الاستجابة لمطالب الغرب بشأن الأسرة طامة كبرى تدمر الأسرة
الاستجابة لمطالب الغرب بشأن الأسرة طامة كبرى تدمر الأسرة

طالبت منظمة العفو الدولية، السلطات السودانية بمراجعة قوانينها، التي تسمح بزواج الأطفال. وجاء تعليق المنظمة في بيان حول إلغاء محكمة بالخرطوم حكم الإعدام في مواجهة نورا حسين المتهمة بقتل زوجها... وعدلت المحكمة الحكم ضد نورا في القضية التي انتشرت عالمياً على نطاق واسع، من الإعدام إلى السجن خمس سنوات، والدية بدفع مبلغ 337,500 ألف جنيه (صحيفة التغيير الإلكترونية). التعليق:

0:00 0:00
Speed:
July 13, 2018

الاستجابة لمطالب الغرب بشأن الأسرة طامة كبرى تدمر الأسرة

الاستجابة لمطالب الغرب بشأن الأسرة طامة كبرى تدمر الأسرة

الخبر:

طالبت منظمة العفو الدولية، السلطات السودانية بمراجعة قوانينها، التي تسمح بزواج الأطفال. وجاء تعليق المنظمة في بيان حول إلغاء محكمة بالخرطوم حكم الإعدام في مواجهة نورا حسين المتهمة بقتل زوجها... وعدلت المحكمة الحكم ضد نورا في القضية التي انتشرت عالمياً على نطاق واسع، من الإعدام إلى السجن خمس سنوات، والدية بدفع مبلغ 337,500 ألف جنيه (صحيفة التغيير الإلكترونية).

التعليق:

نظر أعداء الإسلام فوجدوا أن الخطر الذي يتهددهم ما زال قائماً بقيام الأسرة المسلمة، تلك التي تمثل حجر الزاوية في بناء المجتمع الإسلامي، والعروة الوثقى في كيان الإسلام، بما اشتملت عليه من تمسك بأسباب الوقاية والطهر وحفظ النسل، وبما انطوت عليه من مفاهيم الغيرة على الأعراض، التي تشكل صمام أمان لمنع التفسخ والانحلال، هذا المرض العضال الذي ضرب كيان الأسرة في الغرب، ومع الأسف يوجد من بني جلدتنا من يراقب الوضع الاجتماعي في بلاد المسلمين، تتحكم فيه عوامل أخرى كثيرة منها الأنظمة الوضعية والعادات والتقاليد، فيشكل هؤلاء مخبرين للغرب بكل ما يحدث بهذا الصدد، فيردوا كل مشكلة للإسلام، مع أن الإسلام لا يتحكم في كل مفاصل النظام الاجتماعي، وما وجد من أحكام الإسلام لم تفرضه الأنظمة بل تمسك به المسلمون، رغم الأمواج المتلاطمة والمؤامرات، ولأن الغرب لا يعجبه شرع الله سبحانه، فهو حريص كل الحرص على تغيير ما تبقى من أحكام الإسلام، يتبعه في ذلك كل عميل لا يعلم عاقبة ما يراد بنا، يريد انتهاك أعراض المسلمين وإغواء بناتهم، وتدنيسهن دون زواج، والتزامات، أو أي حقوق مادية أو عاطفية، كما هو حادث في الغرب! يريد هؤلاء للمسلمة أن تصبح مثل المرأة في الغرب، التي يتعاملون معها كبغيّ مجانية ثم بعد قضاء مآربهم يوقعون ضحية أخرى ويتركون الأولى محطمة المشاعر، لم تنل شيئاً سوى الندم، وربما الأمراض الجنسية وجنين الزنا تتحمل هي وحدها مسؤوليته!

ألا يعلم من سار في ركاب الغرب أن عاقبة ذلك هو انتهاك حرمات الله التي يترتب عليها عقوبة في الآخرة؟! قال تعالى: ﴿... وَلا يَزْنُونَ وَمَن يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَاماً * يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَاناً﴾.

إن شرع الله ليس مجرد نصائح نظرية، بل هو أحكام عملية تراعي الطبيعة البشرية التي قد تضعف أمام الشهوات. هذه الأحكام العملية تحمينا من الوقوع في الفواحش ليس بمجرد العقوبات والحدود التي أوجب الله تطبيقها بقوة الدولة وسلطانها، بل أيضا بمنع المسببات الحقيقية لها. لذا حرم الإسلام التبرج واختلاط الرجال بالنساء، وحرم ما يثير الغرائز ويزين الفواحش؛ من صور فاتنة وأغان ماجنة، كما أننا مسئولون تجاه أنفسنا وتجاه من استرعانا الله من أبناء ومتابعتهم، وألا نغفل عنهم بترك القنوات المفسدة، التي تنهى عن المعروف وتأمر بالمنكر وتزين الفواحش وتشغل الناس بالمحرمات.

في عجالة أردنا أن نرد عملياً على من يريدون تطبيق القوانين الغربية الوضعية، على الأسرة المسلمة، رغم الاختلاف التام بيننا وبينهم في الهوية.

أولا: إن قوانين الغرب الخاصة بالأسرة هي من صنع البشر، أما قوانين المسلمين، الخاصة بالأسرة المسلمة، فهي من الله عز وجل، وأساسها الوحي الإلهي المتمثل في القرآن والسنة النبوية.

ثانيا: إن الزواج في الإسلام سنة ماضية، وقد جاء الإسلام ليلغي كل صور العلاقات التي كانت تربط بين الرجل والمرأة بشكل غير شرعي، وأكد على أهمية ارتباط الرجل بالمرأة بعقد الزواج، ووصفه بأنه ميثاق غليظ، حماية لكيان الأسرة ومنع الزنا ووضع عقوبة قاسية لمن يتجرأ ويرتكب تلك الجريمة، وذلك بعكس القوانين الوضعية الغربية، التي لم تهتم كثيراً بإطار الزواج وإنما كل تشريعاتها تقوم على الاهتمام بالفرد لا بالأسرة وهو ما جعل الشباب ينصرفون عن فكرة الزواج، وتكوين الأسرة فرأينا الإنجاب بعيداً عن إطار الأسرة لمن لم يتعد الثالثة عشر وهم يعيبون زواج الصغيرات!

ثالثا: مقدمات الزواج في الإسلام التي حرص على أن يطلب من الشاب المقبل على الزواج أن يختار زوجة المستقبل جيدا لأنها تصحبه في بناء الأسرة، وفي الوقت نفسه ألزم الأب بأن يستشير ابنته عند تقدم أحد الخاطبين لا أن يجبرها على القبول، باختصار، فإن الإسلام منح الرجل والمرأة حق اختيار صاحبه في الحياة، ووضع التدين الصحيح في مقدمة الأسباب التي تدعو الشاب أو الفتاة إلى القبول بصاحبه، ووضع الإسلام مفهوم الخطبة محاطاً بأحكام شرعية تمنع الخلوة والتبرج وكل ما يمنع من انتهاك للحرمات. أما في القوانين الغربية، فإن الخطبة تتيح لكل من الشاب والفتاة ممارسة الزنا، حيث تعترف القوانين الغربية بالأبناء الذين ينتجون عن أي علاقة بين الخاطب والمخطوبة.

رابعا: آثار عقد الزواج في الإسلام، ألزم الطرفين بحسن المعاشرة ووضع قوانين الميراث لكل من الزوجين أن يرث الآخر وثبوت نسب الأطفال وقوامة الرجل على المرأة، والقوامة هنا تعني القيام على أمر الأسرة وتوفير احتياجاتها، وألزم الإسلام الزوج بدفع المهر لزوجته. أما القوانين الغربية فقد طالبت الزوجين بإخلاص كل منهما للآخر، والسكن معاً، ولم تلزم الزوج بالإنفاق على زوجته ولم تلزمه بدفع مهر محدد لها، أو تحديد مؤخر صداق، ما أوجد ظاهرة متفشية في الغرب وهي ظاهرة الأم المعيلة، حيث لا يلتزم الرجل بواجباته تجاه الأسرة فتشقى وتنال كل أصناف المعاناة لكفالة أبنائها.

إن الأنظمة الوضعية في بلاد المسلمين تستجيب للغرب، فهي لا يهمها سوى رضا الغرب الكافر وقوانينه، ولكن دولة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة، القائمة قريبا بإذن الله فستسعى لرضا رب العالمين بتطبيق شرع الله وحمله للعالم لتطهره من آثام الرأسمالية الفاجرة.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

غادة عبد الجبار – أم أواب

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست