على مذبح مصالح الأنظمة ومن يقف من خلفها. وإن إغلاق أردوغان للقنوات الإعلامية المعارضة لنظام السيسي وإقفاله لملف خاشقجي هو خير مثال على سهولة التخلص من الأدوات المرحلية عند هذه الأنظمة.

إن الوعي على طبيعة الأنظمة وعلاقاتها ببعضها وطبيعة العلاقة معها هو من الوعي المتحتم بل الوجودي في ما يتعلق بالحركات وقضاياها، وغيابه لا يعني إلا أن تتحول الحركات إلى بندقية تطلق النار على نفسها وعلى أهدافها وعلى أمتها حتى تهلك.

فالإسلام باق والأمة منتصرة بوعد الله سبحانه، وعلى المخلصين من أبناء الأمة أهل القوة والمنعة وضباط الجند وقادة الكتائب أن يقتلعوا هذه المنظومة من الحكام الخونة ويقيموا الخلافة على منهاج النبوة على أنقاض عروشهم؛ فتخرج الأمة من هذه الدائرة لتحرر الأرض المباركة ومقدساتها وتعود لتحمل الإسلام رسالة نور وعدل للعالمين.

#منتهك_الحرمات_عراب_المصالحات

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

الدكتور مصعب أبو عرقوب

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في الأرض المباركة (فلسطين)

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست