الاتحاد الأوروبي والمستعمرات الروسية في آسيا الوسطى
الاتحاد الأوروبي والمستعمرات الروسية في آسيا الوسطى

الخبر:   في 11 تشرين الثاني/نوفمبر، ذكرت IA UzDaily.uz: "في 10 تشرين الثاني/نوفمبر، 2017 عقد اجتماع بين وزراء خارجية بلدان الاتحاد الأوروبي وآسيا الوسطى في سمرقند. وهم وزراء خارجية أوزبيكستان، عبد العزيز كاملوف، وكازاخستان خيرات عبد الرحمنوف، وقرغيزستان إيرلان عبدياداييف، وطاجيكستان سيرودجيدين اسلوف، وتركمانستان رشيد مريدوف، والممثل السامي للاتحاد الأوروبي، نائب رئيس مفوضية الاتحاد الأوروبي، وشارك في الاجتماع فيديريكا موغيريني، ومفوضة الاتحاد الأوروبي للتعاون والتنمية الدوليين نيفين ميميتسا".

0:00 0:00
Speed:
November 25, 2017

الاتحاد الأوروبي والمستعمرات الروسية في آسيا الوسطى

الاتحاد الأوروبي والمستعمرات الروسية في آسيا الوسطى

(مترجم)

الخبر:

في 11 تشرين الثاني/نوفمبر، ذكرت IA UzDaily.uz: "في 10 تشرين الثاني/نوفمبر، 2017 عقد اجتماع بين وزراء خارجية بلدان الاتحاد الأوروبي وآسيا الوسطى في سمرقند. وهم وزراء خارجية أوزبيكستان، عبد العزيز كاملوف، وكازاخستان خيرات عبد الرحمنوف، وقرغيزستان إيرلان عبدياداييف، وطاجيكستان سيرودجيدين اسلوف، وتركمانستان رشيد مريدوف، والممثل السامي للاتحاد الأوروبي، نائب رئيس مفوضية الاتحاد الأوروبي، وشارك في الاجتماع فيديريكا موغيريني، ومفوضة الاتحاد الأوروبي للتعاون والتنمية الدوليين نيفين ميميتسا".

وقد تم التعبير عن فكرة وضع استراتيجية جديدة للاتحاد الأوروبي لآسيا الوسطى خلال الاجتماع. وعلى وجه الخصوص، قالت فيديريكا موغيريني "لقد قررنا أن نقوم بتحديث موقفنا إزاء الشراكة مع المنطقة، وتبادلنا وجهات النظر حول أولويات التعاون لاستراتيجية الاتحاد الأوروبي القادمة لآسيا الوسطى التي سيتم تبنيها واعتمادها في غضون 18 شهرا". و"ينظر الاتحاد الأوروبي بصورة متزايدة إلى آسيا الوسطى ليس في نوعية المستفيد، ولكن باعتباره شريكا اقتصاديا، تصبح المنطقة نفسها مكانا جذابا للاستثمارات الأوروبية في الوقت الحالي أكثر من أي وقت مضى، وتبدي بلدان المنطقة رغبتها في العمل معا. ولم يكن لدينا أبدا مثل هذا الحوار الإيجابي والبناء. وأود أن أقول إننا في قمة تعاوننا، ولكننا لا نريد استخدامه كهدف نهائي بل كنقطه انطلاق جديدة".

التعليق:

لقد شكلت دول آسيا الوسطى بوصفها "دولا مستقلة" بحدودها الحالية بعد انهيار الاتحاد السوفياتي، وبقيت حتما تعتمد - بدرجات متفاوتة - على حاكمهم السابق، والآن في مواجهة روسيا. قد تجلى ذلك في انضمام بلدان آسيا الوسطى إلى رابطة الدول المستقلة ومنظمة شنغهاي للتعاون ومنظمة معاهدات الأمن الجماعي وغيرها من المؤسسات والمنظمات التي شكلتها روسيا والتي لا تريد أن تخسر أراضيها المستعمرة، وترصد باستمرار العمليات الجارية في هذه المنطقة.

وبدأت علاقات الاتحاد الأوروبي مع بلدان آسيا الوسطى تتطور بسرعة في مطلع التسعينات، وبمرور الوقت، مرت هذه العلاقات بتغيرات عديدة. وبالنظر إلى علاقات كازاخستان في شخص الرئيس نزارباييف الذي حافظ على علاقات حميمة وودية مع الاتحاد الأوروبي لسنوات عديدة، قامت أوزبيكستان في شخص الرئيس كريموف بعد أحداث أنديجان عام 2005 بتجميد علاقاتها مع الاتحاد الأوروبي عمليا، وحتى المصرف الأوروبي للإنشاء والتعمير قد أغلق آخر مشروع له بالفعل في عام 2007 وغادر أوزبيكستان.

إن تغيير القيادة في أوزبيكستان، بعد وفاة الدكتاتور الأول كريموف، قد غير السياسة الخارجية للبلد تغييرا جذريا، وحاول الطاغية كريموف، بسبب عجزه عن انتهاج سياسة مستقلة، أن ينأى بنفسه عن التبعية الكاملة لمستعمر أو آخر، وظل معزولا تقريبا، وهذا ما أكدته السنوات الأخيرة من حكمه.

قرر الرئيس الجديد لأوزبيكستان ميرزياييف، على عكس الطاغية الأول كريموف أن يلقي نفسه تماما تحت رحمة راعيه في مواجهة روسيا. ولذلك، فإن السياسة الخارجية الأخيرة لأوزبيكستان، ممثلة بالرئيس الجديد للدولة ميرزياييف، ينبغي أن ينظر فيها انطلاقا من المصالح الخاصة بمالكها روسيا، لأنه من غير الممكن أن هذه الأخيرة بمثل هذا الوقت القصير قد جعلت أوزبيكستان دولة مستقلة بأنها ستقوم بمثل هذه الحالات بصورة مستقلة.

إن العلاقات بين الاتحاد الأوروبي ودول آسيا الوسطى، ولا سيما أوزبيكستان، لا تتعارض مع مصالح روسيا. بل على العكس من ذلك، فإن روسيا نفسها تضغط على هذه الجمهوريات لوضع جميع أنواع الاتفاقات الاقتصادية مع الاتحاد الأوروبي، لأنها واثقة من أن لها سيطرة جيدة على الوضع في هذه المنطقة. وتحتاج روسيا إلى سوق لبيع الموارد من مستعمراتها، والاتحاد الأوروبي هو أحد هذه الأسواق.

وكالعادة فإن استثمارات الاتحاد الأوروبي في هذه المنطقة، لن تعود بالنفع على شعوب هذه البلاد. بل على العكس من ذلك، فإنها ستكون بمثابة أداة لنهب الموارد الطبيعية وتعقيد المجالات الاقتصادية والاجتماعية وغيرها من مجالات ومناحي حياة المسلمين في وسط آسيا.

وينبغي على المسلمين في آسيا الوسطى التخلي عن الخضوع للحكام المستبدين الفاسدين، الذين يعملون لإرضاء أسيادهم في وجه روسيا والبلدان الاستعمارية الأخرى. وعلى كل حال فإنه من الواضح بالفعل للجميع أن سياستها الخارجية لا تقوم إلا على اكتساب الثروة المادية وليس أكثر من ذلك.

ولن يتحقق الازدهار والرفاهية في هذه البلاد إلا بإقامة الخلافة. والدليل على ذلك هو تاريخنا. وبمجيء الإسلام، فقد اكتسب سكان هذه البلاد ثقافة أكبر والتي وحدت هذه الأمم وتفاخرت بهم أمام الشعوب الأخرى لقرون عديدة.

وبناء على ذلك، فإنه لا يوجد مفر للخروج من هذا الوضع المرفوض من المسلمين في آسيا الوسطى، إلا من خلال العمل مع حزب التحرير لإقامة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة. ونسأل الله العون.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إلدر خمزين

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست