الديمقراطية لا توفر شيئا سوى سياسة "يو يو" في حين إن معاناة الشعب لا تزال مستمرة (مترجم)
الديمقراطية لا توفر شيئا سوى سياسة "يو يو" في حين إن معاناة الشعب لا تزال مستمرة (مترجم)

الخبر:   احتشد يوم الأربعاء الخامس من أيلول/سبتمبر، عشرات الآلاف من المتظاهرين المعارضين في سريلانكا، بقيادة الرئيس السابق ماهيندا راجاباكسا في العاصمة، للمطالبة بتنحي الحكومة الحالية، متهما إياها بالفساد، وبيع الأصول الوطنية للدول الأجنبية والتسبُّب بصعوبات اقتصادية للشعب، وذلك من خلال فرض ضرائب متزايدة. وقد حققت حكومة الرئيس سيريمينا انتصارا على حزب الحرية السريلانكي في الانتخابات عام 2015 في البلاد وكان ينظر إليها في ذلك الوقت على أنها فرصة لبداية جديدة في البلاد والطريق لتوفير الحكم الرشيد والنمو الاقتصادي، غير أن المحتجين يزعمون أنها أخفقت في الوفاء بوعودها. ...

0:00 0:00
Speed:
September 11, 2018

الديمقراطية لا توفر شيئا سوى سياسة "يو يو" في حين إن معاناة الشعب لا تزال مستمرة (مترجم)

الديمقراطية لا توفر شيئا سوى سياسة "يو يو"

في حين إن معاناة الشعب لا تزال مستمرة

(مترجم)

الخبر:

احتشد يوم الأربعاء الخامس من أيلول/سبتمبر، عشرات الآلاف من المتظاهرين المعارضين في سريلانكا، بقيادة الرئيس السابق ماهيندا راجاباكسا في العاصمة، للمطالبة بتنحي الحكومة الحالية، متهما إياها بالفساد، وبيع الأصول الوطنية للدول الأجنبية والتسبُّب بصعوبات اقتصادية للشعب، وذلك من خلال فرض ضرائب متزايدة. وقد حققت حكومة الرئيس سيريمينا انتصارا على حزب الحرية السريلانكي في الانتخابات عام 2015 في البلاد وكان ينظر إليها في ذلك الوقت على أنها فرصة لبداية جديدة في البلاد والطريق لتوفير الحكم الرشيد والنمو الاقتصادي، غير أن المحتجين يزعمون أنها أخفقت في الوفاء بوعودها. ويعزى سقوط راجاباكسا من السلطة جزئيا إلى اتهامات بالفساد ضد عائلته وأعضاء الحزب، بما في ذلك غسيل الأموال واختلاس ممتلكات الدولة، فضلا عن انتهاكات مختلفة لحقوق الإنسان والتحريض على الانقسام الطائفي، وتمكنت حكومته أيضا من إشعال الديون الخارجية الضخمة خلال السنوات التسع التي كان فيها في الحكم، وذلك بسبب القروض الأجنبية التي بلغت قيمتها أكثر من 14 مليار دولار أمريكي، وعلى الرغم من كل هذا، تمكن من الفوز بانتصار ساحق في الانتخابات المحلية في وقت سابق من هذا العام.

التعليق:

إن المشهد السياسي في سريلانكا، الذي ينطوي على توطيد العلاقات بين أحزابها وقادتها السياسيين، في حين إن المحن الاقتصادية والإنسانية للشعب والحالة السيئة للخدمات العامة لا تزال دون تغيير حتى إنها تزداد سوءا، صدى لواقع الدول الديمقراطية في جميع أنحاء العالم. وهو انعكاس لسياسة "الباب الدوار" أو "الأرجوحة" في النظام الديمقراطي حيث يتم التصويت لحزب واحد أو حاكم في السلطة مقابل التعهدات بتحسين حياة شعبه، إلا أنه يتم التصويت لإقالته أو الإطاحة به بعد بضع سنوات بسبب الفشل الذريع ولعدم الإيفاء بالوعود أو بسبب الاتهامات بالفساد. إنها دوامة متكررة لا تقدم شيئا سوى خيبة آمال وقتل أحلام الشعب، وذلك لأنه وبغض النظر عن الحزب السياسي الذي يكسب القاعدة في ظل النظام الديمقراطي، فإنه لا يوجد نموذج سليم بديل لكيفية حل المشاكل السياسية والاقتصادية والاجتماعية في البلد. بل إن هناك ببساطة إعادة تجزئة وإعادة تدوير للقوانين والسياسات الاقتصادية الرأسمالية والاشتراكية الفاسدة التي فشلت في كافة دول العالم شرقا وغربا، ويشمل ذلك توليد الفقر الجماعي والبطالة، والتفاوت الفادح في الثروة والظلم الطبقي في ظل هذا النظام الفاشل الذي وضعه الإنسان. ببساطة انتخاب رئيس جديد (أو بالأحرى إعادة التدوير) للقادة هو مثل إعادة ترتيب الكراسي على متن التايتنيك في حين إن السفينة تغرق، إن النظام السياسي الذي لا يقدم سوى سياسة دي جا فيو من الوعود المكسورة، والفشل في التقديم وطريقة المحاكمة والخطأ في إدارة شؤون الناس لا يمكن أبدا خلق مستقبل أفضل لأي أمة. والواقع أن الديمقراطية هي مجرد لعبة تقوم فيها بتحطيم آمال الشعوب من خلال القوى المتنافسة على الثروة والسلطة، وتطلعاتها المستغَلة، والانقسام بين المجتمعات المحلية وقطاعات المجتمع من أجل الفوز بالانتخابات، بينما تستمر المعاناة والضائقة المالية للناس العاديين.

نحن كأمة إسلامية، عندما نشهد الخدع السياسية للدول الديمقراطية في كل أنحاء العالم بسبب القوانين والأنظمة الوضعية من عقول البشر الضعيفة، المتحيزة، الذاتية والمحدودة، ينبغي أن ندرك بالتأكيد أن هذا النظام لن يحل المشاكل السياسية والاقتصادية والاجتماعية التي تصيب بلادنا الإسلامية اليوم - بغض النظر عما يكسبه الحزب السياسي من قوة. يقول الله سبحانه وتعالى: ﴿وَلَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ أَهْوَاءهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ بَلْ أَتَيْنَاهُم بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَن ذِكْرِهِم مُّعْرِضُونَ﴾.

وبدلا من ذلك، فإنه لا يعود إلا إلى نظام المعرفة الكاملة، والإدراك الواسع، والحكمة، لله سبحانه وتعالى - الخلافة على منهاج النبوة - وحدها التي ستحقق المستقبل الأكثر إشراقا الذي ننشده لجميع أركان العالم الإسلامي. وهذا نظام له إرث ثابت في إقامة الدولة التي كان فيها الرخاء الاقتصادي والذي لم يُثْرِ القلة فحسب، بل انتفع منه الجميع كموارد للأرض، وحيث تم توزيع الثروة بصورة عادلة تضمن أن الاحتياجات الأساسية للجميع تم الوفاء بها وتمكين الشعب لتحسين مستوى معيشتهم الاقتصادي. في الحقيقة، في ظل حكم الخليفة عمر بن عبد العزيز، في القرن الثامن الميلادي، كان هناك الكثير من الأموال في بيت المال، حتى بعد أن استخدم عامله في العراق أموال الدولة لدفع المبالغ المستحقة على الناس، وسداد ديونهم، وتقديم الأموال لأولئك الذين يحتاجون إليها للزواج، كان لا يزال هناك فائض ضخم متبق من الأموال، لذا أمر الخليفة عامله أن يبحث عن كل من يدين بالخراج ويقرضه كل ما يلزم لمساعدته على زراعة أرضه. والواقع، أنه فعل أكثر من ذلك، فطلب أن يتم استخدام أموال الدولة لشراء البذور وأن تنثر على قمم الجبال للطيور، حتى لا يقال جاع طير في بلاد المسلمين!

ويعزى كل ذلك إلى المبادئ والقوانين والسياسات السياسية والاقتصادية السليمة للحكم الإسلامي - مثل تحريم الربا وكنز المال واحتكاره وخصخصة الموارد العامة، وجمع وتوزيع الزكاة. والحقيقة أن الله وحده هو القادر على تحديد أفضل نموذج لحكم الإنسانية لضمان العدالة، وخلق الرخاء والتخلص من الضائقة المالية.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

الدكتورة نسرين نواز

مديرة القسم النسائي في المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست