البيت الأبيض يعترف: طائراتنا بدون طيار قتلت 116 مدنيا في باكستان واليمن والصومال
البيت الأبيض يعترف: طائراتنا بدون طيار قتلت 116 مدنيا في باكستان واليمن والصومال

الخبر: قال البيت الأبيض الأمريكي في تقرير رسمي إن عدد الضحايا المدنيين، الذين قتلوا في غارات بطائرات بدون طيار، وغارات أخرى نفذها الجيش الأمريكي يصل إلى 116 قتيلا من المدنيين في باكستان واليمن والصومال، وذلك منذ 2009. والتقرير، الذي صدر الجمعة، هو الأول من نوعه الذي تقر فيه الإدارة الأمريكية بأرقام تتعلق بالضحايا المدنيين جراء الغارات بطائرت بدون طيار، حيث رجح التقرير أن يكون عددهم ما بين 64 و116 ضحية في الفترة بين كانون الثاني/يناير 2009 وكانون الأول/ديسمبر 2015.

0:00 0:00
Speed:
July 06, 2016

البيت الأبيض يعترف: طائراتنا بدون طيار قتلت 116 مدنيا في باكستان واليمن والصومال

البيت الأبيض يعترف:

طائراتنا بدون طيار قتلت 116 مدنيا في باكستان واليمن والصومال

الخبر:

قال البيت الأبيض الأمريكي في تقرير رسمي إن عدد الضحايا المدنيين، الذين قتلوا في غارات بطائرات بدون طيار، وغارات أخرى نفذها الجيش الأمريكي يصل إلى 116 قتيلا من المدنيين في باكستان واليمن والصومال، وذلك منذ 2009.

والتقرير، الذي صدر الجمعة، هو الأول من نوعه الذي تقر فيه الإدارة الأمريكية بأرقام تتعلق بالضحايا المدنيين جراء الغارات بطائرت بدون طيار، حيث رجح التقرير أن يكون عددهم ما بين 64 و116 ضحية في الفترة بين كانون الثاني/يناير 2009 وكانون الأول/ديسمبر 2015.

ويأتي هذا التقدير مناقضا لتقديرات كثير من المنظمات الحقوقية، التي تشير تقاريرها إلى تقديرات تصل إلى 1100 قتيل مدني. ويشير التقرير الأمريكي إلى مقتل ما بين 2372 و2581 "إرهابيا" في الغارات. ويضيف أن عدد الغارات بلغ 473 غارة منذ تولي أوباما الرئاسة في عام 2009.

إلا أن البيت الأبيض لا يذكر في التقرير الصادر عنه الأماكن بالتحديد التي قتل فيها المدنيون، لكنه يوضح أن تلك الحصيلة لا تشمل سوريا وأفغانستان والعراق. (المصدر: بي بي سي)

التعليق:

منذ قتل أنور العولقي حامل الجنسية الأمريكية من غير محاولة اعتقاله ومحاكمته، ثار جدل قانوني في أمريكا عن مسوغات القتل المستهدف لرعاياها في الخارج المتهمين بما يسمى الإرهاب، وتتذرع أمريكا بأنها في حالة دفاع عن النفس أو أنها في حالة حرب وهي تقوم بجرائمها تلك، وبحسب القانون الدولي فإنه يفرق بين الحالتين: ففي حالة الحرب يطبق القانون الخاص بالصراعات المسلحة، بينما ينبغي الإحالة في حالة الدفاع عن النفس إلى قواعد قانون الدفاع عن النفس «الذي يعني عملية إنفاذ القانون»، وفي حالة الحرب نجد أن الساحة التي تتم فيها الجرائم ليست ساحة حرب، فليس كل شبر في الكرة الأرضية ميدان حرب تتذرع أمريكا بمرور شخص فيه ليكون ساحة حرب، وفي حالة الاشتباك يسمح قانونهم الأمريكي للجندي بالقتل دون خشية العقوبة، بينما في حالة عدم الاشتباك، فإن عليه أن لا يلجأ للقتل أو أن يطلق النار إلا عند الضرورة القصوى وللرد فقط بشكل متناسب على تهديدٍ واقعٍ لا محالة، وهذا كله لا ينطبق على قتل من يسمون بالإرهابيين بالطائرات من غير طيار، فكلها عمليات خارج إطار ما يسمى القانون الدولي أو الأمريكي، وهي كلها عمليات بلطجة تعود فيها أمريكا إلى أصول رعاة البقر.

وأما قتل المدنيين جراء هذه العمليات، فوضعه أدهى وأمر، وهي جرائم حرب لا يحاكم عليها مرتكبوها ولا يقدمون للمحاكمة، وهذا كله دليل دامغ على أن القوانين الأمريكية إنما هي قوانين غاب، وما حدث في سجن أبو غريب ليس منا ببعيد، ولا ما حصل في العراق من جرائم منا ببعيد، وكلها جرائم لم يقدم للمحاكمة فيها أحد، ولسان حال أمريكا أن دماء شعوب العالم كله مستباحة لتبقى سيطرة أمريكا على العالم وشعوبه غير منقوصة.

وأما ثالثة الأثافي، فهي أن أمريكا وهي تهدد العالم كله، وتجتاحه وتعيث فيه فسادا، وتحتل العراق بحجج مكذوبة من أسلحة دمار شامل ومشاركة في الإرهاب، وتحتل أفغانستان كرمى لشركات النفط وخطوط أنابيبها،... كل هذا يضع السؤال: فهل تعطي أمريكا بهذا مبررا لكل شعوب العالم ودوله أن تقتص من أمريكا بالطريقة الأمريكية نفسها عبر طيارات من غير طيار، وتقول لهم بأن هذا من أعمال الدفاع عن النفس وأنه من أعمال الحرب وأن ساحة الحرب في كل شبر من العالم؟ أوليست هذه هي الرسالة التي توصلها أمريكا بأعمالها تلك للعالم كله؟ أوليست هذه هي مسوغات أمريكا للقتل والبطش؟ فلئن قتلت أمريكا  1100 مدني مقابل 2581 ممن تدعي أنهم إرهابيون، أي تقريبا مدنيا واحدا مقابل 2.5 من أهدافها، أوليست هذه سابقة تسوغ للعالم أن ينظر لأمريكا أنها دولة إرهابية خارجة عن القانون، تحتل بلادا وتغير أنظمتها كيفما شاءت وتقتل مدنييها كيفما شاءت، تعتبرهم تهديدا لها وهي التهديد الحقيقي لاستقرارهم وأمانهم في بلادهم بعيدين عنها آلاف الكيلومترات؟

هذه الأرقام تتناول جرائم أمريكا في باكستان واليمن والصومال، وهذه الحصيلة لا تشمل سوريا وأفغانستان والعراق، وجرائم أمريكا في كل زاوية من العالم الإسلامي أشد وأعتى والأرقام أكبر بكثير، وما أضحيتم أيها المسلمون في حسابات أمريكا أكثر من أغنام لا تحسب لكم حسابا لغياب الدرع الواقية - دولة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة، التي ترد الصاع صاعين لأمريكا، فلا تجرؤ أن تمس شعرة لمسلم آمن في بيته وفي سوقه، وأن يصبح ثمن دم المؤمن أغلى من الكعبة، وإن لم يعمل المسلمون على إقامة دولة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة فليس لهم إلا أن يحصوا عدد ضحاياهم!

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

ثائر سلامة

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست