الاتجار بالبشر تحت ستار هجرة العمال في جنوب شرق آسيا
الاتجار بالبشر تحت ستار هجرة العمال في جنوب شرق آسيا

الخبر:   تم الكشف عن المصاعب التي يواجهها العمال المهاجرون الإندونيسيون في كمبوديا في أوائل آب/أغسطس. ففي مؤتمر صحفي عن بُعد بعنوان "الحالة الطارئة للعمال المهاجرين الإندونيسيين في كمبوديا" نظمته رعاية المهاجرين في 1 آب/أغسطس، جاء فيه: "يتعرض أولئك الذين لا يصلون إلى أهدافهم للاتجار والضرب والصعق بالكهرباء. تم حرق جوازات السفر، دون دفع أي غرامات"، من التقارير التي تلقتها منظمة رعاية المهاجرين، من المعروف أن الضحايا جاؤوا من مناطق مختلفة من إندونيسيا، ...

0:00 0:00
Speed:
September 06, 2022

الاتجار بالبشر تحت ستار هجرة العمال في جنوب شرق آسيا

الاتجار بالبشر تحت ستار هجرة العمال في جنوب شرق آسيا

(مترجم)

الخبر:

تم الكشف عن المصاعب التي يواجهها العمال المهاجرون الإندونيسيون في كمبوديا في أوائل آب/أغسطس. ففي مؤتمر صحفي عن بُعد بعنوان "الحالة الطارئة للعمال المهاجرين الإندونيسيين في كمبوديا" نظمته رعاية المهاجرين في 1 آب/أغسطس، جاء فيه: "يتعرض أولئك الذين لا يصلون إلى أهدافهم للاتجار والضرب والصعق بالكهرباء. تم حرق جوازات السفر، دون دفع أي غرامات"، من التقارير التي تلقتها منظمة رعاية المهاجرين، من المعروف أن الضحايا جاؤوا من مناطق مختلفة من إندونيسيا، مثل ميدان وجاكرتا وديبوك وإندراجيري هولو وجيمبر. ويقوم الموكلون في كمبوديا بإغراق المهاجرين بوعود من مثل العمل كمشغلين وفي التسويق وخدمة العملاء مع رواتب موعودة تبلغ 1000 دولار أمريكي (14 مليون روبية) إلى 1500 دولار أمريكي (22 مليون روبية). ومع ذلك، اتضح أن هذه الوعود كانت احتيالاً. وفي الواقع، يتم بيع العمال المهاجرين الإندونيسيين بأسعار مختلفة. ومن المعروف أنه تم بيع عامل إندونيسي بمبلغ 2000 دولار أمريكي (29 مليون روبية).

في الوقت نفسه، ظهرت حالات من تايوان، من خلال التحقيقات التي أجرتها السلطات التايوانية، حيث تم تهريب آلاف التايوانيين عبر كمبوديا إلى دول جنوب شرق آسيا وإجبارهم على العمل في عصابات إجرامية. وسط تقارير مروعة عن ضحايا الاتجار بالبشر، أجرت وكالة الشرطة الوطنية تحقيقاً بناءً على سجلات الرحلات الجوية، وكشفت أن حوالي 1000 تايواني سافروا إلى كمبوديا شهرياً معظم هذا العام ولكن في المتوسط عاد 100 فقط إلى منازلهم. (الدبلوماسي، 16 آب/أغسطس).

وقد حذرت تايوان، وفيتنام، وإندونيسيا، وتايلاند، وماليزيا، وباكستان، والصين، بالإضافة إلى قائمة طويلة من جماعات حقوق الإنسان من عصابات تهريب كبرى تجتذب الناس إلى كمبوديا وميانمار بوعود زائفة بوظائف بأجر جيد. وجدت الغالبية العظمى نفسها في سيهانوكفيل، وهي مدينة ساحلية على الساحل الجنوبي لكمبوديا تشتهر بانعدام القانون، حيث يُجبرون على القيام بعمليات احتيال عبر الإنترنت تتضمن المقامرة والعملات المشفرة والاحتيال العاطفي، من بين أمور أخرى، لمدة تصل إلى 20 ساعة في اليوم.

التعليق:

أدى اختلال دور الدولة في النظام الرأسمالي إلى فشل كبير في منع الاتجار بالبشر وحماية الإنسانية والحفاظ على كرامة الإنسان. ففي الرأسمالية، الناس ليسوا سوى سوق ومدخرات اقتصادية، بما في ذلك مصدر للتحويلات المالية من العمال المهاجرين لبلادهم. مبدأ المعاملات هذا هو سبب فشل الدولة الرأسمالية في حماية شعبها وازدهاره.

بل إن الدول الرأسمالية لا حول لها ولا قوة أمام قوة جماعات الأوليغارشية السوداء التي تقف وراء أكبر شبكة للاتجار بالبشر. يمكن للحكومة الفيتنامية نفسها فقط إجراء تفتيش وطني لجميع الأجانب الذين يعيشون في كمبوديا، باستثناء موظفي السفارة كما ذكر الدبلوماسي في 20 آب/أغسطس.

نتيجة لذلك، لا تتعلق مشكلة الاتجار بالبشر في كمبوديا بحجم كمبوديا كدولة مقارنة بإندونيسيا، حيث إنها أكبر بكثير. لكن ما نواجهه هنا هو القوة المظلمة للرأسمالية أو ما يعرف باليد الخفية. إنها جماعات الاتجار بالبشر التي أصبحت صناعة وشبكة كبيرة هناك. حتى كمبوديا عُرفت منذ فترة طويلة بأنها سوق للاتجار بالبشر والتي ستنتقل إلى تايلاند وفيتنام. يرجع تطور هذه الجماعات على وجه التحديد إلى عدم الاستقرار السياسي والفقر وانخفاض مستويات التعليم في بلد يُعرف باسم جحيم العالم.

وفي الوقت نفسه، ومن ناحية أخرى، تعتبر الحكومة الإندونيسية نفسها أيضاً غير قادرة على ضمان رفاهية رعاياها بفرص عمل مناسبة. لا شك أنهم يفضلون البحث عن الفرص في الخارج من خلال الهجرة. علاوة على ذلك، فإن النظر من هذه الزاوية يظهر أيضاً ضعف الدولة في حماية شعبها. من منظور جشع، يُنظر إلى وجود العمال المهاجرين الإندونيسيين على أنهم ذوو فائدة بسبب تحويلات النقد الأجنبي التي تدخل البلاد.

تحتاج إندونيسيا وماليزيا وبلدان إسلامية أخرى إلى التوقف عن كونها دولاً تتعامل بالرأسمالية، حيث ترى كل شيء فقط من منظور رأسمالي بحت، وتخدم الأوليغارشية وتسمح باستغلال الناس وكأنهم تحويلات مالية! من الواضح أن منظور المعاملات هذا متجذر في المبدأ العلماني الرأسمالي.

إن تطبيق النظام الرأسمالي يجعل الأخطبوط الأجنبي والشركات الأجنبية تمتص الثروة الطبيعية للبلاد بحرية، بحيث يكون الناس أنفسهم مثل الدجاج الذي يموت في حظيرة الأرز، حيث يتوجب على الشعب أن يقاتل من أجل حبة أرز، وأن يصبحوا ضحايا مختلف الجماعات، بينما تنشغل الحكومة في العمل على جذب الاستثمار الأجنبي لتنمية البلاد! هذا هو السبب الرئيسي لفقدان البلدان الإسلامية احترامها لنفسها ومكانتها في الخارج.

على عكس النظام الرأسمالي الذي يقلل من دور الدولة ويعطي الأولوية لدور السوق، فإن الإسلام يعطي الدولة دوراً حيوياً للغاية ويجعل مهمتها الأساسية خدمة ورعاية حاجات الناس وحماية الضعفاء ومنع الظلم. وسيقلل هذا المبدأ الأساسي من مشاكل العمل داخل الخلافة، وإذا وجد أي منها فسيتم حلها بسرعة من خلال تطبيق أحكام الشريعة الإسلامية الشاملة.

وبالمثل، فإن مشكلة هجرة العمال التي تضحي بملايين النساء، لن يتسامح معها الخليفة، وستجد الدولة قريباً طريقة للقضاء عليها من جذورها. يقول النبي ﷺ: «...فَالْإِمَامُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ».

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. فيكا قمارة

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست