"الأطفال لخدمة الأموال" مثال آخر على أن الأرباح الرأسمالية يتم تقديمها على الأخلاق الإنسانية (مترجم)
"الأطفال لخدمة الأموال" مثال آخر على أن الأرباح الرأسمالية يتم تقديمها على الأخلاق الإنسانية (مترجم)

الخبر:   في الثامن من تموز/يوليو، نشرت صحيفة نيويورك تايمز عن الرئيس الأمريكي أحدث صفقة لإطلاق مشروع يهدف إلى عرقلة قرارات الأمم المتحدة لدعم الرضاعة الطبيعية على المستوى الدولي، والتي تعتبر الوسيلة الفضلى لتغذية الأطفال حديثي الولادة. حاول وفد أمريكا، والذي يحتضن مصالح مصنّعي حليب الأطفال "تخفيف القرار" عن طريق إزالة ما تفرضه الحكومات من كتابة عبارات تدعو إلى "حماية وتعزيز ودعم الرضاعة الطبيعية" على الإعلانات المروجة للمنتجات وطرق التغذية البديلة والتي أثبتت الدراسات آثارها السلبية على صحة وتطور الأطفال حديثي الولادة.

0:00 0:00
Speed:
July 21, 2018

"الأطفال لخدمة الأموال" مثال آخر على أن الأرباح الرأسمالية يتم تقديمها على الأخلاق الإنسانية (مترجم)

"الأطفال لخدمة الأموال"

مثال آخر على أن الأرباح الرأسمالية يتم تقديمها على الأخلاق الإنسانية

(مترجم)

الخبر:

في الثامن من تموز/يوليو، نشرت صحيفة نيويورك تايمز عن الرئيس الأمريكي أحدث صفقة لإطلاق مشروع يهدف إلى عرقلة قرارات الأمم المتحدة لدعم الرضاعة الطبيعية على المستوى الدولي، والتي تعتبر الوسيلة الفضلى لتغذية الأطفال حديثي الولادة. حاول وفد أمريكا، والذي يحتضن مصالح مصنّعي حليب الأطفال "تخفيف القرار" عن طريق إزالة ما تفرضه الحكومات من كتابة عبارات تدعو إلى "حماية وتعزيز ودعم الرضاعة الطبيعية" على الإعلانات المروجة للمنتجات وطرق التغذية البديلة والتي أثبتت الدراسات آثارها السلبية على صحة وتطور الأطفال حديثي الولادة.

التعليق:

إن الحطام اللاإنساني الوحشي للفكر الرأسمالي واضح بشكل تام في هذا المثال السياسي، حيث إن أمريكا تحت تعليمات الرئيس ترامب المباشرة، تسعى لفرض عقوبات اقتصادية وضغوطات دبلوماسية على تلك الدول التي تدعم فكرة الرضاعة الطبيعية. ولقد كانت الإكوادور أول بلد يوضع في مرمى النيران الأمريكية، حيث صرحت واشنطن بشكل لا لبس فيه أنها ستطلق العنان "لمعاقبة النظم التجارية وسحب المساعدات العسكرية الحيوية". ونتيجة لذلك، تعرضت الحكومة الإكوادورية للتخويف لتغيير موقفها بسرعة واتبعت خط التعليمات الأمريكي. هذا التكتيك المتمثل في استخدام قناع ديمقراطي في الوقت الذي تستخدم فيه أقصى التدابير الديكتاتورية ضد أي كيان يتحدى مصالحها هو الاستراتيجية النموذجية لجميع الدول الرأسمالية الموجودة. ونتيجة لذلك، يمكننا دائمًا أن نتوقع أن قيمة الحياة وصحة الإنسان ومصالح الناس (حتى كبار السن والرضع) ستكون دائمًا تضحيات لتحسين المكاسب المادية والقوة السياسية، لأن هذه هي "الآلهة" التي يقدسونها على جميع المسائل الأخرى. إن الدول التي واجهت غضب أمريكا جعلت قضيتها معروفة ولكن "طلبت عدم ذكر اسمها لأنها تخشى الانتقام الأمريكي".

إن الأساليب نفسها التي تنتقد الدول الديمقراطية غيرها بها والتي تسمى دول العالم الثالث غير المتحضرة هي نفسها الأساليب التي تستخدمها بشكل متكرر من أجل الحصول على مزايا تخدم المصالح الوطنية. هذا النفاق واضح منذ بداية الرأسمالية وبغض النظر عن الادعاءات الإصلاحية، سيبقى هذا النفاق دائماً في قلب ما تقدمه الرأسمالية للبشرية.

فعندما نقارن هذا مع سياسات الإسلام العادلة والإنسانية، يمكننا أن نرى اختلافًا كبيرًا بين نظامي الحياة وكيف يتفق نظام الإسلام مع طبيعة البشر ويرفع مستوى تقدمهم. فالإسلام لا يقبل هيمنة النخبة القليلة على حساب إخضاع بقية العالم. إن أي منطقة قبلت العيش في ظل حكم الخلافة كانت دائمًا أفضل في كل جانب من جوانب مجالات الحياة الاجتماعية والسياسية. حتى بعد أن تم التخلي عن الإسلام كنموذج سياسي، ظل الناس مسلمين وظل تأثير الإسلام الإيجابي مثالًا يُحتذى به بعد مئات السنين، ويسعون إليه مرة أخرى.

إن الأجندة الاستعمارية لأوروبا وأمريكا ليس لها مثل هذه المكانة، فأي دولة تعاملت مع هذه الأجندة، قد عانت فقط من أسوأ الانتهاكات لحقوق الإنسان، ومن تجريد أراضيها ونهب مواردها. في الماضي واليوم يتم الاستخدام المتعمد للحرب والمجاعة بشكل متسلسل كأسلحة للسيطرة، حتى تحتفظ الدول الرأسمالية بالسيطرة على الآخرين عن طريق الخوف والقوة، ولا يتم استخدام هذا المنهج من قبل الناس الذين يرون النجاح الأخلاقي والاجتماعي لتلك الطرق في الحياة...

نسأل الله تعالى أن يعيد نظام الحكم الإسلامي مرة أخرى إلى البلاد الإسلامية بحيث تتم إزالة السياسات الليبرالية الديمقراطية والسياسات الرأسمالية الخانقة من الوجود، بحيث يتحرر العالم من السيطرة الفاسدة للقوانين الموضوعة من البشر.

إن الله سبحانه وتعالى يصف حكم الإسلام بأنه حكم نقي وعادل فهو موضوع من خالق الناس ولا يخدم أي مصلحة أنانية أخرى. قال تعالى: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ إِن يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقِيرًا فَاللَّهُ أَوْلَىٰ بِهِمَا فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَىٰ أَن تَعْدِلُوا وَإِن تَلْوُوا أَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا﴾.

من هذا يمكننا أن نرى أنه فقط وبعودة الدولة الإسلامية، الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، ستخدم مصلحة جميع الناس الصغار والكبار.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عمرانة محمد

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست