البنوك في بلاد الحرمين أداة للدولة في سرقة أموال الأمة
البنوك في بلاد الحرمين أداة للدولة في سرقة أموال الأمة

الخبر: ارتفعت الأرباح الصافية لـ15 شركة مساهمة سعودية مدرجة في سوق المال (تداول) في الأشهر التسعة الأولى من السنة، بنسبة 4.12 في المئة لتبلغ 17.87 بليون ريال (4.8 بليون دولار)، في مقابل 17.2 بليون للفترة ذاتها من عام 2015. ومما جاء في الخبر أن المراتب الأربعة الأولى لأعلى تلك الأرباح حققتها أربعة بنوك محلية وهي على التوالي البنك السعودي البريطاني ساب والبنك السعودي الفرنسي وبنك الرياض والبنك العربي الوطني. وأيضا مما جاء في الخبر "وتبلغ رؤوس أموال الشركات الـ15 التي أعلنت نتائجها 110 بلايين ريال، ويعد "بنك الرياض" الأكبر بينها برأسمال 30 بليوناً، ثم "البنك السعودي البريطاني (ساب)" و"كيان السعودية" برأسمال 15 بليون ريال لكل منهما، فـ"البنك السعودي الفرنسي" برأسمال 12.053 بليون ريال، وبلغت القيمة السوقية لأسهم هذه الشركات 211 بليون ريال". (جريدة الحياة - السبت، 15 تشرين الأول/أكتوبر 2016م)

0:00 0:00
Speed:
October 15, 2016

البنوك في بلاد الحرمين أداة للدولة في سرقة أموال الأمة

البنوك في بلاد الحرمين أداة للدولة في سرقة أموال الأمة

الخبر:

ارتفعت الأرباح الصافية لـ15 شركة مساهمة سعودية مدرجة في سوق المال (تداول) في الأشهر التسعة الأولى من السنة، بنسبة 4.12 في المئة لتبلغ 17.87 بليون ريال (4.8 بليون دولار)، في مقابل 17.2 بليون للفترة ذاتها من عام 2015.

ومما جاء في الخبر أن المراتب الأربعة الأولى لأعلى تلك الأرباح حققتها أربعة بنوك محلية وهي على التوالي البنك السعودي البريطاني ساب والبنك السعودي الفرنسي وبنك الرياض والبنك العربي الوطني.

وأيضا مما جاء في الخبر "وتبلغ رؤوس أموال الشركات الـ15 التي أعلنت نتائجها 110 بلايين ريال، ويعد "بنك الرياض" الأكبر بينها برأسمال 30 بليوناً، ثم "البنك السعودي البريطاني (ساب)" و"كيان السعودية" برأسمال 15 بليون ريال لكل منهما، فـ"البنك السعودي الفرنسي" برأسمال 12.053 بليون ريال، وبلغت القيمة السوقية لأسهم هذه الشركات 211 بليون ريال". (جريدة الحياة - السبت، 15 تشرين الأول/أكتوبر 2016م)

التعليق:

رغم ما تمر به بلاد الحرمين من أزمة اقتصادية خانقة نتيجة السياسات الاقتصادية الرأسمالية العفنة وتوصياتها لحكام هذه البلاد، ورغم الوضع المأساوي الذي تمر به معظم الشركات في القطاع الخاص بمختلف أحجامها الصغيرة والمتوسطة والكبيرة، ورغم كل الضرائب الجائرة التي عملت وما زالت تعمل على فرضها حكومة آل سعود على الشعب والمقيمين في بلاد الحرمين، رغم كل تلك الظروف المستمرة منذ أن استلم سلمان الحكم إلا أن البنوك ما زالت تحقق الأرباح الطائلة والفوائد العالية.

لقد أدركت البنوك في بلاد الحرمين كغيرها من الشركات الطفيلية في النظام الرأسمالي، أن الأمور في الوقت الحالي ليست على ما يرام فيما يخص تجاراتها الربوية، ولذلك فقد عملت على التخفيض من سياسات الإقراض للقطاعات العامة واتجهت نحو الإقراض الحكومي وهو الأمر الذي كانت نتيجته تعثر أو حتى إفلاس الكثير من شركات القطاع الخاص وهي الموجة المتوقع حدوثها على نطاق واسع في الأيام القادمة، فسياسة المرابي في الأساس هي الإقراض ما دام المستدين يملك القدرة على السداد ويمكن أن يستمر بالاقتراض والسداد أطول فترة ممكنة ولكنه فور تعثره بعض الشيء يتوقف المرابي عن تقديم القروض ويتجه لمجالات إقراض جديدة تحافظ له على أرباحه وفوائده، وهذا بالفعل ما يحدث في بلاد الحرمين الآن، فالقطاعات التجارية الخاصة متعثرة عن تنفيذ الالتزامات المترتبة عليها في الوقت الحالي ولا يوجد لديهم ضمانات كافية من ناحية الحكومة كمشاريع متوقعة في المستقبل أو من ناحية الممتلكات الخاصة التي يمكن رهنها عند البنوك لضمان القروض وبالتالي يجد البنك أن عملية الإقراض تلك غير ذات جدوى لديه ولا مصلحة له في أن يقرض عميلاً متعذراً لديه السداد.

وقد يقول قائل بأن البنوك قد حققت أرباحاً أقل بقليل من الأرباح التي حققتها في الفترة نفسها من العام الماضي، والحقيقة أن هذا الأمر طبيعي جدا نتيجة التوجه الجديد الذي تعمل عليه البنوك في تحويل مسار القروض نحو الإقراض الحكومي والذي تقبل عليه الدولة في محاولات سد العجوزات المالية التي بدأت بالتراكم على الحكومة وذلك من خلال إصدار السندات الحكومية والاقتراض من البنوك المحلية والعالمية، وهذا التحول لدى البنوك يحدث انخفاضا طفيفا جدا في أرباحها خلال هذه الفترة من السنة ولكنها على المدى البعيد سوف تعود عليها بأرباح أكثر من أرباحها في قروض الأفراد والمؤسسات والشركات في القطاع الخاص، وبذلك يتحقق الهدف الأهم لدى زعماء الرأسمالية في العالم – أمريكا وأدواتها – في تحويل بلاد الحرمين من اقتصادات ذات فوائض مالية إلى اقتصادات مديونة عاجزة تعتمد على القروض في جميع قطاعاتها الحكومية والخاصة.

إن ما تفعله البنوك في بلاد الحرمين هو جزء من المخطط العام الذي يراد من خلاله إذلال الشعب، وتبديد مقدرات الأمة، والسيطرة على أموالها من جميع أطرافها، وإن ما تفعله حكومة آل سعود من مشاركة النظام الرأسمالي العالمي ذلك لهو مشاركة في الإثم والخيانة، وتمادٍ في السير ضد ما يريده أهل بلاد الحرمين.

إن الشعب في بلاد الحرمين أصبح على دراية كاملة بأن أمواله وأموال الأمة مسروقة، وأن الأمر في ذلك ما هو إلا نتيجة لتآمر حكام المسلمين على الأمة لسلبها سلطانها، وأن الخلاص من ذلك كله لا يكون إلا من خلال تحكيم شرع الله، وخلع الحكام الظالمين، وقلع النظام الرأسمالي من أساسه واستبدال النظام الإسلامي به، في جميع نواحي الحياة، في دولة خلافة راشدة على منهاج النبوة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

ماجد الصالح – بلاد الحرمين الشريفين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست