الدنمارك تبيع "حقوق الإنسان" وتعطي الضوء الأخضر لـ"غسيل التجارة" الهندي
الدنمارك تبيع "حقوق الإنسان" وتعطي الضوء الأخضر لـ"غسيل التجارة" الهندي

الخبر: في الفترة من 26 شباط/فبراير إلى 1 آذار/مارس 2023، قام ولي العهد الدنماركي بزيارة الهند مع وزير الخارجية لارس لوك راسموسن ووفد تجاري يضم 38 شركة. والتقوا مع المجرم مودي لزيادة التعاون بين الدنمارك والنظام الهندي.

0:00 0:00
Speed:
March 12, 2023

الدنمارك تبيع "حقوق الإنسان" وتعطي الضوء الأخضر لـ"غسيل التجارة" الهندي

الدنمارك تبيع "حقوق الإنسان" وتعطي الضوء الأخضر لـ"غسيل التجارة" الهندي

(مترجم)

الخبر:

في الفترة من 26 شباط/فبراير إلى 1 آذار/مارس 2023، قام ولي العهد الدنماركي بزيارة الهند مع وزير الخارجية لارس لوك راسموسن ووفد تجاري يضم 38 شركة. والتقوا مع المجرم مودي لزيادة التعاون بين الدنمارك والنظام الهندي.

التعليق:

27 شباط/فبراير 2002، قد لا يعني هذا التاريخ الكثير للكثيرين، لكن المسلمين في ولاية غوجرات لن ينسوه أبداً. في مثل هذا اليوم قبل 21 عاماً وقعت مجزرة في الولاية الهندية، وتعرض نحو 2000 من المسلمين رجالا ونساء وأطفالا للقتل والاغتصاب الجماعي والحرق أحياء.

رئيس وزراء الهند ناريندرا مودي، الذي كان آنذاك حاكم ولاية غوجرات، والمعروف أيضاً باسم جزار غوجرات، مسؤول بشكل أساسي ليس فقط عن غض الطرف بينما ارتكب حشد من الهندوس البغيضين هذه الجرائم ضد المسلمين، بل هو مسؤول أيضاً عن قيادة سياسة مباشرة معادية للمسلمين، هي من أسباب الكراهية المتزايدة للإسلام والاعتداءات على المسلمين في البلاد.

ولكن بالرغم من أن الدنمارك تدعي أنها تحترم حقوق الإنسان، فإن هذا لم يمنعها من إرسال وفد رفيع المستوى إلى الهند لتعزيز العلاقات الاقتصادية معها.

في الفترة من 26 شباط/فبراير إلى 1 آذار/مارس 2023، قام ولي العهد الدنماركي بزيارة الهند مع وزير الخارجية لارس لوك راسموسن ووفد تجاري ضم 38 شركة، التقوا مع المجرم مودي لزيادة التعاون معه. وهكذا اختارت الدنمارك ذكرى المجزرة في ولاية غوجرات لزيارة المسؤول الرئيسي عنها.

كل هذا، بينما تستمر الهند في محاربة الإسلام بأساليب تذكّر بمحاكم التفتيش الإسبانية، والاتحاد السوفييتي وكيان يهود الإرهابي، ويستمر الممثلون السياسيون في الدعوة إلى العنف ضد المسلمين، لدرجة أن أتباعها المتطرفين هاجموا المسلمين حتى في بريطانيا.

يُصنف مسلمو الهند بأنهم إرهابيون، بينما المتطرفون الحقيقيون في المنطقة هم قوميو هندوتفا. وتعمل هذه المجموعة مع الحكومة على تحريض الهندوس ضد المسلمين. ويشكل هؤلاء المتطرفون المناهضون للمسلمين العمود الفقري الأساسي لحزب بهاراتيا جاناتا الذي يتزعمه مودي.

على الرغم من أن يديه ملطختان بالدماء بشكل واضح، كما ثبتت إدانته سابقاً من خلال التحقيقات الدولية، إلا أن الدول الغربية لا تزال تشيد به على "نجاحه" الاقتصادي في البلاد وتوسع تعاونها مع الهند. إن ما يسمى بمبادئ حقوق الإنسان في الغرب تتبخر مثل الندى قبل شروق شمس الصباح عندما تكون المصالح الاقتصادية على المحك.

سارع الإعلام والسياسيون الغربيون إلى اتهام قطر بـ"الغسيل الرياضي" فيما يتعلق بكأس العالم لكرة القدم. لكن النخب الغربية ليست لديها مشكلة مع "غسل التجارة" ماضي الهند من القتل الجماعي ومعاملتها الوحشية للمسلمين اليوم؛ لأن الحقيقة هي أن الحياة البشرية لا تهم الدول والشركات الرأسمالية عندما يتعلق الأمر بالربح.

البراغماتية في السياسة، وخاصة من أجل المصلحة الذاتية، ستؤدي حتما إلى ازدواجية المعايير والنفاق. والأمثلة على ذلك في السياسة الدنماركية لا تنتهي.

للأسف، ليس الغرب وحده هو الذي يغض الطرف عن ماضي الهند الدموي وحاضرها.

من خلال إمداد الهند بالموارد من البلاد الإسلامية مثل النفط والغاز والفحم وكذلك الاتفاقيات التجارية معها، يدعم حكام المسلمين الهند، لأن هذه الدول رأسمالية مثل الغرب. لذلك، فهم متواطئون أيضاً في السماح لمودي بمواصلة الفظائع ضد المسلمين.

إن التطورات المستمرة للفاشية الهندوسية في الهند، ووصول الفساد في باكستان إلى آفاق جديدة، والحكم الإجرامي في بنغلادش، تُظهر بوضوح كيف أن المنطقة التي حصلت على استقلالها الزائف في عام 1947 لا تزال تغرق في بؤس أعمق من أي وقت مضى.

تؤكد باكستان أنها تعتبر الانتهاكات ضد المسلمين في الهند شأناً داخلياً لن تتورط فيه، بينما الدولة الهندوسية منحت سلطات واسعة للشرطة، التي تقتل وتعذب وتسجن المسلمين بشكل يومي.

لكن باكستان ليس لديها مشكلة في إثارة نزاع قومي مع جارتها البلد الإسلامي أفغانستان. حتى إن النظام الباكستاني سيشن حرباً على شعبه، بأمر من أمريكا، لكنه يفضل التطبيع وزيادة التجارة مع الحكم الهندوسي الإجرامي، بدلاً من دعم مسلمي الهند وتحرير كشمير المحتلة.

إن حل الإسلام لهذه الحالة هو أن يعمل المسلمون على إقامة الدولة الإسلامية، الخلافة، التي ستزيل الحكام الفاسدين، وتعلن الجهاد لتحرير البلاد المحتلة وتنقذ المظلومين، كما فعلت هذه الأمة في شبه القارة الهندية في الماضي.

والمسلمون في المنطقة معروفون باستعدادهم للتضحية وحبهم الكبير للإسلام وشريعته وخلافته. وستكون شبه القارة الهندية، بعون الله، من جديد تحت حكم الإسلام الراشد.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

حسين كوركماز

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست