الاستثمارات السعودية بالمغرب  هي توريط إضافي للمغرب في الفتنة الطائفية
الاستثمارات السعودية بالمغرب  هي توريط إضافي للمغرب في الفتنة الطائفية

 الخبر:   بالأمس (2016/03/08) تناقلت وسائل الإعلام أن سفير السعودية في المغرب أكد عقب المباحثات التي أجراها بمعية وفد من رجال الأعمال السعوديين مع وزير الشؤون الخارجية والتعاون، صلاح الدين مزوار، أن السعودية والمغرب لهما رؤية موحدة وينسقان بشكل مشترك على مختلف الواجهات، وأن العلاقات القائمة بين السعودية والمغرب "متميزة وقوية، بل هي أكثر من أخوية"، مشددا على أهمية الارتقاء بها أكثر،

0:00 0:00
Speed:
March 09, 2016

الاستثمارات السعودية بالمغرب هي توريط إضافي للمغرب في الفتنة الطائفية

الاستثمارات السعودية بالمغرب

هي توريط إضافي للمغرب في الفتنة الطائفية

الخبر:

بالأمس (2016/03/08) تناقلت وسائل الإعلام أن سفير السعودية في المغرب أكد عقب المباحثات التي أجراها بمعية وفد من رجال الأعمال السعوديين مع وزير الشؤون الخارجية والتعاون، صلاح الدين مزوار، أن السعودية والمغرب لهما رؤية موحدة وينسقان بشكل مشترك على مختلف الواجهات، وأن العلاقات القائمة بين السعودية والمغرب "متميزة وقوية، بل هي أكثر من أخوية"، مشددا على أهمية الارتقاء بها أكثر، وبالأخص عن طريق تقوية الروابط الاقتصادية بين البلدين، وكذا على ضوء توافر الفرص الداعمة لهذه الدينامية الاستثمارية. وأبرز السفير السعودي أن قائدي البلدين، الملك محمد السادس، والملك سلمان بن عبد العزيز، ضامنان للاستقرار في المنطقة العربية ككل. وأضاف أن زيارة الوفد السعودي تندرج كذلك في سياق دعم الرؤية السياسية للبلدين، معتبرا أن "الجهود التي تقوم بها السعودية في سبيل التنمية الاقتصادية في المغرب هي في واقع الأمر تنمية اقتصادية واستثمارية أيضا بالنسبة للسعودية". وأشار إلى أن الوفد السعودي سيقوم بزيارة للأقاليم الجنوبية، "وهي رسالة قوية نؤكد من خلالها على دعمنا للوحدة الترابية للمغرب وحرصنا على تنمية هذه الأقاليم بكل ما نملك من قوة".

التعليق:

إن المتتبع للأحداث يدرك دون عناء أن المغرب منخرط فيما يسمى "الحرب على الإرهاب"، فبعد ساعات من إعلان السعودية عن إنشاء التحالف الإسلامي ضد الإرهاب قام نائب وزير الدفاع السعودي بزيارة إلى المغرب في 2015/12/15 حيث قام بتوقيع اتفاقية تعاون عسكرية بين جيشي البلدين تغطي مجالات عديدة تشمل التكوين، والدعم اللوجستي، وتبادل الخبرات، والتنسيق الاستخباراتي، والخدمات الطبية،... وفي 2016/02/06، نشر موقع CNN بالعربية أن المغرب تعهد بإرسال قوات للمشاركة في الحلف، وفي 2016/02/10، قام وزير الخارجية السعودي بزيارة إلى المغرب لحشد التأييد للتحالف الذي تقوده بلاده، واجتمع بنظيره المغربي حيث حاول هذا الأخير جاهداً نفي تعهد المغرب إرسال قوات للمشاركة في التحالف السعودي، فيما لم يخف اصطفاف المغرب إلى جانب السعودية في خلافها مع إيران وحربها في اليمن.

ورغم محاولة المغرب إحاطة هذا الموضوع بغطاء كثيف من السرية، فإن خيوطه واضحة، وقد ظهر ذلك جلياً بعد مقتل الطيار المغربي في اليمن في أيار/مايو 2015، حيث أعلن أن المغرب كان قد أرسل سرب طائرات إف-16 إلى الإمارات عندما شن التحالف الذي تقوده الولايات المتحدة ضربات جوية على تنظيم "الدولة الإسلامية" في العراق وسوريا.

إن محاولة المغرب إخفاء نيته إرسال قوات إلى سوريا لمقاتلة تنظيم الدولة ضمن ما يسمى التحالف الإسلامي نابع من إدراكه أن أهل المغرب يرفضون الانخراط في هذه الحرب المدمرة التي لا هدف لها إلا المزيد من سفك دماء المسلمين في الشام ومنعهم من إسقاط نظام بشار وإقامة دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة على أنقاضه. فالمغرب الذي ادعى أنه من أصدقاء سوريا واحتضن مؤتمراً لدعم انتفاضة أهل الشام في 2012/12، لم يقم بأي عمل جدي ولا حتى شكلي من شأنه إسقاط نظام الطاغية وإنهاء مأساة أهل سوريا، بل على العكس من ذلك، تغاضى عن جرائمه وانخرط في حرب شرسة لتعقب كل من يرغب بالالتحاق بالجهاد في بلاد الشام بدعوى أنه يريد الالتحاق بتنظيم الدولة.

وطمعاً في مزيد من الدعم المالي الخليجي، ها هو المغرب ينغمس أكثر فأكثر في الحروب التي تشعلها السعودية، وينخرط في هذه المحرقة التي تلتهم أبناء المسلمين نتيجة التأجيج الطائفي وبسبب رغبة أمريكا في إغراق المنطقة في حروب دموية تستغلها لإعادة رسم خريطة المنطقة وفق ما يخدم رؤيتها. لقد أدركت أمريكا بما لديها من قدرات استخباراتية ومتابعة للرأي العام في العالم الإسلامي، ميل المسلمين الجارف نحو الإسلام وتشوقهم لدولة الإسلام التي تطبق شرع الله، وأدركت أن هذا الأمر كائن لا محالة، إن عاجلاً أم آجلاً، لذلك فهي تعمل جاهدة لاستباق الأمر بإشغال المسلمين في حروب مدمرة فيما بينهم وتأجيج نيران الطائفية لحفر الأخاديد بين أبناء الأمة الواحدة وتعقيد اجتماعهم من جديد، وإلى جانب ذلك تعمل على تدمير البلاد المرشحة لقيام الخلافة فيها كي تجعل مهمة القيادة الإسلامية المقبلة شبه مستحيلة.

لقد تعلمت أمريكا من تجاربها الفاشلة في الصومال والعراق وأفغانستان، أن تتجنب قدر الإمكان الزج بجنودها في حروب مع المسلمين، فقد لمست قوة بأسهم، وشدة عزائمهم، لذلك فهي توكل مهامها القتالية في بلاد المسلمين إلى وكلائها في المنطقة، وقد اختارت لهذا الأمر السعودية لما تملكه من حمولة دينية تمكنها من رفع لواء الدفاع عن أهل السنة في وجه الشيعة الروافض كما تدعي، ولما تملكه من إمكانيات مادية تمكنها من شراء انخراط الدول العربية بما تغدقه عليهم من مساعدات.

في هذا الإطار يجب فهم زيارة وفد رجال الأعمال السعوديين إلى المغرب، وتعهد السعودية بضخ مزيد من الاستثمارات في المغرب، فالأمر لا يتعدى أن يكون رشوة سياسية، يقايض فيها مال النفط بدماء المسلمين من الجيش المغربي والأجهزة الأمنية الذين سيتم الزج بهم في أتون حرب تأكل الأخضر واليابس ولا يستفيد منها إلا الكافر المستعمر.

إن كان يجب على الجيش المغربي أن ينخرط في حرب خارج حدوده فالأولى أن يقاتل دفاعاً عن فلسطين لطرد يهود، أو في الشام لإنهاء ظلم نظام بشار المجرم، أو في بورما لإنقاذ المسلمين من براثن النظام البوذي الحاقد، أو في غيرها من المناطق الساخنة التي يُظلم فيها المسلمون ويُعتدى عليهم، أما أن نترك كل هذا ونقاتل في بلاد الشام لإجهاض ثورة أهلها المباركة جنباً إلى جنب مع الميليشيات الطائفية التي يدعي التحالف أنه يقاتلهم في اليمن، فهذا هو العبث والاستخفاف بدماء المسلمين، قال e: «إذا التقى المسلمان بسيفيهما، فالقاتل والمقتول في النار». قيل: يا رسول الله هذا القاتل، فما بال المقتول؟! قال: «إنه كان حريصاً على قتل صاحبه». [متفق عليه].

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد عبد الله

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست