الدولة المدنية دولة مجرمة
الدولة المدنية دولة مجرمة

الخبر: نشطت مؤسسات المجتمع المدني في الأردن بالترويج للدولة المدنية تنفيذا للورقة النقاشية السادسة للملك عبد الله الثاني، وفي معرض دعايتهم يهاجمون الإسلام باعتباره دولة دينية تقصي الآخر ويستشهدون بالقتال بين علي ومعاوية وقتل آل البيت وثورة العباسيين وغير ذلك، ومنهم من يستشهد بآية لا إكراه في الدين في عدم تطبيق الإسلام في الدولة.

0:00 0:00
Speed:
December 17, 2016

الدولة المدنية دولة مجرمة

الدولة المدنية دولة مجرمة

الخبر:

نشطت مؤسسات المجتمع المدني في الأردن بالترويج للدولة المدنية تنفيذا للورقة النقاشية السادسة للملك عبد الله الثاني، وفي معرض دعايتهم يهاجمون الإسلام باعتباره دولة دينية تقصي الآخر ويستشهدون بالقتال بين علي ومعاوية وقتل آل البيت وثورة العباسيين وغير ذلك، ومنهم من يستشهد بآية لا إكراه في الدين في عدم تطبيق الإسلام في الدولة.

التعليق:

إن الناظر إلى الدولة المدنية يرى أنها نشأت بعد ثورة على ظلم الكنيسة وملوك أوروبا وأمرائها وإقطاعييها ذهب ضحيتها مئات الآلاف من الناس وخضع الناس على مدى قرنين لتجارب مريرة حتى وصلت الدولة المدنية إلى ما هي عليه الآن. وعندما ننظر إلى الدول المدنية في أوروبا وأمريكا وروسيا وغيرها من الدول نجدها دولاً حققت التقدم الصناعي والعلمي ولكنها ظلمت الإنسان في بلادها وفي بلاد الآخرين؛ ففي بلادها تنحصر معظم الثروة في يد قلة في المجتمع تتحكم في كل شيء، وما التأمينات والعدالة الاجتماعية إلا ترقيعات للنظام الرأسمالي حتى لا يستجيب الناس للاشتراكية فلما زالت الاشتراكية انخفضت التأمينات الاجتماعية وانخفض الإنفاق على التعليم والصحة، ولهذا ثار الناس على مؤتمرات الدول الصناعية التي كانت تعقد عندهم وهاجموها حتى صارت تعقد في البحر الميت.

أما التمييز ضد المرأة فقد صارعت المرأة على مدى قرنين لتعطى أجرا مساويا لأجر الرجل ولا تزال تتعرض للضرب والاغتصاب على يد القريب والبعيد حتى الآن. أما القيم فلا قيمة أهم من القيمة المادية، فالقيم الروحية في الحضيض مما يجعل نسبة الانتحار مرتفعة عندهم في أحسن الدول رعاية لشؤون شعبها كالسويد مثلا، وأما الإنسانية والأخلاقية فهي قيم فردية ذاتية تعود للأفراد إن شاؤوا فعلوها وإن شاؤوا تركوها، وهي أيضا في حدودها الدنيا، وترقيعات النظام القاصر عن تغطيتها ومعالجتها.

وأما ما وجد من بعض الأخلاق فهي أخلاق نفعية يحتاجها الناس هناك للتعامل بها لأنها تحقق لهم محافظة على الأمن والاقتصاد ولكنهم ما إن يخرجوا من بلادهم إلى استعمار البلاد الأخرى حتى يخلعوا الأخلاق والإنسانية ويتحولوا إلى وحوش مفترسة وطيور جارحة تقتل وتدمر ولا تقيم للحياة وزنا، ولم تظهر الحروب العالمية إلا في زمانهم، وهي حالة بشرية شاذة قتل فيها الملايين ولا يزالون يوقدون الحروب الإقليمية في العالم حتى هذه اللحظة. ويكفي أن نعلم أن أمريكا الدولة المدنية الديمقراطية قامت على أشلاء الهنود الحمر الذين قتلت منهم ٧ ملايين واختطفت ملايين الأفارقة من أسرهم وبلادهم ليعملوا عبيدا في أراضيها وأذاقتهم ألوان التعذيب والقتل. ولا زالت التفرقة العنصرية بين السود والبيض تنهش في المجتمع في أمريكا. وهذه الدول المدنية الأوروبية استعمرت العالم الإسلامي بعد أن مزقته إلى ٥٨ مزقة ونهبت خيراته وتركت شعوبه ينهشها المرض والفقر ووضعت عليهم نواطير وحراساً على شكل دول دكتاتورية ظالمة تحكم شعوبها بالحديد والنار بناء على دساتير وقوانين ومؤسسات صنعتها لهم وألزمتهم العمل بها، وكلما تحرك الناس للاعتراض عليها استبدلت قانونا هنا ومادة دستورية هناك تخديرا وإلهاء للشعوب وأعادتهم إلى بيت الطاعة، ولما وجدت أنهم يريدون الإسلام استبدلت المدنية بالعلمانية ثم صارت تدعي أن كثيرا من القوانين مأخوذة من الإسلام، حتى هذه الكذبة سرعان ما تنكشف لدى أول حوار مع دعاة الدولة المدنية. الدولة المدنية حكمت الشعوب الإسلامية ١٠٠ عام فما زادتها إلا تخلفا وما زادتها إلا فقرا وضعفا، وعندما تواجههم بذلك يقولون تلك دول دكتاتورية كانت تحكمها القوانين العرفية والأمنية ونحن نريد دولة قانون ومؤسسات... ولكن السؤال: من الذي صنع الدول الدكتاتورية والعرفية والأمنية والعسكرية التي أذاقت شعوبها الويلات؟ أليست الدول الأوروبية وأمريكا وروسيا تلك الدول التي تصنف نفسها بأنها دول مدنية ديمقراطية دول المؤسسات والقانون؟ أليست هذه الدول هي التي تدعم بشارا في قتله لشعبه وتدميره لبلده؟ أليست الأمم المتحدة التي صنعتها الدول المدنية هي التي تستخدمها دول الاستعمار في إضفاء الشرعية على جرائمها في العالم؟ أليست أمريكا هي التي تقود التحالف الدولي في محاربة الإسلام والمسلمين في أفغانستان والعراق وسوريا واليمن وليبيا وتريد تقسيم العراق إلى ثلاث دول، وقسمت السودان إلى دولتين وتسعى للقسم الثالث؟ أليست الدولة المدنية في الأردن هي التي شيطنت الثورة في سوريا والعراق؟...

عن أي دولة مدنية تتحدثون؟!

عن الدولة التي باعت مقدراتها بثمن بخس إلى الشركات الأجنبية التي أفقدت الدولة قدرتها على رعاية شؤون شعبها فزادت البطالة وزاد الفقر إلى مستويات غير مسبوقة وصارت تعتمد في وجودها على القروض الربوية المحرمة التي تأخذها من الصندوق والبنك الدوليين؟!

عن أي دولة مدنية تتحدثون؟!

عن الدولة التي صارت تتاجر بأبناء شعبها تبعثهم جنودا مرتزقة يقاتلون أبناء دينهم وأمتهم في سوريا واليمن ليقبض رأس النظام الآلاف على كل رأس؟! عن الدولة التي صنعت فقر شعبها صناعة عندما أخفت ثروات الأردن ولم تعترف بها ومنعت استخراجها وأعطت بعضها ليهود في اتفاقية وادي عربة باعتبارها دولة شقيقة وحرمت شعبها باعتباره عدواً لدوداً؟!

عن أي دولة مدنية تتحدثون؟!

عن الدولة التي تفرض العلمانية على طلابها من خلال المناهج المدرسية وتفرض العلمانية على شعبها من خلال وسائل الإعلام والدستور والقوانين المحلية والمعاهدات والاتفاقيات الدولية وتنتقي من الإسلام ما يخدم سياستها ومن بعض أتباعها الملتحين سدنة للدين الجديد الذي اخترعته وسمته رسالة عمان؟!

عجبا لكم يا عبيد الصنم القديم الجديد!! ألا زلتم تعبدون صنما تبين لكم ضرره وتريدون أن نعبده مثلكم رغم رؤيتنا الواضحة لعيوبه؟! ألا تعسا لكم ولصنمكم؛ كفرنا به وبكم وبدا بيننا وبينكم العداوة والبغضاء إلى أن تقلعوا عن ذلك.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

نجاح السباتين – ولاية الأردن

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست