الديمقراطية في الغرب باتت مكشوفة بشكل يائس
الديمقراطية في الغرب باتت مكشوفة بشكل يائس

لم تظهر القصة التي تكشفت خلال الأسبوعين الماضيين عن أي بادرة على الانتهاء قريبا، حيث فتحت اللجنة الانتخابية الفيدرالية الأمريكية واللجنة الانتخابية البريطانية تحقيقات في الانتهاكات المزعومة للقانون الانتخابي مؤخرا. وفي مركز القصة هناك أنشطة شركة الخدمات الرقمية البريطانية كامبردج أناليتيكا، إلى جانب شبكة تتكشف من الشركات المرتبطة، الذين اتهموا باستخدام تقنيات التنميط النفسي للاتصال والتأثير على الناخبين في الانتخابات الرئاسية الأمريكية واستفتاء الاتحاد الأوروبي البريطاني في الآونة الأخيرة.

0:00 0:00
Speed:
March 29, 2018

الديمقراطية في الغرب باتت مكشوفة بشكل يائس

الديمقراطية في الغرب باتت مكشوفة بشكل يائس

(مترجم)

الخبر:

لم تظهر القصة التي تكشفت خلال الأسبوعين الماضيين عن أي بادرة على الانتهاء قريبا، حيث فتحت اللجنة الانتخابية الفيدرالية الأمريكية واللجنة الانتخابية البريطانية تحقيقات في الانتهاكات المزعومة للقانون الانتخابي مؤخرا. وفي مركز القصة هناك أنشطة شركة الخدمات الرقمية البريطانية كامبردج أناليتيكا، إلى جانب شبكة تتكشف من الشركات المرتبطة، الذين اتهموا باستخدام تقنيات التنميط النفسي للاتصال والتأثير على الناخبين في الانتخابات الرئاسية الأمريكية واستفتاء الاتحاد الأوروبي البريطاني في الآونة الأخيرة.

وتركز المناقشة في وسائل الإعلام على قوانين تمويل الحملات المعقدة في أمريكا وبريطانيا، وكيفية حصول الشركات على البيانات المتعلقة بالناخبين دون إذن منهم. وكشفت الفضيحة أيضا أن الشركة تفاخرت بتصنيع أخبار وهمية ومزيفة للتأثير على الانتخابات في جميع أنحاء العالم.

التعليق:

مع ذلك، فإن القصة الأكثر أهمية ليست التفاصيل المثيرة لهذه الرواية الأخيرة عن التزوير الانتخابي، حتى وإن كانت تأتي مباشرة في أعقاب ادعاءات التدخل الروسي في الانتخابات البريطانية والأمريكية. بل الأهم من ذلك هو التساؤل عن سبب ضرورة وجود مثل هذا التمويل المعقد وقوانين التدخل الخارجي لحماية الانتخابات؟

من المعروف جيدا أن الانتخابات الأمريكية تخاض على أساس تمويل هائل للحملات الانتخابية، مما يزداد باطراد عاما بعد عام. وتتبرع الشركات الكبرى لمرشحها المفضل، بشكل مباشر وغير مباشر، على أمل السياسات المواتية، وكانت النتيجة الصافية هي أنه كلما زادت الأموال التي تنفقها، زادت قدرتك على التأثير في الانتخابات، وينطبق الشيء نفسه على بريطانيا، على الرغم من أن المبالغ المعنية أقل.

والخيال الديمقراطي هو أن جميع الأصوات متساوية - والشعار هو "صوت واحد للرجل". والحقيقة هي أن أحد الأغنياء يمكنه بالفعل أن يشتري الكثير من الأصوات، مما يعني أن قوته التصويتية غير متساوية بشكل كلي مع البقية، وهذا يختلف كثيرا عن الدور الذي تلعبه الديمقراطية في المخيلة الشعبية، التي تغذيها هوليوود، والتي تعتبر مثالا عظيما للعدل والمساءلة، تستحق الموت من أجل الدفاع عنها.

من الأهمية بمكان أن يكون حلم المساءلة في صناديق الاقتراع هو أن معظم الرعايا قاموا بالاستعانة بمصادر خارجية لجميع المشاركة السياسية للسياسيين المحترفين، معتقدين أنهم يستطيعون مساءلتها مرة واحدة كل أربع سنوات. ومما زاد الطين بلة، أن المنظمات الإعلامية الضخمة قد سيطرت لفترة طويلة على ما يقال علنا عن السياسات والسياسيين، لذا فإن الخطاب السياسي للشعب قد تمت الاستعانة به من مصادر خارجية. ومن ناحية أخرى، فإن الحقيقة الصارخة هي أنه حتى في تلك المناسبات النادرة، لا تترك النخبة القوية أي شيء للصدفة، لذا فإن الناس العاديين ليس لديهم أي قدرة على حساب الطبقة السياسية. وقد أفادت القواعد الانتخابية نفسها وهذه المحاولات الرامية للتأثير على الانتخابات من خلال حملة يقودها التنميط النفسي، وكلها تكشف عن كيفية التلاعب بالانتخابات البسيطة بسخافة، بالنظر إلى الموارد المناسبة.

ويتم كتابة قواعد تمويل الحملات الانتخابية المعقدة لموازنة الصلاحيات بين الرأسماليين الأثرياء، لمنع أي واحد منهم من الدوس على مصالح الآخرين. وعادة لا يؤخذ الناس ومصالحهم بعين الاعتبار في هذه المعادلة. والأخبار الحالية عن كامبريدج أناليتيكا، وما يترتب على ذلك من اكتشاف ممارسات سياسية مشبوهة، تدور حول مؤيدي الرئيس الأمريكي ترامب، والموالين لخروج بريطانيا من الاتحاد الأوروبي، الذين يحاولون سرقة بعض نفوذ التكتلات الإعلامية التقليدية، والمؤسسة التي تدفعهم إلى الخلف.

لطالما كانت الديمقراطية من الناحية النظرية تدور حول هيمنة القوي على الضعيف، وإرادة الجماهير التي تتفوق على ذلك إذا كانت نخبة قليلة، ومن الناحية العملية، ستكون دائمًا إرادة القلة القوية هي التي تسيطر على جموع الجماهير الضعيفة، إن الديمقراطية تقلل من المساءلة للطبقة السياسية، بل إنها تتسبب في خلق طبقة سياسية، وذلك بسبب عدم رضا الناس إلا بالقليل جداً من حيث المشاركة والمساءلة.

وغالباً ما يود الليبراليون العلمانيون الغربيون توجيه أصابع الاتهام إلى الإسلام، قائلين إن النساء مستبعدات من المشاركة السياسية. والحقيقة هي أن جميع الناس، رجالا ونساء، مستثنون من المشاركة السياسية الحقيقية الهادفة في الديمقراطية، بينما يتطلب الإسلام مشاركة حقيقية في السياسة لكل رجل وامرأة. حيث جعل الإسلام الفكر السياسي والوعي واجبًا فرديًا على جميع المسلمين، ومحاسبة الحكام عن طريق الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر، وهو واجب جماعي إلزامي على جميع المسلمين.

طالما أن هناك ديمقراطيات، فسوف تستمر في العثور على جماهير من الناس مستعبدين لإرادة القلة القوية، طالما أنهم يعتقدون أن الأكاذيب الشعبية للحرية والمساءلة هناك، فقط الأنظمة الإسلامية وحدها التي تطبقها الخلافة على منهاج النبوة يمكن أن تحرر الناس من هذا الاستعباد، مما يتيح لهم فرصًا حقيقية لمحاسبة الحكام والمشاركة في رعاية شؤون الناس وفقًا للقرآن وسنة الرسول محمد صلى الله عليه وسلم.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

يحيى نسبت

الممثل الإعلامي لحزب التحرير في بريطانيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست