الضرائب المتزايدة والارتفاع في الأسعار يشكلان اضطهاد من النظام الرأسمالي!
الضرائب المتزايدة والارتفاع في الأسعار يشكلان اضطهاد من النظام الرأسمالي!

الخبر: وفقاً للمرسوم الرئاسي المنشور في الجريدة الرسمية، تم تحديد معدل ضريبة القيمة المضافة العامة، والذي كان 18 في المائة، بنسبة 20 في المائة، وتم تحديد معدل ضريبة القيمة المضافة على السلع والخدمات الخاضعة لـ8 في المائة بنسبة 10 في المائة. وتمت زيادة رسوم جوازات السفر وكاتب العدل والتأشيرات بنسبة 50 بالمائة.

0:00 0:00
Speed:
July 23, 2023

الضرائب المتزايدة والارتفاع في الأسعار يشكلان اضطهاد من النظام الرأسمالي!

الضرائب المتزايدة والارتفاع في الأسعار يشكلان اضطهاد من النظام الرأسمالي!

(مترجم)

الخبر:

وفقاً للمرسوم الرئاسي المنشور في الجريدة الرسمية، تم تحديد معدل ضريبة القيمة المضافة العامة، والذي كان 18 في المائة، بنسبة 20 في المائة، وتم تحديد معدل ضريبة القيمة المضافة على السلع والخدمات الخاضعة لـ8 في المائة بنسبة 10 في المائة. وتمت زيادة رسوم جوازات السفر وكاتب العدل والتأشيرات بنسبة 50 بالمائة.

التعليق:

مع نهاية الاقتصاد الانتخابي، تواصل الحكومة رفع الأسعار. فقد تمت زيادة أسعار كل شيء من الحساء إلى المكسرات. وتمت زيادة الرسوم بنسبة 50 في المائة، وزيادة معدلات ضريبة القيمة المضافة بنسبة 18 في المائة إلى 20 في المائة، ونسبة 8 في المائة إلى 10 في المائة، وزيادة ضريبة المعاملات المصرفية والتأمين بنسبة 10 في المائة في القروض الاستهلاكية إلى 15 في المائة، وزيادة رسوم أجهزة الاتصال المحمولة التي يتم إحضارها من الخارج من 6 آلاف ليرة إلى 20 ألف ليرة تركية.

عواقب وخيمة للسياسات الاقتصادية الخاطئة للحكومة - كما كانت دائما - فواتير للشعب. عادت كأمطار من الضرائب والارتفاعات على أكتاف الناس. وكانت الحكومة قد أعلنت عن زيادة رواتب ومعاشات موظفي الخدمة المدنية وفق أرقام تضخم غير واقعية. في حين إن هذه الزيادة للموظفين والمتقاعدين لم تحل مشاكلهم، بل إنها تبخرت حتى قبل أن تدخل جيوبهم. الناس الذين كانوا بائسين بالفعل، ويكافحون من أجل تلبية احتياجاتهم الأساسية وبالكاد يستطيعون، أصبحوا فقراء بنسبة عشرين بالمائة في ليلة واحدة مع هذه الزيادات الأخيرة. حتى الاحتياجات الأساسية للناس مثل المأوى والأكل والشرب أصبحت باهظة الثمن. الحكومة، كما كانت دائما، أخذت أكثر مما أعطت.

من ناحية أخرى، في موازنة 2023 التي أعلنتها الحكومة، استهدفت النفقات 4 تريليونات و470 مليار ليرة تركية والإيرادات 3 تريليونات و810 مليار ليرة تركية. وقُدِّر عجز ميزانية نهاية عام 2023 بنحو 660 ملياراً. ومع ذلك، تشير التقديرات حالياً إلى أن عجز الميزانية سيكون 1 تريليون و300 مليار ليرة تركية بحلول نهاية عام 2023. وفقاً للبيانات التي أعلنتها وزارة المالية والخزانة، ستدفع تركيا تقريباً الفائدة نفسها التي يدفعها رأس المال في عام 2023. ومن المقرر أن تدفع 564 مليار ليرة لأصل الدين و519 مليار ليرة للفوائد الربوية. وفقاً لذلك، من أصل 100 ليرة يتم دفعها، سيتم تحويل 52 ليرة إلى أصل الدين و48 ليرة للفائدة الربوية.

إلى جانب ذلك، فإن كل زيادة بنسبة 1 سنت في سعر صرف الدولار تزيد من عبء الديون الخارجية على الاقتصاد بنحو 4.8 مليار ليرة. أدت الزيادة البالغة 29.75 في المائة في سعر صرف الدولار منذ الانتخابات إلى زيادة ما يعادل ليرة تركية من إجمالي الدين الخارجي التركي بمقدار 2 تريليون و816 مليار ليرة. بالطبع، هذه تكلفة ضخمة وعبء على الميزانية. وبالمثل، فإن الحكومة تأخذ قروضاً بنسبة ربا عالية من البنوك وأصحاب رؤوس الأموال من أجل سد عجز الميزانية. تبلغ تكلفة خزينة حساب KKM (الإيداع المحمي بالفوركس) الذي أنشأته الحكومة للحد من ارتفاع العملة الأجنبية ما يقرب من 100 مليار ليرة تركية، مع الأخذ في الاعتبار انخفاض قيمة العملة بنسبة 30 في المائة منذ بداية شهر أيار/مايو.

من أجل تغطية هذه التكاليف وعجز الميزانية، ودفع الديون المحلية والأجنبية التي تحمل ربا، قامت الحكومة برفع أسعار السلع والخدمات بشكل كبير. لأن أكبر عناصر إيرادات النظام الرأسمالي هي الضرائب والارتفاعات. وفقاً لبيانات إدارة الإيرادات في تركيا، هناك ما يقرب من 450 بنداً من الضرائب في مختلف المجالات. يدفع الشخص الذي يعيش في تركيا حوالي اثنين وستين بالمائة من دخله للدولة على شكل ضرائب؛ تحت أسماء مثل ضريبة القيمة المضافة، وضريبة الاستهلاك الخاص، وضريبة الاتصالات الخاصة، والرسوم الجمركية، وضريبة الشركات، ورسوم طوابع الإيرادات، وضريبة العقارات، وضريبة الإعلانات، وضريبة التنظيف البيئي، فالدولة تصادر جزءاً كبيراً من دخل الناس تحت اسم الضريبة!

وبالمثل، فإن ضريبة القيمة المضافة على السلع والخدمات لها مكان في ميزانية الدولة. وفقاً لتقرير إنجاز ميزانية الحكومة المركزية الصادر عن وزارة الخزانة والمالية في كانون الأول/ديسمبر 2022، فإن حوالي ثلث إيرادات الميزانية تتكون من ضريبة القيمة المضافة. هذا هو أكبر عنصر في الميزانية. أهم مصدرين للإيرادات بعد ضريبة القيمة المضافة هما ضريبة الاستهلاك الخاصة وضريبة الدخل.

لذلك، فإن هذه الارتفاعات ليست سوى البداية وسيتبعها المزيد. الحكومة ستلقي العبء على الناس من أجل سد العجز في الميزانية. لطالما توقعت الحكومة مدخرات وتضحيات من الفقراء بقولها إنه لا يمكن تحقيق أي مدخرات على الكرامة. لطالما طُلب من الناس شد أحزمتهم، إن كانت هناك أي أحزمة متبقية لشدها! بالنسبة للحكومة، فإن بقاء النظام الرأسمالي الديمقراطي الذي يستغل الناس ويفقرهم يأتي أولاً. لقد دأبت الحكومة على الأخذ من الفقراء وإعطاء الأغنياء. كما أن السياسات النيوليبرالية غير الأخلاقية للنظام الرأسمالي التي تطبقها الحكومة هي التي حولت الناس إلى عبيد حديثين. ما لم تتم إزالة النظام الرأسمالي الذي ينتج هذه السياسات غير الإسلامية وغير الإنسانية وغير الأخلاقية تماماً من الحياة وتطبيق نظام الحياة الإسلامي، الذي يضمن كرامة الإنسان، فلن تتمكن المجتمعات أبداً من عيش حياة كريمة ومشرفة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

يلماز شيلك

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست