الاستفتاء والتعديلات والدستور كلها باطل لا يجوز المشاركة فيه ولا دعوة الناس وتشجيعهم عليه
الاستفتاء والتعديلات والدستور كلها باطل لا يجوز المشاركة فيه ولا دعوة الناس وتشجيعهم عليه

الخبر:   نقلت جريدة التحرير السبت 2019/4/13م، قول وزير الأوقاف المصري إن دور الوزارة في الاستفتاء على تعديل الدستور هو تشجيع المواطنين على المشاركة الإيجابية دون توجيه لإرادة المواطن، وإن العمل الوطني جزء من عمل الأوقاف ومشاركة المواطنين في الاستفتاء على تعديل الدستور سلوك شخصي، مضيفا أن الدساتير في المراحل الانتقالية غالبا ما تكون بحاجة لتعديل بعد مرحلة الاستقرار، وأن الدستور ليس قرآنا ولكنه قابل للتعديل، مؤكدا أن المساجد خارج الدعاية والانتخابات لأن المسجد كيان تعبدي دعوي بحت بعيدا عن السياسة إنما ندعو المواطن للمشاركة الإيجابية ولكل رأيه الشخصي، وأوضح الوزير، خلال اجتماعه، في اليوم نفسه، مع وكلاء الوزارة بالمحافظات للاستعداد لرمضان، أن عدم الدفع بالمسجد في أي عمل سياسي هي خطة عمل مستمرة ومهمة للأوقاف دون أي تدخل في رأي المواطن وعلينا فقط التوعية بأهمية المشاركة.

0:00 0:00
Speed:
April 17, 2019

الاستفتاء والتعديلات والدستور كلها باطل لا يجوز المشاركة فيه ولا دعوة الناس وتشجيعهم عليه

الاستفتاء والتعديلات والدستور كلها باطل

لا يجوز المشاركة فيه ولا دعوة الناس وتشجيعهم عليه

الخبر:

نقلت جريدة التحرير السبت 2019/4/13م، قول وزير الأوقاف المصري إن دور الوزارة في الاستفتاء على تعديل الدستور هو تشجيع المواطنين على المشاركة الإيجابية دون توجيه لإرادة المواطن، وإن العمل الوطني جزء من عمل الأوقاف ومشاركة المواطنين في الاستفتاء على تعديل الدستور سلوك شخصي، مضيفا أن الدساتير في المراحل الانتقالية غالبا ما تكون بحاجة لتعديل بعد مرحلة الاستقرار، وأن الدستور ليس قرآنا ولكنه قابل للتعديل، مؤكدا أن المساجد خارج الدعاية والانتخابات لأن المسجد كيان تعبدي دعوي بحت بعيدا عن السياسة إنما ندعو المواطن للمشاركة الإيجابية ولكل رأيه الشخصي، وأوضح الوزير، خلال اجتماعه، في اليوم نفسه، مع وكلاء الوزارة بالمحافظات للاستعداد لرمضان، أن عدم الدفع بالمسجد في أي عمل سياسي هي خطة عمل مستمرة ومهمة للأوقاف دون أي تدخل في رأي المواطن وعلينا فقط التوعية بأهمية المشاركة.

التعليق:

لا ندري أي فصل للمساجد عن السياسة هذا الذي يتحدث عنه وزير الأوقاف بينما يدعو الناس ويشجعهم على المشاركة والاندماج والقبول بالرأسمالية التي تطبق عليهم بأبشع صورها؟! بل هو علمنة صريحة لدور المسجد، الذي لم ينفصل أبدا عن السياسة منذ بنى رسول الله r مسجده الأول في المدينة إلى يومنا هذا، وحتى دعاة فصل الدين عن السياسة في بلادنا يستغلون المساجد في دعايتهم للحكام العملاء وحشد الناس لانتخاب المجالس التشريعية والحكام واستفتاءات الدساتير الوضعية الديمقراطية، وقد رأينا الثورات في كل بلادنا تنطلق من المساجد حتى أصبحت المساجد تؤرق حكام الضرار، فهم يريدون فصلها عن السياسة التي تنبثق عن عقيدة الإسلام والتي تأبى الخنوع والخضوع لحكام عملاء، ليسوا سوى وكلاء للغرب يأتمرون بأمره.

ما يقوله وزير الأوقاف باطل من أصله لما فيه من دعوة صريحة للمشاركة في استفتاء على تعديلات باطلة في دستور باطل تكرس لبقاء نظام كفر هو النظام الديمقراطي الرأسمالي الذي يحكم بلادنا والذي يحرم أخذه أو العمل به أو الدعوة إليه، وهو ليس قرآنا كما ذكر الوزير بل هو دستور من وضع البشر لا يلزمنا ولا يعنينا كمسلمين، فدستورنا الحقيقي الذي يجب أن يحكمنا وأن نحترمه ونقر به وله هو الدستور الذي يكون أساسه وأساس دولته عقيدة الإسلام، وهذا الدستور لا يستفتى عليه ولا يجوز ذلك فهو أحكام شرعية، والأحكام الشرعية لا تؤخذ من صناديق الاقتراع ولا تبنى على الأهواء ﴿وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْراً أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ﴾، بل تؤخذ من الكتاب والسنة، وللخليفة حق تبني مواد الدستور وتعديلها لأنه هو الراعي وهو المسؤول عن الرعية أمام الله وأمام الأمة، وتطبيق هذه الأحكام لازم وواجب عليه وعلى الأمة فلا يجوز لرجل أن يعتلي منبر رسول الله r ويدعو الناس لقبول دستور بني على عقيدة فصل الدين عن الحياة والخضوع له وتقديسه ووضعه كدستور لازم، بل يجب أن يدعو الناس لرفضه وأن يحشدهم ضده بكل طاقته وأن يدعوهم لتبني دستور أساسه وأساس دولته عقيدة الإسلام.

إن فصل الدين والمساجد عن السياسة هو فكرة غربية رأسمالية لا يتبناها ويدعو لها إلا العلمانيون المضبوعون بثقافة الغرب الحاقدون على الإسلام وأفكاره، والمسجد كان منذ صدر الإسلام مقرا للحكم والقيادة ودارا للقضاء ومدرسة وجامعة ومؤتمرا ومجلسا لمحاسبة الحكام من الرعية، وعلى منبره صعد أبو بكر مخاطبا الناس قائلا (إن أحسنت فأعينوني وإن أسأت فقوموني، أطيعوني ما أطعت الله ورسوله، فإذا عصيت الله ورسوله فلا طاعة لي عليكم)، هكذا كان خطاب الخليفة الحاكم خطابا سياسيا في إطار السياسة التي بينها الإسلام وأوجب على الأمة ممارستها ووضع لها أحكاما شرعية تبين جميع جوانبها، ولم تُرَ مساجدنا التي اعتلى منابرها الخلفاء كابرا عن كابر تدعو للعلمانية وفصل الدين عن السياسة بل وتدعو الناس إلى العمل السياسي وفق ما تطرحه الرأسمالية إلا عندما اعتلى منابرنا الأدعياء من علماء السلاطين الذين باعوا دينهم بدنيا الحكام وعرض من الدنيا قليل لا يغني عنهم نفخة واحدة من نار جهنم.

يا أهل مصر الكنانة! إن هذه الدساتير وتعديلاتها باطلة لا يجوز لكم المشاركة فيها ولو برفضها، فالمشاركة في حقيقتها إقرار لهذا النظام ودستوره الباطل الذي وضعه البشر، وإعطاؤه الشرعية التي يفتقدها، وهذا ما يريده النظام من خروجكم ولو قلتم لا لتعديلاته، فما يريده منكم فقط هو المشاركة والباقي يصنعه الأعوان وستخرج النتيجة واحدة سواء شاركتم أو قاطعتم، ومشاركتكم إثم حتى لو كانت للرفض أو إبطال الأصوات، وواجبكم الحقيقي هو أن تطالبوا بدستور ينسجم مع عقيدتكم أساسه وأساس دولته عقيدة الإسلام يؤسس لدولة كدولة أبي بكر وعمر؛ خلافة راشدة على منهاج النبوة، يحمله لكم حزب التحرير ويدعوكم لتبنيه وحمل إخوانكم وأبنائكم في جيش الكنانة على نصرته ووضعه موضع التطبيق، فهو وحده الذي يضمن لكم حرية وكرامة حقيقية ورغد عيش بعيدا عن أوهام العلمانية الكاذبة التي سامتكم الخسف لعقود خلت جعلت من بلادنا بعمومها مزرعة خصبة للغرب ينهب منها كيفما شاء.

أدركوا أمتكم أيها المخلصون في جيش الكنانة واقطعوا أيادي الغرب التي تعبث ببلادنا من الحكام الخونة النواطير ومن حولهم من وسط سياسي مضبوع، فمن للإسلام إن لم يكن أنتم ومن ينصره غيركم؟! وأنتم أحق بذلك من غيركم والخير فيكم، فبادروا قبل غيركم نصرة لله ورسوله تقام بها دولة العدل والبر والرحمة التي وعدنا الله وبشر بها r «ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ» اللهم عجل بها واجعلنا من جنودها وشهودها.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سعيد فضل

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست