الأزمة السعودية القطرية، والواجب الشرعي تجاهها
الأزمة السعودية القطرية، والواجب الشرعي تجاهها

الجبير: السعودية تمارس حقها السيادي في قطع العلاقات مع قطر. (صحيفة الجزيرة السعودية 2017/06/13)

0:00 0:00
Speed:
June 15, 2017

الأزمة السعودية القطرية، والواجب الشرعي تجاهها

الأزمة السعودية القطرية، والواجب الشرعي تجاهها

الخبر:

الجبير: السعودية تمارس حقها السيادي في قطع العلاقات مع قطر. (صحيفة الجزيرة السعودية 2017/06/13)

التعليق:

- إن المتتبع للأزمة التي ظهرت فجأة بين السعودية وقطر بعد أيام قليلة من استقبال الحكومة السعودية لأمير قطر بشكل طبيعي خلال مشاركته في مؤتمر "القمة الخليجية الأمريكية" الأخير، بعد زيارات سابقة عديدة من أمير قطر لبلاد الحرمين، يدرك أن هذا التغير المفاجئ لا يكون بسبب تصريح منسوب لجهة معينة قامت مباشرة بنفيه، ويدرك أن هذه الأزمة لا يمكن أن تكون نتيجة أحداث قديمة تم تذكّرها الآن كما زعم بيان المقاطعة، بل إن كل مفكر عاقل يدرك أن هذه الأزمة لم تبرز إلا كنتيجة لزيارة رأس الأفعى ترامب وبناء على تعليماته...

- لم يترك ترامب بعدائه الصريح وحبه للتفاخر هذا الأمر للتفكير والاستنتاج بل صرح به صراحة في أكثر من مناسبة، حيث جاء في بي بي سي 2017/6/6 (لمح الرئيس الأمريكي دونالد ترامب إلى تأثير زيارته الأخيرة إلى الخليج على قرار قطع العلاقات مع قطر، وقال ترامب إنه تلقى معلومات خلال هذه الزيارة تفيد بأن الدوحة تمول حركات ذات "أيديولوجية متشددة". وذكر في تغريدات على حسابه الرسمي على تويتر "خلال زيارتي الأخيرة إلى الشرق الأوسط، قلت إنه لا يمكن استمرار تمويل الأيديولوجية المتشددة. أشار الزعماء إلى قطر - انظروا" ثم كتب "جيد أن أرى زيارتي الأخيرة إلى السعودية ولقائي مع الملك و50 مسؤولا تؤتي ثمارها. قالوا إنهم سيتخذون موقفا حاسما من تمويل التطرف. كل الإشارات كانت تتجه صوب قطر. ربما يكون هذا بداية النهاية للرعب الذي يبثه "الإرهاب")، كما (قال الرئيس الأمريكي، دونالد ترامب، اليوم الجمعة، إن على قطر أن تتوقف فورا عن تمويل (الإرهاب)، معربا عن أمله في أن تكون القمم التي عقدها بالعاصمة السعودية الرياض، بداية لنهاية (الإرهاب). وأضاف ترامب، في مؤتمر صحفي مع نظيره الروماني بالبيت بالأبيض، أن قطر كانت تاريخيا دولة ممولة لـ(لإرهاب).) (سكاي نيوز عربية 2017/6/9). وهذان التصريحان الصريحان يعترف بهما ترامب أنه هو صاحب القرار في هذه القطيعة ليس غيره...

- إن هذه الأنظمة ليست إلا أدوات طيعة في أيدي من نصّبها من الغرب، ومن السطحية بمكان أن يظن ظانٌّ أن مثل هذ القرار يمكن أن يؤخذ بشكل مستقل دون إملاءات غربية...

- لقد دأبت قطر على إيذاء أمريكا بخبث ودهاء ساستها الإنجليز المتحكمين الحقيقيين في سياستها حتى يومنا هذا، واستخدمت لذلك ثلاثة أسلحة حادة هي مالها السياسي القذر الذي تستخدمه لشراء الذمم هنا وهناك، وقناة الجزيرة الخبيثة التي تعتبر رأس حربتها في طعن خاصرة أمريكا ما استطاعت إلى ذلك سبيلا، بالإضافة إلى خبث ودهاء الإنجليز في احتواء زعماء الجماعات الإسلامية والمشايخ لتظهر شعبيا أنها حاضنة الإسلام الوحيدة في وجه الحملة الأمريكية على الإسلام، مع أنها تكيد لمنع عودة الإسلام إلى واقع حياة المسلمين وتشويه أفكاره وأحكامه، كغيرها من هذه الأنظمة العميلة بلا اختلاف سوى خبث الإنجليز ودهائهم...

- وعلى الصعيد الآخر فإن النظام السعودي قد أسلم قيادته لأمريكا بشكل كامل منذ استلام الملك سلمان للحكم، فأمريكا هي الآمر الناهي والمتصرف الوحيد في السعودية مذاك، وبخاصة بعد بروز محمد بن سلمان على الساحة، فهو يبدي استعدادا كاملا لتنفيذ كل ما تطلبه أمريكا أيا كان وفي كافة الصعد، في سبيل نوال رضا أمريكا على حساب ابن عمه...

- وعلى ذلك يمكننا فهم ما يجري بشكل واضح أنه ليس إلا صراع دولي، بين قوى غربية عدوة للإسلام والمسلمين، مع معسكر غربي آخر عدو للإسلام والمسلمين، وما اختلفوا إلا تبعا لمصالحهم السياسية، وأن ليس للمسلمين في هذا الصراع إلا الويلات...

- إنه من السطحية بمكان أن يراهن أحد على هذه الأنظمة ويظن لوهلة أن تصرفاتها نابعة من غيرتها على دين الله، ومصالح الأمة، بل إن كل عاقل يدرك أنه لا يُنتظر الخير من عملاء أمريكا أو عملاء بريطانيا، ولهذا فمن السذاجة أن يتعاطف أحد مع هذا النظام أو مع ذاك بحجة مصلحة الأمة أو حجة السيئ والأقل سوءاً، فإن قضايا الأمة لا توضع في ميزان السيئ والأقل سوءاً بل في ميزان الحق والباطل، وإن كل من يسمع أو يرى يدرك أن هذه الأنظمة ستغير موقفها وتعيد العلاقات إلى سابق عهدها إذا جاءها أمر أسيادها بذلك...

- إنه من الجهل والضلال والتضليل الاستمرار في إعطاء الشرعية لهذه الأنظمة وزعم وجوب طاعتها بعدما أصبح ظاهرا لكل مبصر أنها ليست إلا أدوات يحركها الكفار لتنفيذ مصالحهم في بلاد المسلمين.

- إن كل مسلم بسيط مهما قل علمه يدرك تماما ﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ﴾ وأن «الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ وَلَا يَحْقِرُهُ» وأن تقسيم المسلمين وإثارة الفتنة بينهم ليس إلا ديدن الغرب الدائم منذ هدم دولة الخلافة العثمانية حتى يومنا هذا...

- إن الواجب على كل مسلم في بلاد الحرمين وفي قطر والخليج أن يقف في وجه هذه الحملات التمزيقية، وأن يقف سدا منيعا في وجه الاستعمار، وأدواتهم من حكام وحكومات وأبواق إعلام الفتنة ومشايخ الضلال، فالحق بيّن وأخوّة المسلمين حقيقة شرعية ثابتة، وانسلاخ هذه الأنظمة عن أمتها حقيقة سياسية مرئية...

- إن هذه الفتن التي تعصف بالمسلمين بسبب هذه الأنظمة العميلة وهذا الإعلام الخبيث وهؤلاء المشايخ المضلين، وهذا الكيد الغربي الذي تزول منه الجبال، لا يقف في وجهها ولا يوقفها ولا يضع لها حدا، إلا أمر واحد لا ثاني له، وهو توحد المسلمين في كيان واحد لا غير تحت راية العقيدة الإسلامية لا سواها في خلافة راشدة على منهاج النبوة كما أمر الله ورسوله، وإن هذا لكائن بأمر الله مهما كادوا ومكروا...

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد بن إبراهيم – بلاد الحرمين الشريفين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست