الدعوة الصحيحة للإسلام هي الطريقة الوحيدة لإنقاذ البشرية من التجوّل في ظلام الأنظمة الوضعية
الدعوة الصحيحة للإسلام هي الطريقة الوحيدة لإنقاذ البشرية من التجوّل في ظلام الأنظمة الوضعية

توصلت دراسة حديثة إلى أن أقل كمية من الكحول سيئة ومضرة لصحتك. وتكشف دراسة "العبء العالمي للأمراض" أنه على الرغم من أن المشروبات المعتدلة قد تحمي من أمراض محددة - لا سيما أمراض القلب الإقفاري ومرض السكري - فإن التأثير الإيجابي يتم تعويضه بالكامل "بالمخاطر المصاحبة للسرطانات، التي تزداد بشكل رتيب مع الاستهلاك". هذه الدراسة التي نُشرت هذا الأسبوع في مجلة لانسيت، وهي واحدة من أهم الدراسات حتى الآن، وفقا للباحثين نظرا لاتساع نطاق بياناتها.

0:00 0:00
Speed:
August 30, 2018

الدعوة الصحيحة للإسلام هي الطريقة الوحيدة لإنقاذ البشرية من التجوّل في ظلام الأنظمة الوضعية

الدعوة الصحيحة للإسلام هي الطريقة الوحيدة لإنقاذ البشرية

من التجوّل في ظلام الأنظمة الوضعية

(مترجم)

الخبر:

توصلت دراسة حديثة إلى أن أقل كمية من الكحول سيئة ومضرة لصحتك.

وتكشف دراسة "العبء العالمي للأمراض" أنه على الرغم من أن المشروبات المعتدلة قد تحمي من أمراض محددة - لا سيما أمراض القلب الإقفاري ومرض السكري - فإن التأثير الإيجابي يتم تعويضه بالكامل "بالمخاطر المصاحبة للسرطانات، التي تزداد بشكل رتيب مع الاستهلاك".

هذه الدراسة التي نُشرت هذا الأسبوع في مجلة لانسيت، وهي واحدة من أهم الدراسات حتى الآن، وفقا للباحثين نظرا لاتساع نطاق بياناتها.

نظر الباحثون إلى بيانات من 195 دولة وإقليماً بين عامي 1990 و2016 من الأشخاص الذين تتراوح أعمارهم بين 15 و95 عامًا والذين لم يشربوا على الإطلاق أو تناولوا مشروبًا مرة واحدة فقط في اليوم.

وكتب الباحثون "مستوى الاستهلاك الذي يقلل من الخسائر الصحية بسبب تعاطي الكحول هو صفر".

وأضافوا "تشير النتائج بقوة إلى أن سياسات مكافحة الكحول ينبغي أن تهدف إلى خفض إجمالي الاستهلاك الكلي للسكان". المصدر: يورو نيوز

التعليق:

على مدى سنوات، سُردت لنا رواية بأن الكحول، خاصة النبيذ الأحمر، بجرعات صغيرة يحدث تأثيرًا إيجابيًا على صحة الإنسان.

جادل العلمانيون البعيدون عن الدين برأيهم فيما يسمى بالحقيقة بينما انتقدوا المسلمين للحظر الصريح لاستخدام الكحول في الإسلام. بعض المسلمين عندما يواجهون مثل هؤلاء المنتقدين يحاولون تكييف حججهم بحسب الآية التالية من القرآن الكريم: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ نَفْعِهِمَا﴾ ويجادلون بأن الله في هذه الآية يذكر صراحة فائدة الكحول.

إظهار تلك المنفعة والإصرار على الضرر المطلق للكحول يؤكد مرة أخرى الحقيقة الواضحة لنقطتين:

1. ليست هذه هي المرة الأولى التي يتغير فيها الموقف تجاه شيء ما أو ظاهرة في ظل نظام يجعل الإنسان يتغير جذريا إلى أنظمة معاكسة: من إيجابي إلى سلبي أو من سلبي إلى إيجابي. إن عدم وجود توجيه واضح يجبر أتباع المبدأ الرأسمالي على التنقل المستمر أثناء البحث عن حلول صحيحة لمشاكل المجتمع والأفراد.

واسمحوا لي أن أذكر مثالا واحدا فقط. ففي عام 1952، اتُّهم عالم الرياضيات وتحليل الشيفرات الشهير آلان تورينج، مخترع "آلة تورينج"، اتهم بالمثلية الجنسية، ولأنها كانت جريمة جنائية في بريطانيا فقد أجبر على الخضوع للإخصاء الكيميائي. ما أسفر عن استقالته من مكاتب الاتصالات الحكومية البريطانية، وربما أدى لاحقا إلى انتحاره.

ومع ذلك، وفي عام 2009، في أعقاب حملة على الإنترنت، قدم رئيس الوزراء البريطاني غوردن براون اعتذارًا رسميًا نيابة عن الحكومة البريطانية عن "الطريقة المروعة التي عومل بها". ومنحته الملكة إليزابيث الثانية عفوًا بعد وفاته في عام 2013.

اليوم كونها جزءاً مما يسمى الأقليات الجنسية، تعتبر حماية حقوق الأقليات في الغرب علامة على التقدم. إن حماية حقوق المثليين هي حجر الأساس لجميع الإصلاحات التي يروج لها الغرب في البلدان النامية، وخاصة في العالم الإسلامي.

هذا هو جوهر الأنظمة التي وضعها الإنسان، حيث أصبح ما حُرّم بالأمس مسموحًا به اليوم، بل وحتى إلزاميًا، مما أجبر البشرية على التنقل في الظلمات والافتراضات الخاصة.

2. يثبت هذا الاكتشاف مرة أخرى للمسلمين التلاعب في الأوامر والمحظورات من خلال ما يسمى بالاكتشافات والحقائق العلمية. لقد شهدنا جميعاً حالات عندما تحولت الدعوة للإسلام إلى دعوة للتأثير الإيجابي للصحة 5 مرات في الصلاة والصوم وغيرها من أحكام الشريعة.

إن محاولات بعض حملة الدعوة جعل الإسلام جذابا للناس تؤدي في كثير من الأحيان إلى التواء النصوص الشرعية.

على سبيل المثال، في الآية حول تحريم القمار والخمور، لا تعني المنافع المذكورة فيها فائدة للصحة.

يقول الطبري المفسر الشهير في تفسيره لهذه الآية إن المنفعة المذكورة تعني المنفعة المادية التي يكسبها الناس من القمار وبيع الخمور.

يؤدي خطاب المنفعة من أجل الصحة في تطبيق أحكام الشريعة إلى تغيير النقاش إلى الطريقة الخاطئة، والتي تحوّل الدعوة إلى الإسلام بمثل هذه الشروط، وبالتالي فإن هذه الدعوة لا علاقة لها بدعوة النبي محمد صلى الله عليه وسلم. إن الرسول محمداً صلى الله عليه وسلم هو أفضل حامل دعوة وأفضل مثال في الدعوة، وهو لم يناقش أبدا صحة الإسلام من خلال الاكتشافات العلمية.

ونتيجة لذلك، إذا أردنا أن نوجد في الأمة الإخلاص وجيلاً يخشى الله، مثل جيل المسلمين الأوائل، وإذا أردنا أن ينتشر الإسلام بنفس طريقة القرون الأولى من الإسلام عندما يُقبل الناس أفواجا على الإسلام، فإننا ملزمون باتباع طريق النبي صلى الله عليه وسلم دون الحيد خطوة عنه.

الإسلام ليس بحاجة إلى إثبات صوابه من خلال الاكتشافات العلمية المتغيرة. الإسلام لديه أدلة عقلانية خاصة به على وجود الخالق، ورسالة النبي محمد صلى الله عليه وسلم وقدسية القرآن الكريم.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فضل أمزاييف

رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في أوكرانيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست