الاتحاد الأفريقي في 60 عاماً من تعزيز الاستعمار الجديد
الاتحاد الأفريقي في 60 عاماً من تعزيز الاستعمار الجديد

الخبر:   تمّ تشكيل الاتحاد الأفريقي المعروف سابقاً باسم منظمة الوحدة الأفريقية في أديس أبابا، إثيوبيا في 25 أيار/مايو 1963، عندما حصلت 32 دولة أي حوالي 60٪ من دول القارة على علمها. تهدف المؤسسة القارية إلى خلق ما وصفوه باستقلال أفريقيا "الكامل" عن الإمبريالية والاستعمار والفصل العنصري. لذلك بحلول 25 أيار/مايو 2023 تحتفل المنظمة بالذكرى الستين لتأسيسها. 

0:00 0:00
Speed:
June 17, 2023

الاتحاد الأفريقي في 60 عاماً من تعزيز الاستعمار الجديد

الاتحاد الأفريقي في 60 عاماً من تعزيز الاستعمار الجديد

(مترجم)

الخبر:

تمّ تشكيل الاتحاد الأفريقي المعروف سابقاً باسم منظمة الوحدة الأفريقية في أديس أبابا، إثيوبيا في 25 أيار/مايو 1963، عندما حصلت 32 دولة أي حوالي 60٪ من دول القارة على علمها. تهدف المؤسسة القارية إلى خلق ما وصفوه باستقلال أفريقيا "الكامل" عن الإمبريالية والاستعمار والفصل العنصري. لذلك بحلول 25 أيار/مايو 2023 تحتفل المنظمة بالذكرى الستين لتأسيسها.

التعليق:

على النحو المبين في ميثاق منظمة الوحدة الأفريقية، كانت الأهداف الرئيسية لها هي تعزيز وحدة وتضامن الدول الأفريقية، لتحقيق حياة أفضل لشعوب أفريقيا، وحماية سيادة الدول الأعضاء، وتخليص القارة من الاستعمار، ومواءمة سياسات الأعضاء السياسية والدبلوماسية والاقتصادية والتعليمية والثقافية والصحية والعلمية والتقنية والدفاعية.

بعد ستين عاماً، لم يتمّ تحقيق أي من الأهداف المذكورة أعلاه! فقد دخلت أفريقيا في حروب ونزاعات مسلحة لا نهاية لها منذ عام 1963، ووقعت أكثر من 35 حرباً وأكثر من 100 صراع مسلح في أفريقيا ما بعد الاستعمار، وكثير منها بين الدول الأفريقية نفسها، على سبيل المثال في عام 2019، 27 دولة على مستوى القارة تم تسجيل نزاعات بينها، وفي عام 2020، تم تسجيل 30 صراعاً، وفي عام 2021، تم تسجيل 25 صراعاً على مستوى الدول. وهذا يعني أن الاتحاد الأفريقي فشل في تحقيق الوحدة والتضامن والسلام في أفريقيا.

على الرّغم من حقيقة أن أفريقيا لديها إمكانات وثروات هائلة في العالم مع 30٪ من معادن العالم بما في ذلك 40٪ من الذهب، و90٪ من الكروم والبلاتين، وأكبر احتياطيات من الكوبالت والماس والبلاتين واليورانيوم وغيرها، ناهيك عن 65٪ من الأراضي الصالحة للزراعة في العالم، ومع ذلك، فإن أفريقيا هي أقلّ قارات العالم نمواً حيث تنتمي إليها 34 من أصل 49 دولة فقيرة في العالم. ويعيش أكثر من 40٪ من سكان القارة تحت فقر مدقع بأقل من دولار واحد في اليوم. لقد فشل الاتحاد الأفريقي في تحقيق حياة أفضل لشعوب أفريقيا.

فيما يتعلق بحماية سيادة الدول الأعضاء والتخلص من الاستعمار، نعلم جميعاً أن الاتحاد الأفريقي يمكنه أن يفعل ولكنه لم يفعل أبداً أي شيء لحماية سيادة أعضائه وأن أفريقيا تخضع للاستعمار الجديد. وقد تجلى الاستعمار الجديد من خلال القادة الدمى والانقلابات لصالح أسيادهم، متلازمة التبعية التي يعتمد عليها الأفارقة من خلال السياسات النقدية الاستعمارية والمؤسسات المالية مثل صندوق النقد الدولي والبنك الدولي، معقد النقص مع الاختلالات التجارية من خلال المنظمات والسياسات الاستعمارية مثل منظمة التجارة العالمية. والنظام التعليمي الذي تتجلى في ظلّه الأفكار والثقافات الاستعمارية في أفريقيا. وكذلك التبعية العسكرية، فلا توجد أي سيادة أفريقية يحميها الاتحاد الأفريقي، ولا التخلص من الاستعمار؛ لأن المستعمرين أنفسهم قاموا فقط بتغيير أسلوب الاستعمار القديم إلى الاستعمار الجديد باستخدام تقنيات مختلفة.

لذلك، بعد ستين عاماً من إنشاء الاتحاد الأفريقي، لم يحقق أياً من أهدافه وأسباب وجوده، بل عمل على نشر الاستعمار ومساعدة المستعمرين في استغلال ثروات أفريقيا. يرسل الاتحاد الأفريقي قوات لحماية الاستثمارات الاستعمارية في دول الحرب مثل الكونغو الديمقراطية مقابل رشوة تحت اسم الأموال لدعم عمليات السلام. كما تعمل كوكيل لنشر أجندة شريرة لحملة (الحرب على الإرهاب) والشذوذ الجنسي التي تضّطر الدول الأفريقية على أساسها لقتل وسجن مواطنيها من أجل تحقيق رشوة غربية باسم أموال مكافحة الإرهاب وتفكك وتدمير قيم النظام الاجتماعي.

بما أن الحقيقة الواضحة أن الاتحاد الأفريقي قد تمّ تشكيله كأداة استعمارية، والاتفاق بين المستعمرين على توحيد مستعمراتهم بحيث يكون من الأسهل توجيههم معاً، في هذه الحالة فإنه لن يحقق أبداً أياً من أهدافه.

سوف تتحرر أفريقيا حقاً من جميع القيود الاستعمارية بمجرد إقامة دولة الخلافة الراشدة. فقد كانت أفريقيا تتمتع بمكانة مزدهرة كما كانت خلال الحكم الإسلامي، حيث حقق الأفارقة مستوى معيشياً مرتفعاً وألغوا الفقر إلى الحدّ الذي لم يكن يوجد شخص يُعطى فيه الزكاة. فقد روى يحيى بن سعيد الذي كان والياً في ذلك الوقت في عهد الخليفة عمر بن عبد العزيز، قال: "بعثني عمر بن عبد العزيز على صدقات إفريقية فاقتضيتها، وطلبت فقراء نعطيها لهم فلم نجد بها فقيرا، ولم نجد من يأخذها مني، قد أغنى عمر بن عبد العزيز الناس، فاشتريت بها رقابا فأعتقتهم وولاؤهم للمسلمين" (ابن عبد الحكم، عبد الله (1994) الخليفة العادل عمر بن عبد العزيز: خامس الخلفاء الراشدين، دار الفضيلات)

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سعيد بيتوموا

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في تنزانيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست