الاستراتيجية الإقليمية للولايات المتحدة الأمريكية عبر قيادة سعودية (مترجم)
الاستراتيجية الإقليمية للولايات المتحدة الأمريكية عبر قيادة سعودية (مترجم)

الخبر:   اتفقت تركيا والمملكة العربية السعودية على تأسيس مجلس تعاون استراتيجي على مستوى رفيع. وأشار أردوغان والعاهل السعودي إلى أن وجهات نظر البلدين حول القضايا الإقليمية كانت متطابقة تقريبًا، وأنه لن يكون هناك أي حل ملموس في سوريا ما لم يرحل الأسد. ووفقًا لمعلومات من مصادر رئاسية،

0:00 0:00
Speed:
January 06, 2016

الاستراتيجية الإقليمية للولايات المتحدة الأمريكية عبر قيادة سعودية (مترجم)

الاستراتيجية الإقليمية للولايات المتحدة الأمريكية عبر قيادة سعودية

(مترجم)

الخبر:

اتفقت تركيا والمملكة العربية السعودية على تأسيس مجلس تعاون استراتيجي على مستوى رفيع. وأشار أردوغان والعاهل السعودي إلى أن وجهات نظر البلدين حول القضايا الإقليمية كانت متطابقة تقريبًا، وأنه لن يكون هناك أي حل ملموس في سوريا ما لم يرحل الأسد. ووفقًا لمعلومات من مصادر رئاسية، فإنه ينظر إلى هذا الاجتماع الذي انعقد في قصر اليمامة بمناسبة زيارة أردوغان للمملكة العربية السعودية على أنه علامة على "الصداقة والأخوة والشراكة الاستراتيجية بين البلدين". وقد أكد الرئيسان على أهمية العمل المشترك بين تركيا والمملكة العربية السعودية خلال هذه الفترة الحرجة التي تمر بها المنطقة. (المصدر: Aljazeera.com.tr)

التعليق:

تم مؤخرًا اثنان من ترتيبات التعاون المشترك بين تركيا والسعودية. الأول "التجمع الإسلامي لمكافحة الإرهاب" والذي أنشئ تحت قيادة السعودية، وهو تحالف عسكري يضم 35 دولة من بينها تركيا. والثاني ما يسمى بـ"مجلس التعاون الاستراتيجي رفيع المستوى" والذي ضم السعودية وتركيا فحسب.

هناك نقطتان مهمتان تجعلان لاتفاقيات التعاون هذه معنى ومغزى. وهاتان النقطتان ستتوضحان إذا ما أجبنا عن سؤالين مهمين.

السؤال الأول: ما هو السبب الخفي وراء إخفاء السعودية لقيادتها مثل هذه المبادرات المتعلقة بالقضايا الإقليمية والتي تضم بلادا إسلاميةً وبخاصةً تركيا؟

والسؤال الثاني: ما هو الغرض الحقيقي من وراء اتفاقيات كـ"التجمع الإسلامي لمكافحة الإرهاب" و"مجلس التعاون الاستراتيجي رفيع المستوى"؟

دعونا نعثر على جواب للسؤال الأول بعودتنا إلى عام مضى. تولى سلمان بن عبد العزيز الحكم خلفًا لأخيه عبد الله الذي توفي في كانون الثاني/يناير 2015. وقد أحدث تغييرات كبيرة في الحكومة السعودية فور توليه السلطة. كما أنه عزل تقريبًا كل الشخصيات المهمة المتبقية من عهد الملك عبد الله وجاء بتعيينات جديدة.

الملك الجديد قام بإعفاء الأمير "مقرن بن عبد العزيز" من ولاية العهد وجميع حلفاء الملك السابقين. متجاهلاً كل المواد القانونية التي أدخلها الملك السابق والتي تقضي بإقالة مقرن بن عبد العزيز عن وراثة العرش، استطاع سلمان أن ينظف الساحة من حوله.

قام الملك الجديد بتعيين ابن أخيه وزير الداخلية، الأمير محمد بن نايف وليا للعهد. كما أصبح ابن الملك سلمان، محمد بن سلمان، والذي يقدر عمره بثلاثين عامًا، ولي ولي العهد فيما عين حاليًا على رأس وزارة الدفاع. وكانت آخر التعيينات هي تعيين عادل الجبير الذي شغل منصب سفير السعودية في الولايات المتحدة على الرغم من أنه ليس من العائلة المالكة كوزير للخارجية، خلفًا لسعود الفيصل الذي يعد أقدم وزير خارجية في العالم بعد توليه لمنصبه عام 1975.

كل هذا يبين أنه بعد وفاة الملك السابق عبد الله الذي كان عميلا لإنجلترا، تم التخلص من رجاله في الحكومة السعودية واستبدال رجال الملك سلمان صاحب العلاقات الأقوى مع الولايات المتحدة بهم. ومن هنا يمكن أن نقول وبوضوح بأن الولايات المتحدة أصبحت أكثر فاعليةً الآن وتأثيرًا وبأنها أخذت زمام الأمور والسيطرة الكاملة في سياساتها الإقليمية، وبأنها تستطيع الآن رسم خارطة الطريق السياسية التي تريد عبر استخدام السعودية. وبكلمات أخرى، فإن المتوقع أن نرى حكومة سعودية تقود وبفاعلية السياسات الأمريكية في المنطقة. وبطبيعة الحال، فإن تركيا ستكون مع السعودية جنبًا إلى جنب في هذا الطريق. وبيانات أردوغان وسلمان حول وجود "وجهات نظر متطابقة مشتركة حول القضايا الإقليمية" تلمح إلى هذا الدور المشترك.

دعونا الآن ننتقل إلى الإجابة على السؤال الثاني - ما هو الغرض الحقيقي وراء اتفاقيات كـ"التجمع الإسلامي لمكافحة الإرهاب" و"مجلس التعاون الاستراتيجي رفيع المستوى"؟

أي جزء من المنطقة تعتبره الولايات المتحدة "إرهابيًا"؟ سوريا بالطبع... ولذلك فإن الولايات المتحدة تسعى إلى تجنب الإشكاليات مع أوروبا وروسيا حول قضايا فرعية، وتسعى إلى تفعيل كل آلياتها ومخططاتها من أجل فرض سياستها المحددة في المنطقة على أوروبا وروسيا. ومن هذا المنطلق فإنها تسعى لاستخدام دول الخليج وتركيا ودول شمال إفريقيا لتنفيذ أجنداتها ووضعهم تحت سيطرتها وذلك عبر طرح مبادرات السعودية هذه. وبإلقاء نظرة على مؤتمر الرياض وهدفه "ضمان قبول السياسات الأمريكية من قبل جماعات المعارضة في سوريا" فإننا نستطيع التنبؤ بأن الهدف الفعلي للولايات المتحدة الأمريكية هو سرقة الثورة الإسلامية في سوريا واستخدام تركيا والسعودية في حفظ دعائم نظام البعث. وإن النهج السياسي الفعلي الذي تنتهجه السعودية في سوريا حاليًا، وذلك بدعمها لجماعات المعارضة السورية بالمال والسلاح طوال السنوات الأربع الماضية لمؤشر آخرعلى التغيير والتأثير الذي حصل داخل الحكومة السعودية.

ومع ذلك، فكما أن هنالك من يخون دماء المسلمين، وكما أن هنالك كفراً يكيد للمسلمين فيخطط ويدبر، فإن الله تعالى يكيد ويدبر ويُجري الأمر على يد المخلصين من أبناء الأمة. والله تعالى على كل شيء قدير.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمود كار

رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية تركيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست