امریکی فوجی استعمار نائجیریا کو دھمکی دے رہا ہے
خبر:
امریکی صدر نے ایک بار پھر افریقہ کی دو سب سے بڑی معیشتوں کو نشانہ بنایا، نائجیریا میں اسلامی مسلح افواج کے خلاف فوجی مداخلت کی دھمکی دی، اور جی ٹوئنٹی میں جنوبی افریقہ کے کردار پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا، اور کہا کہ انہوں نے امریکی محکمہ جنگ سے ممکنہ کارروائی کی تیاری کرنے کو کہا ہے جب تک کہ مغربی افریقہ میں واقع ریاست حرکت میں نہیں آتی۔ (اقتصاد الشرق، 2025/11/06)
تبصرہ:
اس خطرے کے باوجود کہ لاکھوں امریکی حکومت کی بندش کی وجہ سے آمدنی کے نقصان کے بعد بھوک اور بیماری کا سامنا کر رہے ہیں جو پانچ ہفتوں سے زیادہ عرصے سے جاری ہے اور مستقبل قریب میں اس بحران کا کوئی حل نظر نہیں آرہا ہے، اور اس کے باوجود کہ امریکی صدر نے اس معاملے کو نظر انداز کیا اور اس سے بے پرواہی برتی اور یہاں تک کہ ان لوگوں کے لئے خصوصی امداد بند کرنے کے فیصلے سے بھی پیچھے ہٹنے سے انکار کردیا جنہیں حکومت کی بندش سے پہلے ہی اس امداد کی ضرورت تھی، ان سب کے باوجود، وہ نائجیریا میں عیسائیوں پر مگرمچھ کے آنسو بہا رہا ہے اور فوجی مہم کی دھمکی دے رہا ہے۔
حقیقت جو کسی سے پوشیدہ نہیں ہے وہ یہ ہے کہ مغربی ممالک کے سربراہان اور خاص طور پر امریکہ کے صدور جن چیزوں کے بارے میں سب سے آخر میں سوچتے ہیں وہ انسانی پہلو یا لوگوں کی مدد کرنا اور ان کے ساتھ کھڑے ہونا ہے۔ یہ صدور تو اصل میں پوری دنیا اور خاص طور پر اسلامی ممالک کے مصائب کی وجہ ہیں، اور وہ دنیا میں جنگوں کو بھڑکاتے ہیں اور انسانوں کے وسائل چوری کرتے ہیں اور بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کو رحم و کرم کے بغیر قتل کرتے ہیں۔ غزہ اور اس میں ہونے والی تباہی اور خونریزی اس کی بہترین مثال ہے۔ اگر وہ کسی کی مدد کے لئے حرکت میں آتے ہیں تو یہ صرف اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے ہوتا ہے۔ یہ معلوم ہے کہ نائجیریا تیل، قیمتی اور نایاب دھاتوں کے لحاظ سے ایک بڑا وسائل والا ملک ہے۔ اس مجرم چور کی رال یقیناً اس پر ٹپک رہی ہے، چنانچہ وہ ان وسائل کو چوری کرنا اور ان پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، اور اسی وقت وہ چین کو ان وسائل سے دور رکھنا چاہتا ہے جس نے نائجیریا کے ساتھ مضبوط اقتصادی تعلقات قائم کیے ہیں اور عام طور پر افریقی براعظم میں تجارتی رفتار پیدا کی ہے۔
ہاں، یہ امریکہ کے احمق صدر کے ارادوں کی حقیقت ہے، اور یہ کافر استعماری مغربی ممالک کے کمزور دلائل ہیں جن سے وہ لوگوں پر اپنے قبضے، وسائل کی لوٹ مار، قتل اور تباہی کو چھپاتے ہیں۔ جمہوریت، انسانی حقوق، آزادیوں کے پھیلاؤ، چھوٹی نسلوں کے تحفظ اور دہشت گردی اور انتہا پسندی کے نام پر اسلام کے خلاف جنگ کے نعرے کے تحت، یہ ممالک ہر قسم کے جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں، یہاں تک کہ وہ جرائم جن سے خونخوار درندے بھی شرماتے ہیں۔
امریکہ کو کوئی نہیں روکے گا اور اس کے پیچھے تمام استعماری ممالک کو منتشر نہیں کرے گا اور امت کے وسائل اور صلاحیتوں کو لوٹنے سے ان کے ہاتھ نہیں کاٹے گا سوائے نبوت کے منہج پر خلافت راشدہ کے اور ایک متقی و پرہیزگار خلیفہ کے جو مسلمانوں اور ریاست کے غیر مسلم شہریوں کی حفاظت کرے اور امت کی سرحدوں کی حفاظت کرے اور خون، عزت اور مال کی حفاظت کرے۔
اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لئے لکھا گیا
ولید بلیبل