الديمقراطية حولت بلادنا إلى معتقلات كبرى (مصر نموذجا)
الديمقراطية حولت بلادنا إلى معتقلات كبرى (مصر نموذجا)

قالت "هيومن رايتس ووتش" الأحد 2018/7/15م، إن السلطات المصرية تكثف استخدامها لقوانين مكافحة الإرهاب وقانون ومحاكم الطوارئ لمقاضاة الصحفيين والنشطاء والنقاد بصورة غير عادلة بسبب انتقاداتهم السلمية، ووثقت هيومن رايتس ووتش احتجاز العشرات من الناشطين والصحفيين الذين أُحيلوا إلى المحاكمة بتهم تتعلق بـ(الإرهاب) منذ 2015 عندما صدر قانون مكافحة (الإرهاب) الجديد.

0:00 0:00
Speed:
July 19, 2018

الديمقراطية حولت بلادنا إلى معتقلات كبرى (مصر نموذجا)

الديمقراطية حولت بلادنا إلى معتقلات كبرى (مصر نموذجا)

الخبر:

قالت "هيومن رايتس ووتش" الأحد 2018/7/15م، إن السلطات المصرية تكثف استخدامها لقوانين مكافحة الإرهاب وقانون ومحاكم الطوارئ لمقاضاة الصحفيين والنشطاء والنقاد بصورة غير عادلة بسبب انتقاداتهم السلمية، ووثقت هيومن رايتس ووتش احتجاز العشرات من الناشطين والصحفيين الذين أُحيلوا إلى المحاكمة بتهم تتعلق بـ(الإرهاب) منذ 2015 عندما صدر قانون مكافحة (الإرهاب) الجديد.

التعليق:

استطاعت ثورة يناير 2011 أن تكسر حاجز الخوف المزمن لدى أهل مصر ومنحتهم مساحة واسعة من الحرية التي فقدوها على مدار عقود طويلة كانت فيها مصر دولة تابعة تنتقل من تبعية لأخرى ولا تخرج من إطار التبعية فمن فرنسا إلى بريطانيا وأخيرا إلى أمريكا حتى جاءت الثورة التي هددت نفوذ أمريكا وحاولت الفكاك والانعتاق من هذه التبعية المقيتة، إلا أن العملاء والمضبوعين والسذج الغافلين كان لهم رأي آخر فحولوا ما اكتسبته الثورة إلى وسيلة لسرقتها والالتفاف على مطالبها وإعادة إنتاج النظام بصورة أبشع وأشد قسوة حتى يترحم الناس على أيام المخلوع مبارك وهذا ما حدث الآن بعد سنوات من الثورة والانقلاب عليها.

عشرات الآلاف من المعتقلين داخل السجون المصرية، في عهد السلطة الحالية ومنذ عزل الرئيس المنتخب حسب الديمقراطية الغربية، فلا توجد إحصائيات رسمية صحيحة تؤكد رقما معينا للمعتقلين والمختطفين والمختفين قسريا والذين لا يعلم أحد عنهم شيئا في ظل نظام يستند إلى الغرب الذي يدعي حماية الحريات والحفاظ عليها.

هذا هو حال كل مخالفي النظام الحالي الذي يدعي كما سابقيه أنه نظام ديمقراطي وأتى إلى السلطة عبر صناديق الاقتراع بغض النظر عن ملابساتها إلا أنها ديمقراطية فعلا، مما يثبت على الحقيقة أن المشكلة ليست في إساءة تطبيق الديمقراطية فقد سبق وأشادوا بالتجربة أيام مرسي، ثم انقلبوا عليه لغلق مساحة الحرية التي قد تمكن الإسلام من الصعود ولتكميم تلك الأفواه التي طالبت بالإسلام وتحكيمه من خلال خلافة على منهاج النبوة، فالمشكلة في الديمقراطية نفسها لكونها نظاما من نتاج عقل بشري خولت للحاكم المتسلط أن يسن من القوانين ما يحمي به نظامه ويقنن ظلمه وبطشه بالرعية ويكمم به أفواه مخالفيه ومعارضيه ومنافسيه حتى من يحملون نفس أفكاره ويسيرون في نفس درب عمالته ويسعون لاستمرار النظام بشكله مع احتمال تغيير أدواته ومنفذيه.

يا أهل مصر الكنانة إن الحرية التي حصلتموها بثورة يناير لم تكن لتسلب منكم لولا مسايرتكم للغرب في لعبة الديمقراطية واستفتاءاتها على الدستور وانتخاباتها التشريعية والرئاسية التي مكنت الغرب من تثبيت أركان نظامه مرة أخرى واستعادة المبادرة بأقل خسائر حتى فوجئ الناس بنظام أبشع من نظام مبارك يعمل على إعادة حاجز الخوف بشكل أقوى وأشد قسوة وينفذ ما يمليه الغرب من قرارات سياسية واقتصادية بشكل سريع ولو على جثث أهل مصر ومن قوت أبنائهم، وما يحدث من أزمات وفقر وغلاء ليس منكم ببعيد.

يا أهل مصر الكنانة إن الديمقراطية التي جربتموها ليست خياركم ولن تصلح حالكم، وخياركم الذي يعلمه الغرب وإن لم تدركوه أنتم هو الإسلام بنظامه الضامن لحريتكم وكرامتكم ورغد عيشكم في دولة خلافة راشدة على منهاج النبوة يسعى النظام ببطشه وجبروته لمنعكم من مجرد التفكير في إعادتها ويسعى لتشويه صورتها في أعينكم بما يدعيه عليها وهو ليس فيها، فدولة الخلافة هي دولة بشرية على منهاج النبوة ليس لها شكل موجود الآن وشكلها الوحيد هو في دولة الخلفاء الراشدين ومن تلاهم حتى آخر خلفاء بني عثمان كلهم حكموا بالإسلام وعدلوا رغم بعض الانحراف إلا أن همهم الأكبر كان حفظ الأمة ورعايتها وحماية حقوقها من نهب الغرب الكافر الذي ما تمكن من نهب هذه الثروات إلا بعد إزالتها من الوجود فصارت الأمة بدونها كالأيتام على موائد اللئام وقطعت أوصالها حتى صارت ما يزيد على خمسين كياناً بعضها لا يغطي عورة نملة أسموها دولا ورسموا لها الحدود ووضعوا لها خرقا مهلهلة أسموها أعلاما وجعلوا منها مناطق نفوذ للدول الكبرى يحكمها نواطير للغرب موظفون في البيت الأبيض وقصر باكنجهام بدرجة ملوك ورؤساء دول وهم في حقيقتهم نواطير أجراء لدى الغرب الكافر خونة لدينهم وأمتهم.

يا أهل مصر الكنانة هذا هو واقع الأمة في ظل الديمقراطية الغربية ومصر جزء منها ليست سوى منطقة نفوذ تابعة يحكمها موظف في البيت الأبيض بدرجة رئيس دولة ولا لكم خلاص إلا باقتلاعه وكل من على شاكلته من العملاء الخونة وإنهاء التبعية لأمريكا والغرب كله بكل أشكالها وصورها واحتضان إخوانكم في حزب التحرير وتبني ونصرة ما يحملونه لكم وفيكم فيطبق عليكم الإسلام الذي ترجون في دولته العظيمة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة نسأل الله أن يعجل بإقامتها وأن تكون مصر مكانها وناصرتها اللهم اجعله قريبا واجعلنا من جنودها وشهودها.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد الله عبد الرحمن

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست