الدبلوماسية العلمانية لا يمكنها أبدا أن تصنع السياسة الخارجية للدولة الإسلامية
الدبلوماسية العلمانية لا يمكنها أبدا أن تصنع السياسة الخارجية للدولة الإسلامية

  الخبر: قالت وزارة الخارجية الهندية في تصريح لها إن مجموعة من الدبلوماسيين سافروا من كابول للاجتماع مع مسؤولين من الإمارة الإسلامية، ولمناقشة المساعدات الإنسانية. كما غرّد عبد القهّار بالخي، المتحدث باسم وزارة الخارجية لطالبان، على تويتر قائلا إن هناك اجتماعا بين جي بي سينغ، السكرتير المشترك لوزارة الخارجية الهندية، وأمير خان متقي، وزير طالبان للشؤون الخارجية، والذي ركز على العلاقات الثنائية والمساعدات الإنسانية.

0:00 0:00
Speed:
June 08, 2022

الدبلوماسية العلمانية لا يمكنها أبدا أن تصنع السياسة الخارجية للدولة الإسلامية

الدبلوماسية العلمانية لا يمكنها أبدا أن تصنع السياسة الخارجية للدولة الإسلامية

(مترجم)

الخبر:

قالت وزارة الخارجية الهندية في تصريح لها إن مجموعة من الدبلوماسيين سافروا من كابول للاجتماع مع مسؤولين من الإمارة الإسلامية، ولمناقشة المساعدات الإنسانية. كما غرّد عبد القهّار بالخي، المتحدث باسم وزارة الخارجية لطالبان، على تويتر قائلا إن هناك اجتماعا بين جي بي سينغ، السكرتير المشترك لوزارة الخارجية الهندية، وأمير خان متقي، وزير طالبان للشؤون الخارجية، والذي ركز على العلاقات الثنائية والمساعدات الإنسانية.

وقد علّق أمير خان متقي على زيارة الوفد الهندي إلى كابول بأنه "بداية جيدة" من شأنها أن تقوّي العلاقات بين حكومة طالبان والهند، وطالب باستكمال المشاريع الهندية التطويرية إضافة إلى استمرار الوجود الهندي الدبلوماسي والخدمات الاستشارية في أفغانستان، خصوصا للمرضى والطلاب الأفغان.

التعليق:

اليوم، فإننا نحن المسلمين نعيش في عالم تُمارس فيه القيم العلمانية بشكل عالمي؛ فالناس يُقادون على عكس ما أمر به الله سبحانه وتعالى، وتقريبا فإن جميع الشؤون تُدار حسب أمر الكفار الذين تضم قوانينهم كل شيء من العلاقات الدولية إلى الشؤون الشخصية. وهذا النظام الكافر في العالم يتم بإشراف بعض المنظمات العالمية مثل الأمم المتحدة، إضافة إلى الدول العظمى كأمريكا والدول الأوروبية وروسيا والصين والهند وغيرها. فهذه الحكومات والمنظمات الكبيرة في العالم ترى العالم كعائلة هم الأوصياء عليها. على الرغم من أن هذه الحكومات والمنظمات تتصرف حسب مصالحها الخاصة، ولا تسمح لأي أحد بتحدي أو تهديد نظامها العلماني، في الوقت الذي تتدخل فيه حتى في العلاقات العسكرية بين المسلمين. حيث غرّد الأمين العام للأمم المتحدة، أنتونيو غوتيريش، على تويتر معلقا على المراسيم الأخيرة الصادرة عن وكالة الطاقة الدولية: "أنا مرة أخرى، أهيب بطالبان الحفاظ على وعودها للنساء والفتيات الأفغانيات حسب قانون حقوق الإنسان العالمية".

فعندما نتحدث عن النظام العالمي، فإننا في الحقيقة نتحدث عن المبادئ والعادات التي وضعتها القوى العظمى واستمرت على إجبار الآخرين على الالتزام بها. ومعظم هذه المبادئ والقوانين تتمثل في العلاقات الخارجية بين الدول. فالعلمانية تعتبر أساس كل هذه المبادئ، وكما أنها تشجع الناس كأفراد للتصرف على حسب مصالحهم المادية، فإنها تدفع أيضا الحكومات للتصرف على حسب مصالحهم الوطنية، ملتزمين بالنظام العلماني العالمي وبالرجوع إلى المبادئ العالمية السائدة بغض النظر عن القيم والدين والعادات. ومن الظاهر حقا من خلال الأداء المستمر للإمارة الإسلامية أنها تنظر للسياسة الخارجية من المنظور نفسه الذي تتبعه باقي دول العالم، كما أنها تطالب أن تكون عضوا في الأسرة العالمية التي تحكمها الدول والقيم الكافرة، باعتبار أنفسهم أنهم آباء الدول الأخرى.

كل هذا يحدث في الوقت الذي اختار فيه الله سبحانه وتعالى الأمة الإسلامية لقيادة البشرية بالشريعة الإسلامية؛ من خلال إنشاء نظام عالمي، وأن نصبح سادة العالم. إن المهمة الأساسية للدولة الإسلامية، والتي ورثناها من النبي محمد ﷺ، هي جعل الدين الإسلامي فوق كل الأديان والأنظمة الأخرى من خلال الدعوة والجهاد. ولو لم يتم الالتزام بذلك، فإن ضرورة وفلسفة الدولة الإسلامية تصبح محل شكّ. لهذا، فإن جميع الحكومات الأجنبية يُنظر لها أنها عدو حسب السياسة الخارجية للدولة الإسلامية، التي تراهم كافرين. والواجب على المسلمين أن يحملوا لهم الإسلام ؛ فإن لم يستسلموا فعلى مجاهدي الدولة الإسلامية أن يقاتلوهم، كما قال رسول الله ﷺ: «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لا إِلهَ إِلاَّ اللَّه، وَأَنَّ مُحَمَّداً رسولُ اللَّه».

وفي الوقت الحالي، فإنه من المقبول للدولة الإسلامية أن تدخل في معاهدات وعلاقات تجارية وسياسية مع بعض الحكومات الكافرة، إلا أن هذه المعاهدات يجب أن تكون مؤقتة. لكنه من غير المسموح أن تتم إقامة معاهدات وعلاقات سياسية مع الدول المحاربة. فالواجب مقاتلة الدول المحاربة حتى يخضعوا لحكم الإسلام. ومن الأمثلة على مثل هذه الدول الصين التي احتلت شرق تركستان، وعذبت الإيغور؛ وروسيا التي غزت سوريا وليبيا والقرم وسيطرت على آسيا الوسطى؛ وأمريكا المتنمرة العالمية التي وبكل وضوح غزت البلاد الإسلامية في الوقت نفسه الذي دعمت فيه كيان يهود؛ إضافة إلى نظام هندوتفا في الهند الذي احتل كشمير، وعذّب واغتصب وقتل المسلمين لسنين، حتى إنه منع أخواتنا المسلمات من ارتداء الخمار في المؤسسات التعليمية. فكيف يمكن للإنسان أن يهجر النظام الإسلامي وأن يتمسك بالنظام الغربي في التعامل مع مثل هكذا حكومات؟!

وفي النهاية، ما الذي يمنعنا من رفض تطبيق الإسلام في كل مناحي الحياة، وحمله للعالم عن طريق الدعوة والجهاد؟ فرضا الله عز وجل خير من رضا قوى اليوم؛ فالسعي للصداقة والعداوة القائمة على أساس الإسلام، خير من الصداقة والعداوة القائمة على أساس الدبلوماسية العلمانية؛ فرضا الله عز وجل خير من رضا الحكومات الكافرة؛ وجنة عرضها السماوات والأرض خير من حدود في الأرض. ولهذا يجب علينا أن نخلع الحواجز العقلية والفكرية، التي جاءت بسبب واقع النظام العالمي اليوم، وأن نتوكل على الله سبحانه وتعالى (وهو خير من يدبر أمورنا) من خلال إقامة الحكومة الحقيقية للأمة. فسبحانه المهيمن على كل شيء وهو نعم الوكيل.

﴿وَعْدَ اللَّهِ لَا يُخْلِفُ اللَّهُ وَعْدَهُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ * يَعْلَمُونَ ظَاهِراً مِنَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ عَنِ الْآخِرَةِ هُمْ غَافِلُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سيف الله مستنير

رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية أفغانستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست