البطالة في السودان مع سبق الإصرار والترصد
November 18, 2015

البطالة في السودان مع سبق الإصرار والترصد

الخبر:

أوردت صحيفة آخر لحظة الصادرة في الخرطوم في 5 صفر 1437هـ الموافق 17 تشرين الثاني/ نوفمبر 2015م العدد (3269) خبراً تحت عنوان: (وزير العمل: حجم البطالة في السودان (1.7) مليون) وقد جاء في تفاصيل الخبر: كشفت وزارة العمل على أن حجم البطالة في السودان بلغ (1.7) مليون بزيادة بلغت (19.5%) خلال العام 2015م وأعلنت الوزارة عن تأثر فئة الشباب بالبطالة بنسبة (44.8%) وفيما أقرت بزيادة معدلات البطالة لحاملي الشهادات الجامعية بنسبة (25%) حذرت الوزارة من توقعات بتوالي الارتفاع يوماً بعد يوم.

التعليق:

إن المتتبع لأحوال الناس المعيشية في السودان، يكاد ينفطر قلبه من هول الأوضاع ومعاناة الناس؛ فالفقر يمشي بين الناس على قدم وساق، والجوع يدخل على أهل السودان من كل المداخل، فقد صرح وزير الصحة (بحر أبو قردة) قائلاً: (هناك 13 مليون نسمة من أهل السودان يعاني من سوء التغذية) وهي العبارة الأقل حدة من عبارة (الجوع)، وهي فعلاً فضيحة بكل المقاييس كوننا أمة نعيش في بلاد تعتبر سلة معادن وغذاء العالم، ورغم ذلك يجوع أهلها ويعيش شبابها حالة من البطالة والعطالة المصنوعة مع سبق الإصرار والترصد.

إن البطالة والفقر هما صناعة رأسمالية ترعاها الدولة وتعمل على إنتاجها في كل يوم وليلة!!

وقبل الحديث عن الأسباب والمعالجات، دعونا نشير إلى مجموعة من المخاطر والمهددات التي تهدد الأمة جراء البطالة وعلى سبيل المثال لا الحصر نستطيع أن نقول إن أبرز المخاطر تندرج في الآتي:

1- خطرها على نفسية الشباب، ذلك لأن من نتائجها البيّنة انتشار حالات الإحباط المعنوي والكآبة والقنوط لدى فئات واسعة، وهذه النتيجة بدورها تدفع إلى إدمان المخدرات،‏ أو اللجوء إلى أنواع اللهو المحرم،‏ وإذا لم يجد أحدهم المال اللازم ربما لجأ إلى أساليب غير شرعية للحصول على حاجته، أو سلوك السبل المحرمة لطلب الرزق.

2- ومن مخاطرها تخلف الأوضاع الصحية، وتراجع في الحصول على التعليم.

3- ومن مخاطرها أيضا تأخر سن الزواج‏، ذلك لأن الزواج في زماننا هذا قد تعاظمت تكاليفه ويستدعي الحصول على مسكن وتجهيزه وتقديم صداق وإقامة وليمة زفاف وتأمين النفقة على الزوجة وغير ذلك، ولا يمكن للشاب أن يحصل على كل ذلك دون عمل، وبتأخر سن الزواج‏، يتعرض المجتمع إلى مشاكل أخرى أشد خطراً‏، أعظمها الفساد الأخلاقي‏.‏

4- ومن مخاطرها أيضا انتشار ظاهرة السفر إلى الدول الأوروبية، الذي أصبح مخدرا جديدا يشل تفكير الشباب ويفتر هممهم ويضعف عزائمهم، ويقضي على كل تطلعاتهم، إذ أضحت آمالهم معلقة على الإقامة في بلاد الكفر، ومنهم من يفكر في الهجرة السرية فيقع فيما لا تحمد عقباه، من الموت في عرض البحر أو الوقوع في قبضة شبكات الإجرام العالمية.

5- ويصحب كل هذا شعورٌ بالسخط على المجتمع وعلى الدولة التي تعجز عن إيجاد حلول، أو تقديم معالجات لا يجدون أثرها في الواقع، وهذا السخط كثيرا ما يستغله أعداء الأمة لتعبئة هؤلاء الشباب لضرب الأمة ومصالحها ووحدتها وما يحدث في دارفور ليس عنا ببعيد.

من كل ما سبق، يظهر أن البطالة تسبب مخاطر على الأفراد وعلى المجتمع، وتؤدي إلى مفاسد اجتماعية واقتصادية وسياسية، وإلى ظهور الانحراف بشتى أنواعه، والجريمة بجميع أشكالها، بل إن البطالة من أخطر المهددات التي تواجه الأمة، خاصة أن لها آثاراً سالبة ومؤذية. ومن أهم أسباب البطالة وانتشارها في السودان ما يلي:

أولاً: تطبيق النظام الرأسمالي الجشع الذي لا ينظر إلى كل فرد من أفراد الرعية وإنما يدفن القائمون عليه رؤوسهم في الرمال متغافلين عن معاناة الناس، وقد ساهمت الدولة في انتشار البطالة من خلال تبنيها لهذا النظام، فعلى سبيل المثال قامت الدولة بخصخصة العديد من المشاريع العملاقة، مما ترتب عليه تهجير العديد من الأيدي العاملة والقذف بهم في قارعة الطريق.

ثانياً: عطلت الدولة المشاريع الزراعية من خلال ملاحقة المزارعين عبر (كرابيج) الضرائب والجبايات والإتاوات والقروض الربوية التي يعجز المزارعون عن تسديدها فتزج بهم في نهاية المطاف في السجون.. ولذلك ترك الكثير منهم هذه المهنة وانضموا إلى صفوف العاطلين عن العمل في البلاد.

ثالثاً: تجفيف منابع الصناعة حيث تعطلت 85% من المصانع عن العمل في البلاد وذلك بفعل السياسات الرأسمالية الجشعة التي تتبناها الحكومة حيث يبلغ عدد الضرائب التي تفرض على المصانع قرابة الـ17 ضريبة مما أصاب أصحاب المصانع بحالة من الذهول، مما ترتب على ذلك هجرة رؤوس الأموال، فكانت إضافة جديدة لجيوش العاطلين في البلاد.

رابعاً: سياسة الدول الرأسمالية الكبرى تجاه بلاد المسلمين، عبر مؤسساتها الربوية، حيث تعمل على تدمير النسيج الاقتصادي لبلاد المسلمين لصالح الدول الرأسمالية من خلال سياسات التقويم الهيكلي والمديونية التي من نتائجها تفكيك صناعات العالم الثالث وتحويله لمستهلك، وكل هذا ينعكس في نهاية المطاف في شكل عطالة وبطالة تضاف لمجموعة الأحزان والمصائب التي تعاني منها الأمة.

خامساً: إهدار الدولة لثروات الأمة لصالح فواتير ما أنزل الله بها من سلطان، كإنشاء الوظائف وفقاً لمحاصصات سياسية وترضيات آنية أنانية، وغيرها من أشكال التجاوز وحالات سرقة المال العام التي تتم على مرأى ومسمع من أهل البلد.

هذه هي بعض الأسباب التي تنعكس مباشرة في وجود البطالة.       

أما الحل الجذري لقضية البطالة فيتطلب إعادة هيكلة الاقتصاد على قاعدة النظام الاقتصادي الإسلامي لتلبية الحاجات الأساسية لكل الناس خارج نطاق الجشع الرأسمالي، أي بناء مجتمع آخر لا يكون فيه نجاح الأقلية في العيش المترف على حساب عجز الأغلبية في الوصول إلى الحد الأدنى من العيش الكريم.

ولمعالجة مشكلة البطالة يجب أن نبدأ باجتثاث هذه الأسباب وقطع دابرها فتمنع الضرائب والجبايات، والجمارك، بكل أشكالها، كما تمنع خصخصة الملكيات العامة، وتوزع أموال الملكية العامة وفقاً لأحكام الإسلام، وتمكين الناس من تعمير الأرض واستصلاحها دون مقابل، وأن يُخلّى بين الناس والإبداع في مجال العلوم، بل الأصل في الدولة أنها تفسح المجال لأصحاب الاكتشافات والبحوث الصناعية لا أن تلاحقهم.

هذه المعالجات ليست من جنس النظام الرأسمالي المطبق اليوم، وإنما هي معالجات تنبثق عن عقيدة الإسلام العظيم، وهي ذات المعالجات التي تتبناها دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة القادمة قربياً إن شاء الله لتقطع دابر البطالة وصانعيها.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عصام الدين أحمد أتيم

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست