الاتحاد الأوروبي يريد حصته من "فطيرة" آسيا الوسطى
الاتحاد الأوروبي يريد حصته من "فطيرة" آسيا الوسطى

  الخبر: تبنى حكام دول آسيا الوسطى والاتحاد الأوروبي إعلاناً مشتركاً يرفع العلاقات بين الطرفين إلى مستوى الشراكة الاستراتيجية. (2025/04/04م)

0:00 0:00
Speed:
April 11, 2025

الاتحاد الأوروبي يريد حصته من "فطيرة" آسيا الوسطى

الاتحاد الأوروبي يريد حصته من "فطيرة" آسيا الوسطى

الخبر:

تبنى حكام دول آسيا الوسطى والاتحاد الأوروبي إعلاناً مشتركاً يرفع العلاقات بين الطرفين إلى مستوى الشراكة الاستراتيجية. (2025/04/04م)

التعليق:

في 3-4 نيسان/أبريل 2025 عقد حكام الاتحاد الأوروبي وآسيا الوسطى أول قمة لهم في سمرقند في أوزبيكستان وأعلنوا عن شراكة استراتيجية جديدة لتطوير العلاقات بينهم. وقد حضر القمة رئيس المجلس الأوروبي أنطونيو كوشتا ورئيسة المفوضية الأوروبية أورسولا فون دير لاين وقادة أوزبيكستان وكازاخستان وقرغيزستان وطاجيكستان وتركمانستان. وقد حظيت القمة بالاعتراف بأنها نقلت العلاقات بين آسيا الوسطى والاتحاد الأوروبي إلى مرحلة تاريخية جديدة، وحظيت جميع تفاصيلها بتغطية نشطة من وسائل الإعلام المحلية والأجنبية. كان من المتوقع أن تكون هذه القمة حدثاً مهماً للغاية بالنسبة للأنظمة في آسيا الوسطى، وخاصة بالنسبة النظام الأوزبيكي. ولهذا السبب، كانت تستعد بجد لتنظيم هذا الحدث الرفيع المستوى. وحتى خلال أيام انعقاد القمة، أغلقت الطرق المؤدية إلى مدينة سمرقند مؤقتاً. لأنه كان من المتوقع أن يعلن الاتحاد الأوروبي في القمة عن استثمارات ومساعدات بمليارات الدولارات للمنطقة وقد حدث ذلك بالفعل. ويمكن تلخيص القضايا الرئيسية للقمة على النحو التالي:

1. تطوير ممرات النقل. وافق الاتحاد الأوروبي على تخصيص 10 مليارات يورو لتطوير ممر النقل العابر لبحر قزوين، والذي سيختصر الطريق البري بين أوروبا وآسيا الوسطى إلى النصف تقريباً (15 يوماً).

2. المعادن المهمة جدا والطاقة الخضراء والاتصالات الرقمية والإنترنت عبر الأقمار الصناعية. تمتلك آسيا الوسطى 40% من احتياطيات المنغنيز في العالم بالإضافة إلى احتياطيات كبيرة من الليثيوم والجرافيت. ويشارك الاتحاد الأوروبي في بناء محطتين لتوليد الطاقة الكهرومائية وهما محطتا روغون في طاجيكستان وكمباروتي في قرغيزستان. كما أعلن عن إطلاق برنامج أقمار صناعية لربط المناطق النائية. وأعلنت أورسولا فون دير لاين عن إطلاق حزمة استثمارات البوابة العالمية بقيمة 12 مليار يورو. وينقسم هذا المبلغ بين أربعة قطاعات: النقل (3 مليارات يورو)، والمعادن المهمة (2.5 مليار يورو)، والطاقة الكهرومائية والمناخ (6.4 مليار يورو)، والإنترنت عبر الأقمار الصناعية (100 مليون يورو).

3. هدف الاتحاد الأوروبي هو التقليل من نفوذ روسيا والصين في المنطقة وتقليص منطقة مصالحهما الحيوية ومنع روسيا من التهرب من العقوبات.

4. ينظر الاتحاد الأوروبي إلى القضية الأمنية في آسيا الوسطى من منظور الحرب الروسية ضد أوكرانيا واستيلاء طالبان على السلطة في أفغانستان وتعزيز الصين لسياستها الخارجية وتزايد شعبية الإسلام السياسي بين السكان وتزايد السخط الشعبي.

5. في ظروف الحرب التجارية بين أمريكا وأوروبا يأمل الاتحاد الأوروبي في فتح سوق جديدة في آسيا الوسطى. وينظر إلى هذه المنطقة التي يزيد عدد سكانها عن 80 مليون نسمة كسوق استهلاكية كبيرة. وعشية القمة وصفت رئيسة المفوضية الأوروبية أورسولا فون دير لاين القمة في سمرقند بأنها جزء من استراتيجية أوروبا للرد على الرسوم الجمركية الأمريكية.

وهنا يبرز سؤال في محله: كيف ستؤثر القضايا التي نوقشت في هذه القمة وعواقبها على حياة المسلمين في آسيا الوسطى وخاصة على شعب أوزبيكستان؟

الإجابة المختصرة على هذا السؤال هي:

على الرغم من أن ممرات النقل تُعتبر فرصة لبضائع آسيا الوسطى للوصول إلى الأسواق العالمية إلا أنها تخدم مصالح الاتحاد الأوروبي في الأصل، لأن دول المنطقة لا تمتلك قاعدة تصنيع المنتجات للتصدير، بل هي مجرد قاعدة للمواد الخام التي تزود بالعمالة الرخيصة. هذه الممرات ضرورية لنقل الموارد الطبيعية التي هي ملك شعوب المنطقة، وتصنيعها ثم بيعها لنا بأضعاف أضعاف ثمنها. وبالإضافة إلى ذلك هناك دفع كبير جدا للانضمام إلى نظام الأفضليات المعمم + GSP الذي يوفر وصولاً تفضيلياً إلى الأسواق الأوروبية. وهذا يعني الالتزام بضمان تطبيق الحريات الديمقراطية الفاسدة والقوانين المنبثقة عنها. أما الاستثمار ففي أي قطاع يتم توجيهه سترتفع الأسعار في ذلك القطاع، لأنه من أجل جذب المستثمرين الأجانب من الضروري رفع الأسعار. ومن الأمثلة الصارخة على ذلك الارتفاع الحاد في أسعار الطاقة والخدمات العامة في أوزبيكستان والذي من المتوقع أن يستمر.

إن سياسة الاتحاد الأوروبي ضد روسيا والصين لا سيما رغبته في ضم آسيا الوسطى إلى جانبه لمنع روسيا من التحايل على العقوبات التي فرضها ليست علامة جيدة لشعوب المنطقة، لأن ذلك يعني اختيار النأي عن روسيا والصين والتبعية للغرب وخاصة الاتحاد الأوروبي. وهذا يشبه استبدال ربقة جديدة لامعة بربقة صدئة. وأما القضايا الأمنية فالاتحاد الأوروبي يشعر بقلق مستمر إزاء تنامي تطلعات حكومة طالبان في أفغانستان إلى الحكم الإسلامي وكذلك تنامي الميل المتزايد نحو الإسلام بين الشعوب المسلمة في آسيا الوسطى. لذلك فهو يراقب ويدعم باستمرار حرب أنظمة آسيا الوسطى على الإسلام والمسلمين بحجة محاربة الإرهاب والتطرف.

إن فكرة استخدام آسيا الوسطى كرد فعل على الإجراءات الأمريكية التي تضع الاتحاد الأوروبي في موقف صعب، تُظهر مدى أطماعه؛ لأنه في الوضع الحالي، فإن حقيقة تأكيده على أن آسيا الوسطى أصبحت أكثر أهمية بالنسبة له تُظهر أن مقياسه هو مصالحه الخاصة فقط. لذلك من السهل أن ندرك أن الهدف هو تحقيق أقصى قدر من المصالح من آسيا الوسطى. والكلام والمصافحة والضحك الماكر والرسميات الأخرى كلها ما هي إلا تمويه ليخدع الشعب.

يجب على الشعوب المسلمة في أوزبيكستان وآسيا الوسطى ألا تنخدع بحديث الاتحاد الأوروبي بقيادة فرنسا عن الصداقة والتعاون. ولا ينبغي أن ينخدعوا بتبجحات الأنظمة القمعية الظالمة التي فوقهم بأن علاقاتهم مع الدول الاستعمارية الكافرة في تطور. هذه الدول الشريرة لم تكن يوماً صديقة للمسلمين ولن تكون كذلك أبداً. وهذه الأنظمة ليس لديها ما يقلقها سوى إرضاء الكفار المستعمرين وإطالة عمر عروشها. لذلك على الشعوب الإسلامية في آسيا الوسطى بما في ذلك أوزبيكستان أن تتحد كيد واحدة وتدرك أن الطريق الحقيقي الوحيد للعزة والقوة هو الإسلام، وأن عليها أن تبذل كل طاقاتها ومواردها لإيصاله إلى الحكم.

﴿وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيماً فَاتَّبِعُوهُ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إسلام أبو خليل – أوزبيكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست