البحث عن القائد الحقيقي في خضم جنون الفساد السياسي
البحث عن القائد الحقيقي في خضم جنون الفساد السياسي

وجهت وكالة مكافحة الكسب غير المشروع الإندونيسية في 16 آذار/مارس تهمة لسياسي إسلامي بارز يدعم حملة إعادة انتخاب الرئيس جوكو ويدودو كمشتبه به في قضية رشوة. قام محمد رومورموزي (رومي) رئيس حزب التنمية المتحدة (PPI) بقبول الرشاوى لتعيين شخصين في وظائف رفيعة المستوى في وزارة الشؤون الدينية. ومن المفارقات أنه قبل ثلاثة أشهر من الاعتقال قام رومورموزي بتحميل مقطع فيديو خاص به يتعلق بحملة مكافحة الفساد على حسابه على تويتر. في هذا الفيديو، أشار إلى الظواهر في النظام والتي يمكن أن تجعل المسؤول مجرماً بسهولة، فقط فرق بسيط بين الاثنين، مسؤولو اليوم يمكن أن يصبحوا مجرمي الغد. كما أنه خلص إلى أن النظام السياسي الحالي يحتاج إلى أموال كبيرة للبقاء على قيد الحياة من التنافس الصعب، لأنه نظام سياسي مرتفع التكلفة.

0:00 0:00
Speed:
March 22, 2019

البحث عن القائد الحقيقي في خضم جنون الفساد السياسي

البحث عن القائد الحقيقي في خضم جنون الفساد السياسي

(مترجم)

الخبر:

وجهت وكالة مكافحة الكسب غير المشروع الإندونيسية في 16 آذار/مارس تهمة لسياسي إسلامي بارز يدعم حملة إعادة انتخاب الرئيس جوكو ويدودو كمشتبه به في قضية رشوة. قام محمد رومورموزي (رومي) رئيس حزب التنمية المتحدة (PPI) بقبول الرشاوى لتعيين شخصين في وظائف رفيعة المستوى في وزارة الشؤون الدينية. ومن المفارقات أنه قبل ثلاثة أشهر من الاعتقال قام رومورموزي بتحميل مقطع فيديو خاص به يتعلق بحملة مكافحة الفساد على حسابه على تويتر. في هذا الفيديو، أشار إلى الظواهر في النظام والتي يمكن أن تجعل المسؤول مجرماً بسهولة، فقط فرق بسيط بين الاثنين، مسؤولو اليوم يمكن أن يصبحوا مجرمي الغد. كما أنه خلص إلى أن النظام السياسي الحالي يحتاج إلى أموال كبيرة للبقاء على قيد الحياة من التنافس الصعب، لأنه نظام سياسي مرتفع التكلفة.

التعليق:

إن إلقاء القبض على رومي هو بالتأكيد علامة واضحة على فشل النظام السياسي العلماني الذي اعترف المدعى عليه بسخرية بأنه نظام سياسي قادر على تحويل المسؤول على الفور إلى مجرم. هذا السياسي البارز الذي يدعم نظام جوكوي أخيراً بوعي اختار أن يصبح مجرماً على الرغم من أنه صرخ سابقاً بشأن مكافحة الفساد. هذه الظاهرة تثير لنا بعض الأسئلة. أين يمكن أن نجد قائداً حقيقياً وصادقاً في تفشي الفساد النظامي؟ أين بالضبط موقع سياسة التوحيد التي قامت عليها حركة 212 - في خضم جنون الانتخابات هذا العام؟

أصبحت اليوم السياسة العلمانية للديمقراطية ووجهات النظر السياسية للأمة قصيرة النظر وسطحية للغاية. لقد فقد السياسيون المسلمون أخيراً هويتهم ونزاهتهم. إنهم لا يحجمون عن رهن بلادهم التي استعمرها الأجانب لإثراء أنفسهم أو أسرهم أو مجموعاتهم - كل ذلك من أجل البقاء والعيش في مرحلة سياسية باهظة الثمن. لا عجب على الفور أن أولئك الأشخاص الطيبين في البداية يمكن أن يتحولوا بسهولة إلى فاسدين ومجرمين. إنهم لا يتداولون فقط الفساد في منصبهم الوظيفي بل إن أخطر أشكال الفساد السياسي هو تبادل المواد في القوانين أو القرارات السياسية مثل إسكات صوت المخلصين. ليس من المستغرب أن يتحول العديد من مسؤولي الحزب والبرلمان الذين يجب أن يكونوا قدوة للشعب، إلى أداة للفساد وحتى للاستبداد السياسي.

هؤلاء السياسيون الفاسدون لديهم القلب أيضاً في السيطرة على أصوات الأمة ومعالجتها، من أجل دعم الجماعات ذات النفوذ الرأسمالي التي تبيع روايات الإسلاموفوبيا ومناهضة الخلافة. لا عجب في أن الانتخابات العامة لهذا العام مشوشة للغاية دون أي مجال لرؤية واضحة لسياسة التوحيد لمستقبل هذا البلد، لا يوجد سوى تنافس قوي بين المصالح على مستوى النخبة، على الرغم من أن الأمة لديها ثورة أيديولوجية على الأرض. تم إسكات صوت الأيديولوجية التوحيدية للشعب من خلال حل حزب التحرير في إندونيسيا باعتباره المنظمة الجماهيرية الرائدة في إندونيسيا والتي غالباً ما تعبر عن الأيديولوجية الإسلامية.

هؤلاء السياسيون الفاسدون ليسوا أكثر من عبيد للسياسة البراغماتية الذين يتحدثون باسم أسيادهم ولم يعودوا خائفين من ربهم. من الطبيعي لسياسي مثل رومي أن يرغب في المخاطرة بنزاهته، وإسكات منظمة إسلامية مخلصة، وتشويه فكرة الخلافة فقط من أجل مصلحة جماعته.


مصطلح السياسة في الإسلام يعني في الواقع رعاية شؤون الناس بالأحكام الإسلامية داخل البلاد وخارجها. من هذا التعريف يمكننا أن نفهم بالضبط معنى المصلحة السياسية بالنسبة للمسلمين؛ وهذا توحيد سياسي، وليس مجرد مصالح سياسية. السياسة التوحيدية تتضح من سيرة النبي والخلفاء الراشدين من بعده. تكون السياسة من الأمة والدولة. الدولة مؤسسة تنظم شؤون الناس عملياً. ثم الأمة تحاسبها على أداء واجباتها. ونتيجة لذلك، في هذا المفهوم للسياسة في الإسلام، لا يهتم المسلمون فقط بدولة يمكنها أن تزدهر وتروج لهم مادياً، بل أيضاً دولة ترغب في دعم وتنفيذ سياسة التوحيد والشريعة الإسلامية.

منذ فترة طويلة تم تزويد المسلمين بالفكر السياسي الإسلامي النبيل، بحيث الأمة لديها فهم عميق أن مصلحتهم السياسية لها بعد روحي، ذات بصيرة ومستدامة على المدى الطويل. وليست مصلحة لحظية سطحية وتهدد مهمة التوحيد وهي عبادة الله سبحانه وتعالى. تجدر الإشارة إلى أن الاهتمام السياسي الصحيح في نظر الإسلام، لا ينبغي أن يبرر أي وسيلة، ناهيك عن التجارة بأنفسهم ودينهم؛ لا يجب أن تتوقف فقط في سياق المصالح قصيرة الأجل واللحظية، بل يجب أن تلتزم بإطار الدعوة الإسلامية المرتبط بالتغيير الجوهري الطويل الأجل.

في الواقع، فإن الأمة تفتقد إلى حد كبير قيادتها الحقيقية التي جسدها النبي محمد صلى الله عليه وسلم، الذي أثبت نجاحه السياسي على مدى قرون. يجب أن يدرك المسلمون في إندونيسيا أن اهتماماتهم السياسية يجب أن تنصب على ما علمنا إياه رسول الله، ولذا فإن المسلمين في إندونيسيا ملزمون هذا العام بالسعي وانتخاب قادة لديهم الرغبة والقادرة على تطبيق الشريعة الإسلامية ككل، من أجل مستقبل الأمة والإسلام المستدام.

﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُوا بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَنْ يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَنْ يَكْفُرُوا بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُضِلَّهُمْ ضَلَالاً بَعِيداً﴾ [النساء: 60]

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فيكا قمارة

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست