الأزمة الديموغرافية سببها الافتقار إلى الأيديولوجية (مترجم)
الأزمة الديموغرافية سببها الافتقار إلى الأيديولوجية (مترجم)

الخبر:   وفقا للإحصاءات الرسمية لم يعد عدد سكان مدينة دنيبرو الأوكرانية يزيدون على مليون نسمة، حيث تم إحصاء أقل من مليون شخص حتى 1 آب/أغسطس، فالسكان الحاليون هم 996787 نسمة. ووفقًا لوكالة الإحصاء الحكومية فإن إجمالي سكان أوكرانيا حتى 1 آب/أغسطس 2018 بلغ 42248100 نسمة. (zn.ua)

0:00 0:00
Speed:
September 30, 2018

الأزمة الديموغرافية سببها الافتقار إلى الأيديولوجية (مترجم)

الأزمة الديموغرافية سببها الافتقار إلى الأيديولوجية

(مترجم)

الخبر:

وفقا للإحصاءات الرسمية لم يعد عدد سكان مدينة دنيبرو الأوكرانية يزيدون على مليون نسمة، حيث تم إحصاء أقل من مليون شخص حتى 1 آب/أغسطس، فالسكان الحاليون هم 996787 نسمة.

ووفقًا لوكالة الإحصاء الحكومية فإن إجمالي سكان أوكرانيا حتى 1 آب/أغسطس 2018 بلغ 42248100 نسمة. (zn.ua)

التعليق:

المرة الأولى التي بلغ فيها عدد سكان مدينة دنيبرو أكثر من مليون نسمة كانت في عام 1976. بعد ذلك ازداد عدد سكانها حتى انهيار الاتحاد السوفييتي ووصل حده الأقصى (1.2 مليون شخص) في عام 1993. وبعد ذلك انخفض عدد سكانها، وفي نهاية عام 2000 أصبح أقل من مليون. استمر هذا الوضع حتى عام 2017 عندما تسببت الهجرة من شرق أوكرانيا بسبب النزاع في أن أصبح عدد سكان دنيبرو مرة أخرى مليون شخص. أخيرا في أيلول/سبتمبر 2018 أصبح سكانها مرة أخرى أقل من 1 مليون.

من السيئ أن نذكر أن هذه المدينة تمتلك جميع العوامل لزيادة ثابتة لسكانها. دنيبرو هي مركز صناعي رئيسي في أوكرانيا، ولديها العديد من المرافق المخصصة للصناعة الثقيلة التي تنتج مجموعة واسعة من المنتجات بما في ذلك الحديد الزهر والمعدن المدلفن والأنابيب والآلات وجميع المعادن المختلفة والمعدات الزراعية والجرارات والترولي والبراد والمواد الكيميائية المختلفة وغيرها الكثير. وقد هيمنت دنيبرو أيضاً على صناعة الطيران منذ خمسينات القرن الماضي، وفي قسم البناء هناك مكتب التصميم يوزنوي ويوزماش معروفين جيدا للمتخصصين في جميع أنحاء العالم. والمعادن والفلزات هي الصناعة الأساسية للمدينة من حيث الإنتاج. دنيبرو هي عاصمة الأعمال غير الرسمية لأوكرانيا.

هذا الانخفاض في عدد السكان يحدث ليس فقط في دنيبرو ولكن في المدن الأخرى في أوكرانيا أيضا. وقد تم تأكيده صراحة من خلال "تقرير حالة مدن العالم لعام 2012-2013" الذي أفاد بأن المدن الأوكرانية دنيبرو ودونيتسك وزابوريزهيا من بين الخمسة الأوائل من حيث عدد السكان. (censor.net.ua)

إن الوضع الديموغرافي في دنيبرو يعكس اتجاهات السكان في أوكرانيا، فقد وصل انخفاض عدد السكان بعد انهيار الاتحاد السوفياتي في أوكرانيا إلى الذروة - 52 مليوناً. وخلال السنوات الـ25 التالية انخفض عدد السكان ليصل إلى 42 مليوناً في عام 2018. وبالتالي انخفض عدد الأوكرانيين 20%.

كما تنبأ معهد الديموغرافيا والأبحاث الاجتماعية (NASU) بأنه إذا كان معدل الخصوبة ومدة الحياة ومعدل الهجرة لن يتغير، فإنه في عام 2050 سينخفض عدد سكان أوكرانيا ​​إلى 32 مليوناً، وسوف يزيد عدد الأشخاص الأكبر من 60 سنة 1.5 مرة. وهذه الأرقام بالأخذ بعين الاعتبار العوامل الديموغرافية فقط مع إهمال عوامل الهجرة.

معدل الولادات الشرعية ومعدلات الوفاة المرتفعة وهجرة اليد العاملة نتيجة لاستحالة العثور على عمل براتب مستحق داخل أوكرانيا بالإضافة للفساد وعدم الاستقرار السياسي والاقتصادي وتدني المقاييس المجتمعية والطبية... كل هذا يقال إنه سبب انخفاض عدد السكان.

ولكن بعد إعادة النظر نرى أن كل هذه الأسباب التي ذكرت ليست سوى مظهر لسبب أكثر عمومية وعالمية.

فالسبب الحقيقي هو عدم وجود أيديولوجية في أوكرانيا يمكن أن توحد جميع السكان حول الحركات والأحزاب السياسية المبنية على هذه الأيديولوجية.

بعد انهيار اتحاد الجمهوريات الاشتراكية السوفياتية ورفض الشيوعية أصبح الشعب الأوكراني والنخبة السياسية يحومون باحثين عن فكرة جديدة يمكن أن توحد سكان أوكرانيا الذين يملكون القدرة الكافية ليصبحوا قوة إقليمية على الأقل.

ويؤدي الافتقار إلى الأيديولوجية إلى عدم وجود قيادة سياسية مخلصة مستقرة، مما يؤدي إلى عدم استقرار سياسي واقتصادي.

من المعروف جيدا بالنسبة لكل واحد أنه على مدى 25 عاما كانت أوكرانيا ساحة لمنافسة لا ترحم بين قوى دولية مثل روسيا وأمريكا والاتحاد الأوروبي. وكل هذه القوى تعتبر الناس وقدرات أوكرانيا ليست أكثر من مجرد مورد وكأس في هذا الكفاح.

لذلك من الطبيعي في مثل هذه الظروف أن نحصل على معدلات ولادة شرعية منخفضة ومعدلات وفاة عالية وهجرة للعمال في الخارج وفساد ومواقع مجتمعية واقتصادية منخفضة.

لهذا فإن مدناً مثل دنيبرو في الماضي القريب كانت منبع الإمكانيات الاقتصادية والصناعية لأوكرانيا ومع مرور الوقت تصبح صحراء غير متحركة.

اليأس من الوضع هو في الحقيقة دليل على أن الأوكرانيين الآن يسعون لتحقيق طموحهم للتخلص من بقايا الشيوعية التي هي روسيا الحديثة وتقدم أيديولوجية الرأسمالية التي تزيد فكرتها من الفشل في الوصول إلى التقدم والاستقرار.

أما البديل الثالث وهو اختيار المبدأ الإسلامي، فلا يناقش في الأجندة الأوكرانية لأسباب مفهومة.

والواقع أن مثل هذه الظروف الصعبة تحدث في جميع الدول التي تبحث عن ملجأ في أنظمة من صنع الإنسان بما في ذلك ما يسمى بالبلدان الأوروبية المتقدمة وأمريكا.

ستستمر هذه المحنة حتى تبرز في الساحة العالمية الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة وهي دولة مبنية على مبدأ الإسلام، والتي ستصبح منارة العدل والنمو الاقتصادي وستكون أيضاً مثالاً للتعايش بين الناس، وستضم مختلف الأديان والقوميات في دولة واحدة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فضل أمزاييف

رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في أوكرانيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست