الضجة حول نتائج شهادة كينيا للتعليم الثانوي لعام 2017 فضحت فشل سياسة التعليم الاستعماري الرأسمالي (مترجم)
الضجة حول نتائج شهادة كينيا للتعليم الثانوي لعام 2017 فضحت فشل سياسة التعليم الاستعماري الرأسمالي (مترجم)

الخبر:   بعد الإعلان عن نتائج شهادة كينيا للتعليم الثانوي في 20 كانون الأول/ديسمبر 2017، كشفت وسائل الإعلام الكينية الصورة المناقضة للمدارس وأولياء الأمور والطلاب والنقابيين في مجال التعليم لما كانت عليه الحال في السنوات التي يعود تاريخها إلى عام 2015 وما قبله. حيث يعلوهم الحزن ويدعون إلى التحقيق في عملية وضع العلامات. ومن ناحية أخرى فقد أبقت وزارة التعليم على النتائج التي أعلنت بأنها تعكس الواقع.

0:00 0:00
Speed:
January 03, 2018

الضجة حول نتائج شهادة كينيا للتعليم الثانوي لعام 2017 فضحت فشل سياسة التعليم الاستعماري الرأسمالي (مترجم)

الضجة حول نتائج شهادة كينيا للتعليم الثانوي لعام 2017

فضحت فشل سياسة التعليم الاستعماري الرأسمالي

(مترجم)

الخبر:

بعد الإعلان عن نتائج شهادة كينيا للتعليم الثانوي في 20 كانون الأول/ديسمبر 2017، كشفت وسائل الإعلام الكينية الصورة المناقضة للمدارس وأولياء الأمور والطلاب والنقابيين في مجال التعليم لما كانت عليه الحال في السنوات التي يعود تاريخها إلى عام 2015 وما قبله. حيث يعلوهم الحزن ويدعون إلى التحقيق في عملية وضع العلامات. ومن ناحية أخرى فقد أبقت وزارة التعليم على النتائج التي أعلنت بأنها تعكس الواقع.

التعليق:

يذكر أن الذين حصلوا على شهادة كينيا للتعليم الثانوي لعام 2017 هم الدفعة الرابعة من التعليم الابتدائي المجاني لعام 2003 الذي كان تتويجاً للانتخابات التاريخية لـ(مواي كيباكي) كرئيس ثالث لكينيا بعد فترة طويلة من رئاسة (موي) التي استمرت 24 عاما. وأعطى وعداً بحملة لقيت قبولاً جيداً عند الجماهير ولكن لم يتم تنفيذها من قبل واضعي السياسات، وقد تضمن ذلك فضائح مالية ضخمة في وزارة التعليم التي كانت تواجه الكثير من الضغوطات بطرد عدد كبير من التلاميذ ولم تشهد كينيا لذلك مثيلاً في تاريخها. إن كينيا تعاني من أزمة تعليمية خطيرة حيث شهدت الجامعات والكليات الأخرى تخرج الخريجين الذين ليس لديهم ما يكفي من فرص العمل، وهذه الفرص القليلة المتاحة يمكن الوصول إليها من خلال المحسوبية أو الرشوة وما إلى ذلك مما تسبب في العديد من الاضطرابات المجتمعية التي لم تُشهد من قبل مع الشباب مما أدى إلى وجود خيارات كثيرة من أجل تلبية النفقات بما في ذلك البغاء وتصوير أشرطة الفيديو الإباحية، والسرقة، ووجود مستويات عالية من التوتر واليأس لنمط الحياة المادي وما إلى ذلك على سبيل المثال لا الحصر. وفي حين إن أولئك الذين يشغلون مناصب في السلطة ينخرطون في نهب الموارد العامة لتحقيق المصالح الشخصية بدلاً من السعي لتلبية مطالب الناس.

وباعتبارها دولة علمانية رأسمالية فإن سياسة التعليم الكينية تهدف إلى إرساء أسس الاستعباد الجديد في المستقبل لأنها ترتكز على الاستعمار الغربي الذي ينظر إلى الرجال الفقراء على أنهم آلات عمل في شركاتهم بأجور ضئيلة. ومن ثم، فقد تم وضع نظام التعليم لإيهام الجماهير بأنهم يتعلمون لتحسين حياتهم؛ ولكن للأسف، كانوا يساقون ليكونوا كما يجب من أجل خدمة الرأسماليين الأغنياء، وبالتالي يكافأون على تفانيهم في الخدمة! من ناحية أخرى، يضمن الرأسمالي بأن بقاء الإنسان يعتمد على خدمته بشكل دائم.

إن الرأسماليين أرادوا أن تكون درجة التعليم والمؤهلات على الورق وذلك لم يكن الغرض منه هو المعرفة في حد ذاتها بهدف نقل وتحسين التفكير والنهج العلمي في التعامل مع القضايا المجتمعية، ولكن لأن ذلك أصبح أساساً وضرورة لزيادة فرص العمل! وبهذه الطريقة التأسيسية التي تفاقمت مع القيم الغربية من الليبرالية والحريات، رأينا جموعاً ممن يسمون بالعلماء الذين كانوا يعملون على الفور في مؤسسات الرأسمالية لتعزيز الأجندة الرأسمالية. وقد حدد مستوى التعليم وخاصة المستوى الجامعي نجاح شخص ما. وأدى هذا إلى القول الشهير "مطاردة الأوراق" كما أكدت من قبل المؤسسات المتآلفة التي تعرف باسم مراكز صناعة الورق بسبب ارتفاع الطلب من قبل مؤسسات التوظيف التي كانت مهتمة جدا بأوراق من "الخبرة" في معيار التوظيف. لذلك، أدخلوا نظام الدرجات في وضع علامات الامتحانات والناجح هو من يحصل على درجات أعلى باستخدام أي وسيلة متاحة له حتى لو كان ذلك يعني الغش في الامتحانات للتمكن من النجاح! فأصبح اجتياز الامتحانات مسألة حياة أو موت.

إن حل هذه الأزمة يكمن في المبدأ الإسلامي المطبق في ظل دولة الخلافة على منهاج النبوة. وبالتالي، فإن العقيدة الإسلامية تشكل الأساس الذي تقوم عليه سياسة التعليم. وقد تم تصميم المناهج وطرق التدريس لمنع الخروج عن هذا الأساس في حين إن الهدف من التعليم هو تشكيل الشخصية الإسلامية في الفكر والسلوك.

ويجب تدريس الثقافة الإسلامية على جميع مستويات التعليم. وفي التعليم العالي، ينبغي أن تخصص أقسام لمختلف التخصصات الإسلامية كما سيتم القيام به مع الطب والهندسة والفيزياء وما إلى ذلك. الفنون والحرف قد تكون ذات صلة بالعلم، مثل التجارة والملاحة والزراعة والفنون والحرف اليدوية. في مثل هذه الحالات، يتم دراستها دون قيود أو شروط. ولكن في بعض الأحيان، ترتبط الفنون والحرف بالثقافة عندما تتأثر بنظرة معينة للحياة، مثل التصوير أو النحت. وإذا كانت وجهة النظر للحياة هذه تتناقض مع وجهة النظر الإسلامية للحياة، فإن هذه الفنون والحرف لا تعتمد. مناهج الدولة واحدة ولا يسمح بتدريس أي مناهج أخرى غير منهاج الدولة، حيث يسمح بوجود المدارس الخاصة طالما اعتمدت مناهج الدولة وتطبق سياسة الدولة التعليمية وتحقق هدف التعليم الذي وضعته الدولة.

ومن واجب الدولة أن تدرس كل فرد ذكرا كان أم أنثى الأشياء الضرورية في الحياة. وينبغي أن يكون ذلك إلزاميا وأن يوفر مجانا في المرحلتين الابتدائية والثانوية من التعليم. وينبغي للدولة أن توفر، قدر استطاعتها، الفرصة للجميع كي يواصلوا التعليم العالي مجانا. وتوفر الدولة المكتبات والمختبرات وجميع وسائل المعرفة خارج المدارس والجامعات لتمكين الراغبين في مواصلة أبحاثهم في مختلف مجالات المعرفة مثل الفقه والحديث وتفسير القرآن، والفكر، والطب، والهندسة والكيمياء، والاختراعات، والاكتشافات، وما إلى ذلك، ويتم ذلك لإيجاد وفرة من المجتهدين في الأمة من العلماء البارزين والمخترعين.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

علي ناصورو علي

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في كينيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست